یہ میرے ہاتھوں پہ مہندی اسی رات کی نشانی ہے

چوہدری صاحب خاموش ہوئے اور اپنے ہاتھ کے نقش و نگار کو کسی مقدس شے کی طرح دیکھتے رہے۔ میں نے حاجی صاحب کی طرف دیکھا۔وہ رومال سےاپنی نم آنکھوں کے گوشے صاف کر تے ہوئے بولے:

بڑی سی گاڑی سے نکلنے والے صاحب کی پرسنالٹی دیکھ کر ایک بار تو جی خوش ہوگیا۔۔۔
سانولی رنگت لیکن صحت مند چہرہ۔۔گھنی سیاہ مونچھیں اور دھوپ کا برانڈڈ چشمہ۔۔چھے فٹ کے تن پرسفید بے داغ لٹھے کا کھڑکھڑاتا ہوا لباس۔۔پیروں میں کھسہ۔۔۔
بائیں ہاتھ میں سگریٹ کا دھواں دیتا ٹکڑا۔۔۔
میرےساتھ بیٹھے انہی کے منتظر حاجی صاحب نے اٹھ کر ان کا استقبال کیا۔۔۔۔ میں انہیں غائبانہ جانتا تھا۔۔یہ چوہدری صاحب تھے بڑے زمیندار۔۔اور بزنس مین تھے۔۔۔پولٹری فیڈ سے متعلق بھی کاروبار تھا ان کا۔۔۔۔ اسی لئے حاجی صاحب سے ان کی شناسائی تھی۔۔۔ میں نے البتہ آج پہلی بار انہیں قریب سے دیکھا تھا۔۔اور ان کی رعب دار شخصیت یقینا متاثر کن تھی۔۔۔۔وہ ہمارے سامنے کرسی پر بیٹھے گئے۔۔اور میز پر رکھا اخبار اٹھالیا۔۔لیکن جیسے ہی انہوں نے دائیں ہاتھ سے اخبار اٹھایا۔۔۔ میری انکھوں کو جیسے جھٹکا سا لگا۔۔
ایک دم جیسے ان کی ۔۔۔ ساری پرسنالٹی۔۔ساری وجاہت۔۔سارا مردانہ حسن "ہوا" ہوگیا۔۔
مردوں کے معاملے میں دو مناظر مجھے کبھی پسند نہیں آتے بلکہ بے چینی اور الجھن پیدا کر دیتے ہیسمولے۔
یک جب کوئی مرد فلمی گانے پر "ڈانس" کر رہا ہو
دوسرا کسی مرد کے ہاتھ پر مہندی سے بیل بوٹے بنائے گئے ہوں
یہاں دوسری وجہ تھی۔
موصوف کے دائیں ہاتھ۔۔صرف ہتھیلی نہیں بلکہ انگلیاں اور ہاتھ کی پشت پر بھی مہندی سے بنے نقش و نگار تھے۔۔ اور کافی بے ڈھنگے پن سے پھول پتیاں بنائی گئی تھیں۔
انہوں نے اخبار کے صرف پہلے صفحے کو ایک نظر دیکھا اور پھر اسے واپس میز پر رکھ کر حاجی صاحب سے باتیں کرنے لگے۔۔۔ میں ان کو گفتگو کو مصروف دیکھ کر اپنے موبائل پر شروع ہوگیا۔۔۔۔
لیکن اس دوران دو بار ایسا ہوا جب میری نظر کے سامنے اس وجیہہ مرد کا مہندی سے سجا ہاتھ اٹھا اور اپنی موجودگی کا احساس دلا گیا۔
ایک بار جب اس نے سگریٹ کے لئے لائٹر جلایا دوسرا جب اس نے پانی پینے کے لئے ہاتھ آگے بڑھایا۔
اور پھر اچانک حاجی صاحب نے وہ سوال پوچھ لیا جو میرے ذہن میں چبھ رہا تھا
وہ پوچھ رہے تھے" چوہدری صاحب۔۔۔ یہ آپ کو ہاتھوں پر مہندی لگوانے کا شوق کب سے پیدا ہوگیا؟"
میں موبائل چھوڑ کر ان کی طرف دیکھنے لگا کہ یہ جواب تو مجھے بھی چاہئے۔
چوہدری صاحب مسکرائے اور اپنا مہندی لگا ہاتھ اوپر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔ ایسا کرتے وقت ان کی آنکھوں میں ایک عجیب سے چمک پیدا ہورہی تھی۔۔ بولے:
"شوق تو مجھے بالکل بھی نہیں ہے۔۔۔بلکہ میں تو اسے "کڑیوں" (لڑکیوں) والے شوق کہتا ہوں"۔۔۔
ایک توقف بعد چوہدری صاحب سگریٹ کا کش کھینچتے ہوئے بولے:
حاجی صاحب میرے چھے بچے ہیں۔۔ سب سے بڑا بیٹا ہے اس کے بعد پانچ بیٹیاں پیدا ہوئیں۔۔۔ آپ جانتے ہیں ہم جاگیرداروں کو۔۔ ہم لوگ اولاد پیدا کرتے ہیں تو صرف دو وجہ سے۔۔ ایک تو صاحب اولاد کہلوا سکیں۔۔دوسرا اپنی جاگیر کا وارث پیدا کرسکیں۔۔ ہم لوگ اپنی اولاد سے محبت کا رشتہ تو رکھتے ہوں۔۔لاڈ پیار کا رشتہ کم ہی رکھتے ہیں۔
مجھے یاد ہے جب میرا بڑا بیٹا پیدا ہوا تھا تو مجھے خوشی سے زیادہ فخر ہوا۔۔ اس کے بعد ایک کے بعد ایک بیٹی۔۔پیدا ہوتی گئی اور اسی تسلسل سے باپ بننے کی خوشی کم سے کم ہوتی گئی۔۔ حتی کہ پانچویں بیٹی کی پیدائش کی اطلاع میں نے ایسے ہی سنی جیسے کوئی روزمرہ کا پیغام مل رہا ہو۔
لیکن مجھے بیٹیوں کے پیدا ہونے کی کوئی خاص خوشی نہ تھی تو کوئی غم یا غصہ بھی نہ تھا۔۔ ہاں بس ایک خواہش تھی کہ دو تین پتر (بیٹے) اور پیدا ہوجاتے تو اچھا تھا۔۔
ایک لمبا سانس بھر کے بولے
حاجی صاحب۔۔ آپ کو نہیں پتہ جو باتیں میں آپ کو بتا رہا ہوں یہ مجھے چند دن پہلے تک خود بھی معلوم نہ تھیں۔
حاجی صاحب بولے: میں معذرت چاہتا ہوں لیکن میں نے تو کچھ اور پوچھا تھا
وہ مسکرا کربولے: یہ ساری تمہید آپ کے سوال کے جواب
کے لئے ہی باندھی ہے حاجی صاحب۔
کچھ دن پہلے کا واقعہ ہے۔۔بڑی عجیب واردات ہوئی میرے ساتھ۔۔۔۔رات کو سوتے ہوئے میری آنکھ کھلی تو میں نے ایک عجیب منظر دیکھا۔۔ میری دو چھوٹی بیٹیاں میرے سرہانے بیٹھی ہیں۔۔ایک نے میرا بازو پکڑ کر سیدھا کر رکھا ہے دوسری میری ہتھیلی پر مہندی لگا رہی ہے۔۔ اور ان دونوں سے بڑی میری ایک بیٹی دور کھڑی خوفزدہ نظروں سے ان دونوں چھوٹیوں کو ہاتھ کے اشارےسے روکنے کی کوشش کر رہی ہیں۔۔۔۔۔ ان چھوٹی لڑکیوں کے چہرے کی شرارت اور دور کھڑی بڑی کے چہرے کا خوف۔۔۔ میرے دل کو چیر پھاڑ کر گزر گیا۔
حاجی صاحب! میں نے کبھی انہیں گود میں نہیں اٹھایا۔۔پیار کرنا تو دور کی بات شاید کبھی نرم نگاہوں سے دیکھا بھی نہ ہو۔۔ میں نے تو ہمیشہ یہی دیکھا جب میں گھر میں آتا تو یہ بچیاں اچانک بھاگ کر کونوں کھدروں میں دبک جاتیں۔۔خدا گواہ ہے میں نے کبھی انہیں ڈانٹا بھی نہ تھا۔۔لیکن یہ میرے وجود سے ہی ڈر جاتی تھیں۔۔۔ اس رات جانے کیسے ان کی اتنی ہمت ہوگئی کہ یہ خوف کے سارے حصار توڑ کر میرے اتنے قریب آبیٹھی۔۔۔۔
حاجی صاحب! عجیب سی کیفیت ہوگئی تھی میری۔۔ ہم نے کبھی اپنی ماوں کو بہنوں کو اپنے قریب کبھی نہ کیا۔۔۔ ہماری حویلیوں میں مائیں کب مرجاتی ہیں بہنیں کب بیاہ دی جاتی ہیں۔۔۔ ان کی یاد صرف جاگیرکی ونڈ (تقسیم) کے وقت ہی آتی ہے۔۔۔۔بیٹیاں بھی اپنے آپ پل کے جوان ہوتی ہیں اور بیاہ دی جاتی ہیں۔۔ ان سے تعلق بھی بس اتنا سا ہی ہوتا ہے۔۔۔
لیکن اس رات۔۔۔میں آنکھیں بند کئے خاموش لیٹا رہا تاکہ وہ مجھے جاگتا دیکھ کر خوف سے بھاگ نہ جائیں۔۔۔۔ مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ یہ ننھے وجود میرے جسم کا حصہ ہیں۔یہ مجھے اپنی شرارت کا حصہ بنا کر شاید اپنے وجود کا احساس دلا رہی ہیں۔۔۔ میں لیٹا رہا سوچتا رہا۔۔ساری رات گزر گئی اور۔۔۔۔اس رات کے بعد میں نے اپنی بچیوں کو اپنے قریب کرنا شروع کیا۔اب میں نے ان کے لئے بہت کچھ کرنے کافیصلہ کیا ہے۔۔۔
یہ میرے ہاتھوں پہ مہندی اسی رات کی نشانی ہے۔۔اور آج کئی دن بعد بھی اس مہندی کا رنگ پوری طرح ختم نہیں ہوا۔
چوہدری صاحب خاموش ہوئے اور اپنے ہاتھ کے نقش و نگار کو کسی مقدس شے کی طرح دیکھتے رہے۔۔۔ میں نے حاجی صاحب کی طرف دیکھا۔۔۔ وہ رومال سےاپنی نم آنکھوں کے گوشے صاف کر تے ہوئے بولے:
"چوہدری صاحب آپ نے سچ کہا۔۔۔ یہ آپ کے ساتھ ایک واردات ہی ہوئی ہے۔۔۔ بندے کے ساتھ بڑی بڑی وارداتیں ہوجاتی ہیں پرجو واردات بندے کے دل کے ساتھ ہو۔۔۔ وہ اندر باہر سے سب کچھ بدل کے رکھ دیتی ہیں۔
اور میں سوچ رہاتھا۔۔۔
سخت دلوں پر بھی محبت کے لمحات الہام ہوتے ہیں۔۔۔ لیکن کامیاب دل وہی ہے جوا س کا ادراک کرتے ہوئے اپنی سختی کا خول توڑکر اسے اپنے اندر سمولے۔

0 Reviews
Blogs, Vlogs iGreen Bottom Image