”معرفت ‘‘ کا مفہوم

  •   0
  •   Naveed Khan
  •   0
  •   560
اولیاء کرام کی زبان میں معرفت علم کو کہتے ہیں

امام ابو القاسم قشیری رحمت اﷲ علیہ فرماتے ہیں: اولیاء کرام کی زبان میں معرفت علم کو کہتے ہیں لہٰذا ہر علم معرفت ہے اور ہر معرفت علم، اور ہر شخص جو عالم باﷲ ہے وہ عارف باﷲ بھی ہے۔ ہر عارف عالم بھی ہے ، مگر صوفیاء کے نزدیک معرفت ایک ایسے شخص کی صفت ہے جو حق تعالیٰ کو اس کے اسماء اور صفات کے ساتھ پہچانے۔ اس کے بعد اﷲ کے ساتھ تمام معاملات میں سچا اور اخلاص والا ہو۔ پھر اپنے ردی اخلاق اور آفاتِ نفس سے پاک ہو۔ اس کے بعد وہ اﷲ تعالیٰ کے دروازے پر ایک طویل عرصہ کے لیے ٹھہرا رہے۔ اور وہ اپنے دل سے(اسی دروازے) پر معتکف رہے۔ جس کے نتیجہ کے طور پر اسے یہ خوش بختی حاصل ہو گی کہ اﷲ تعالیٰ اس کی طرف اپنی توجہ دے گا۔ اور وہ اپنے تمام احوال میں اﷲ تعالیٰ سے خلوص و صدقِ دل سے عمل پیرا ہو گا۔ اور اس سے خواطرِ نفس(نفسانی خیالات) پیش آنے بند ہو جائیں گے۔ اور وہ اپنے دل کے کسی ایسے خاطر(خیال) کی طرف توجہ نہ دے گا جو غیر اﷲ کی طرف دعوت دے۔ چنانچہ جب بندہ مخلوق سے اجنبی ہو جائے اور آفاتِ نفس سے بری اور ساکنات اور ملاحظات سے پاک ہو جائے اور راز میں وہ ہمیشہ حق تعالیٰ کے ساتھ مناجات میں رہتاہو اور ہر لحظہ اﷲ کی طرف اس کا رجوع کرنا ثابت ہو اور اﷲ تعالیٰ اس کے ساتھ باتیں کرے، اس طرح کہ ان تمام تقدیروں کے ردو بدل کا راز جو اﷲ تعالیٰ جاری کرتا ہے، وہ اسے بتا دے، تب جا کر بندہ عارف کہلاتا ہے اور اس کی حالت معرفت کہلاتی ہے۔ مختصر یہ کہ جس قدر انسان اپنے نفس سے بیگانہ بنے گا۔ اسی قدر اسے اپنے رب کی معرفت حاصل ہو گی(رسالہ قشیریہ صفحہ٥٥٨)۔


دراصل یہ ایک علم ہے یوں سمجھیں کہ علم ِ باطن کی باریکیوں کو سمجھ لینا معرفت ہے۔ المعرفۃ والعرفان ادراک الشیئ بتفکر و تدبر لا ثرہ وہو اخص من العلم ویضادہ الانکار یعنی کسی چیز کے نتیجے پر پہنچنے کے لےے اس میں غور وفکر کر کے اس کا ادراک حاصل کرنا معرفت اور عرفان ہے اور یہ علم سے خاص ہے(یعنی ہر معرفت علم ہے اور ہر علم معرفت نہیں ہے) اور اس کی ضد انکار ہے (مفردات صفحہ٣٤٣)۔


" معرفت " کا مفہوم ہے : کسی شخصیت چیز بات وغیرہ کو جاننا ، پہچاننا۔ لغت میں اس کا اصل مادہ ہے " عَرَفَ " ، اور اس کے دیگر صیغے اور اسماء اور ابواب میں عام مستعمل کو یوں بیان کیا جاتا ہے ::: عَرَفَهُ ، يَعر ِفه ، مَعْرِفةً و عِرْفاناً اور "معرفت " اور " عِرفان "، کا لغویٰ معنیٰ ہے " عِلم " دوسرے الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ "معرفت " اور " عِرفان " اور " عِلم " مترادف الفاظ ہیں۔ " معرفت " ، عِلم ہے ، کسی بھی شخصیت ، چیز ، کام وغیرہ کے بارے میں علم اس کی معرفت ہے۔ جیسا کہ اگر کوئی دندان ساز ، دانتوں کی بیماریوں اور علاج کا " ظاہری عارف " ہوتا ہے ، "عالم " ہوتا ہے جبکہ وہ ان کی اصل کی کوئی " معرفت " نہیں رکھتا۔ اسی طرح جو شخص اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی اور ان کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی عطاء کردہ خبروں کے مطابق اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات و صفات اور ناموں کا حقیقی علم رکھتا ہے اسے " عارف باللہ " کہا جا سکتا ہے ،اور جب وہ ان کو بیان کرے گا تو وہ "معرفت " کی باتیں ہو ں گی ۔ اور اگر وہ اپنے خیالوں یا قصے کہانیوں کی بنیاد پر اللہ یا دین کے متعلق کچھ سیکھے ہوئے ہے تو وہ " عارف باللہ " نہیں ، اور اس کی باتیں بھی سچی معرفت والی نہیں۔


معرفتِ ربانی تصوف و طریقت کا چوتھا بنیادی مقصد ہے۔ معرفتِ ربانی میں پہلا مرحلہ اطاعت الٰہی ہے کیونکہ بندہ صحيح معنوں میں اطاعتِ الٰہی کا حق اسی وقت ادا کرسکتا ہے جب اسے اﷲ رب العزت کی معرفت حاصل ہو۔ قرآن مجید نے انسان کی تخلیق کا مقصد ہی ’’معرفت رب‘‘ کو قرار دیا ہے۔ جیسا کہ ارشاد فرمایا : وَمَا خَلَقْتُ الْجِِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلاَّ لِيَعْبُدُوْنَO ’’اور میں نے جن و انس کو اس لئے پیدا کیا ہے تاکہ وہ میری عبادت کریںo‘‘ الذريات، 51 : 54 مشہور تابعی ابن جریح رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ آیت میں مذکور لفظ لِیَعْبُدُوْنَ کا مفہوم ہے : ’’أيْ يَعْرِفُوْنَ‘‘ ’’تاکہ وہ میری معرفت حاصل کریں۔‘‘ قرآن حکیم میں مذکور ہے : وَإِذَا سَمِعُواْ مَا أُنزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَى أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُواْ مِنَ الْحَقِّ. ’’اور جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں جو رسول نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف نازل کیا گیا ہے تو تو دیکھے گا کہ ان کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں کیونکہ انہوں نے حق کو پہچان لیا ہے۔‘‘ المائده، 5 : 83


حاصل کلام یہ کہ کسی چیز، بات ، علم ، کا حقیقی ادراک و مقصد ، اصل ماہیت و مفہوم ، ان کے رموز و اسرار و حکمت و مصلحت کو سمجھ لینا معرفت کہلاتا ھے ۔۔ اور یہ یہ خدائی وجدان و عطا سے ہی ممکن ھے ، اکثر لوگ اپنی ناقص سوچ و گمان ، ریسرچ و فلسفے کومعرفت سمجھ لیتے ہیں ، جو کہ زبردست دھوکہ و حجاب ھوتا ھے ۔ اس کے لئے بلند پایہ خدائی کشف و الہام و وجدان کی ضرورت ھوتی ھے ، جو کہ ھر ایک کے پاس نہیں ھوتا ۔

0 Reviews
Blogs, Vlogs iGreen Bottom Image