Sahih Bukhari Hadees # 16

  •   0
  •   Naveed Khan
  •   0
  •   358
یہ کہ وہ کفر میں واپس لوٹنے کو ایسا برا جانے جیسا کہ آگ میں ڈالے جانے کو برا جانتا ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ""ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ، ‏‏‏‏‏‏أَنْ يَكُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْ يُحِبَّ الْمَرْءَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْ يَكْرَهَ أَنْ يَعُودَ فِي الْكُفْرِ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ"".

انس بن مالک سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین خصلتیں ایسی ہیں کہ جس میں یہ پیدا ہو جائیں اس نے ایمان کی مٹھاس کو پا لیا۔ اول یہ کہ اللہ اور اس کا رسول اس کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب بن جائیں، دوسرے یہ کہ وہ کسی انسان سے محض اللہ کی رضا کے لیے محبت رکھے۔ تیسرے یہ کہ وہ کفر میں واپس لوٹنے کو ایسا برا جانے جیسا کہ آگ میں ڈالے جانے کو برا جانتا ہے۔


آج جب یہ حدیث میری نظر سے گزری تو سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ ہم کس حد تک قابل ہیں کہ دنیا اور آخرت کی سب سے بہترین چیز حاصل کر سکیں۔
میری ناقص عقل کے مطابق حدیث کے اندر تین باتوں کا ذکر کیا گیا جن پر عمل ہمیں وہ طاقت دے سکتا جو ہمیں دونوں جہانوں میں کامیابی سے ہمکنار کر سکتی ہیں۔
1۔سب سے پہلی عادت تو یہ ہے کہ دنیا کی ہر چیز ہر انسان اور ہر رشتہ سے زیادہ عزیز ہمیں اللہ اور اللہ کا رسول ہونا چاہیے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہر چیز ہر انسان اور ہر رشتہ کیا ہے؟۔ ہمارا گھر بار ، مال اسباب ، کاروبار ، روپیہ پیسہ ، ماں باپ ، بہن بھائی ، بیوی بچے ، یار دوست وغیرہ ۔
دیکھنا یہ ہے کہ کہیں یہ چیزیں ہمیں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں حائل تو نہیں ہو رہی۔


2-اسی حدیث کے دوسرے حصے کا مطلب میری ناقص عقل کے مطابق یہ ہے کہ ہم نے دنیا میں زندگی گزارنی ہے اور یہ زندگی نفرت پھیلانے میں تو نہیں گزارنی بلکہ پیار محبت کا درس دینا ہے مگر محبت کے کچھ شرعی تقاضے ہیں۔ ہمیں اس مادہ پرست اور نفسا نفسی کی دنیا میں محبت خالص اللہ کے لیے ہی کرنی ہے۔
آج کل کے معاشرے میں روپے پیسے اور اعلی عہدے داروں کی خوشامد صرف اس لئے کی جاتی ہے کہ ہم ان سے اپنا مطلب نکلوا سکیں۔
3-مجھے حدیث پڑھتے ہوئے لگا تھا کہ کفار کو اور کفر کو برا بھلا کہا جائے گا مگر میری سوچ اس وقت غلط ثابت ہوئی جب میں نے پڑھا کہ کفر میں واپس جانے کو برا سمجھا جائے نہ کہ دوسروں پر کفر کے فتوے صادر کر کہ خود گناہگار کیا جائے ۔ جبکہ کافر کو بھی کافر نہ کہنے کا حکم ہے کلمہ گو تو بہت دور کی بات ہے۔

0 Reviews
Blogs, Vlogs iGreen Bottom Image