یہ دھرتی کی محبت ہے

  •   5
  •   Tauseef Anwar
  •   1
  •   588
یہ دھرتی کی محبت ہے

آزادی کے وقت ہمارے آباء و اجداد نے جو خواب دیکھے تھے، وہ 70 سال گزرنے کے بعد بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے۔ ہر درد مند شہری کے دل میں اپنے وطن کے حوالے سے کچھ امنگیں ہوتی ہیں، لیکن جب آج اپنے ملک کو غربت، بے روزگاری اور ناانصافی کی دلدل میں پھنسے ہوئے دیکھتا ہوں تو محض لفظ “افسوس” کے کچھ نہیں کہہ پاتا۔ ان تمام جذبات کو قلم بند کرنا بہت مشکل ہے، مگر افسانہ کی صورت میں چھوٹی سی کوشش اپنے قارئین کی نذر۔

ایک کچے گھر میں کچھ خواتین بیٹھی ہنستی، کھیلتی کچھ باتیں کر رہی تھیں۔

زبیدہ بیگم: قاسم نے کس وقت آنا تھا؟ دوپہر ہو چلی، ابھی تک پہنچا نہیں گھر وہ۔

فریحہ: امی وہ بھائی جان کی کال آئی تھی کہ ٹرین کچھ لیٹ ہے، تو ایک دو گھنٹے زیادہ لگیں گے، ورنہ آپ جانتی ہیں یہ فوجی اپنے وقت کے کتنے پابند ہوتے ہیں۔

زبیدہ بیگم: بالکل ان کی ڈیوٹی ہی ایسی ہے۔ مجھے تو ڈر ہے کہ کہیں شادی والے دن بھی اسے ڈیوٹی کا کام ہی نہ آ جائے۔

معراج دین: خدا کا خوف کرو بیگم! بولنے سے پہلے کچھ سوچ لیا کرو۔ یہ درست ہے کہ میرا بیٹا فوج میں ہے اور مجھے فخر ہے اس پر، مگر تم بولتے وقت سوچ لیا کرو۔

اتنے میں گھر کا دروازہ کھلتا ہے اور ایک نوجوان گھر میں داخل ہوتا ہے۔

قاسم: اسلام علیکم امی جان! اسلام علیکم ابا جان!

معراج دین: چلو آخر تم اپنی شادی سے کچھ دن قبل آ ہی گئے ہو۔

قاسم: جی ابا جان آپ جانتے ہیں کہ بارڈر پر کشیدگی ہے اور ملک کے تمام شہروں میں شرپسند عناصر گھوم رہے ہیں، اس لیے ان حالات میں چھٹی ملنا تھوڑا مشکل ہے۔

معراج دین: ہاں اللہ تعالیٰ انہیں غارت کرے اور تم سب کو کامیاب کریں۔ اور سناؤ میرے باقی کے بیٹے کیسے ہیں۔

قاسم: جی الحمدالللہ میری اور دیگر یونٹوں کے تمام ساتھی آپ لوگوں کی دعا سے بالکل ٹھیک ہیں۔

فریحہ: (شرارتی انداز سے قاسم سے مخاطب ہو کر) وہ سدرہ آج نمک، چینی اور چائے وغیرہ لینے آ رہی ہے۔ اس سے مل کر اس کی چائے کا سامان پورا کر دینا۔

قاسم شرماتے ہوئے نظریں اٹھا کر اسے دیکھتا ہے۔

زبیدہ بیگم: خبردار اگر کسی نے میری بہن کی بچی کو کچھ کہا تو، یہ اسی کا گھر ہے۔ وہ جب چاہے آئے اور چند دن بعد تو اسے ہمیشہ کیلئے اسی گھر میں رہنا ہے۔

لو بھئی سدرہ آ ہی گئی، ابھی آپ ہی کا ذکر ہو رہا تھا۔ اچھا بھائی میں چلتی ہوں۔

سدرہ (قاسم سے): تم روز بروز بدلتے جا رہے ہو اور اتنی تیزی میں نے کسی کو بدلتے نہیں دیکھا۔ کیا سچ میں تمہیں مجھ سے محبت ہے؟

قاسم: لو یہ بھلا کوئی پوچھنے کی بات ہے۔

سدرہ: تم ٹھیک کہہ رہے ہو مگر جب سے تم فوج میں گئے ہو، تمہارے رویے میں بہت تبدیلی آتی جا رہی ہے۔ تھوڑے دور دور رہنے لگے ہو، جیسے کسی پرائے سے بات کر رہے ہو۔

قاسم: نہیں یہ بات نہیں ہے، دراصل ہماری تربیت ہی ایسی ہے۔

سدرہ: تربیت؟ کون سی تربیت؟ ابھی مشکل سے تمہیں دو سال تو ہوئے فوج میں گئے۔ تم وہی قاسم ہو نا جس کے پیچھے انکل ڈنڈا لے کر بھاگتے مارتے پیٹتے مگر وہ کبھی شرارتوں اور ضد بازی سے باز نہ آتا۔ فوج نے ایسی بھی کیا مار ماری تم کو کہ سب بدل گیا۔

قاسم: فوج نے مارا نہیں سکھایا ہے مجھے، بہت کچھ سکھایا ہے۔

سدرہ: مثلاً؟ اب یہ مت کہہ دینا کہ فوج بہت ظالم ہوتی ہے اور کوئی دکھڑا مت سنانا مجھے۔

قاسم: نہیں وہ ظالم نہیں ہوتے، وہ باپ کی طرح شفیق ہوتے ہیں، بہت پیار کرتے ہیں۔

سدرہ: کیسا پیار؟

قاسم: ہر انسان کی زندگی کا ایک مقصد ہوتا ہے۔ اللہ نے ہر انسان کو ایک مقصد کیلئے پیدا کیا ہے۔ اور ہماری زندگی کا مقصد ہماری ذات نہیں، ہماری قوم اور ملک ہے۔ اس ملک میں ہر شخص ہمارا ہے۔ ہمیں سب سے پہلے اس کا سوچنا ہے۔ یہ پاکستان اللہ تعالیٰ کے رازوں میں سے ایک راز ہے۔ اس ملک کو کوئی قوت ختم نہیں کر سکتی۔ اس ملک کی حفاظت ہمارا فرض ہے۔

“وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے” وطن سے محبت صرف جذبات تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ ہمارے گفتار اور کردار میں بھی آنی چاہیے۔ ہمیں سب سے پہلے اپنے وطن کی امن وسلامتی کیلئے اللہ سے دعا کرنی چاہیے کیونکہ دعا میں دل کی سچائی کا مظاہرہ ہوتا ہے۔ اس میں جھوٹ اور نمائش نہیں ہوتی بلکہ اللہ کے ساتھ براہ راست تعلق ہوتا ہے۔ اپنے ملک کی ترقی کیلئے جو بھی قربانیاں ہو سکتی ہوں، وہ دینے کا وعدہ کریں۔

دعا ہے کہ اللہ پاک اس ملک کی حفاظت فرمائے، آمین۔

1 Reviews
  • User Image
    Zubair Ahmed
  • ایک سال پہلے
  • we love pakistan

Blogs, Vlogs iGreen Bottom Image