گوگل نے انٹرنیٹ پر چلنے والی ’’جعلی خبروں‘‘ کا توڑ نکال لیا

گوگل نے انٹرنیٹ پر چلنے والی ’’جعلی خبروں‘‘ کا توڑ نکال لیا

انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے فروغ سے پوری دنیا میں افواہوں، فوٹو شاپ سے تبدیل شدہ تصاویر اور گمراہ کن خبروں کا بازار گرم ہے جن پر پڑھے لکھے لوگ بھی اعتبار کرلیتے ہیں لیکن اب گوگل نے اس کا حل پیش کردیا ہے۔

دنیا کے سب سے بڑے سرچ انجن گُوگل نے جعلی خبروں کو جانچنے کا ایک ٹیگ متعارف کرایا ہے تاکہ مستند خبروں کو افواہوں سے الگ کیا جاسکے۔ اس سروس میں گُوگل پولیٹیفیکٹ اور اسنوپ نامی تھرڈ پارٹی کمپنیوں سے مل کر کام کرے گا اور اس کے لیے ایک کروم (گُوگل ویب براؤزر) ایکسٹینشن پہلے ہی متعارف کرایا جاچکا ہے۔ اس کے ذریعے گُوگل اور دیگر کمپنیاں صحافت کے معیار کو جانچیں گی اور مختلف خبری ذرائع کی صداقت معلوم کریں گی۔

دلچسپ امریہ ہے کہ اس طرح خبروں کی ادارت (ایڈینٹگ) بھی کی جاسکے گی لیکن یہ کام فردِ واحد کی بجائے پوری برادری انجام دے گی۔ اس میں ایک آپشن اور بھی ہے جس کے تحت کئی صحافی اور لکھاری کسی متن کے مندرجات پر نظر رکھ سکیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ رپورٹر حضرات وکی پیڈیا کی طرح لکھے جانے والے مندرجات تک رسائی حاصل کرکے اسے بہتر بناسکیں گے۔

فیکٹ چیک ٹیگ ہر جگہ دکھائی دینے کی بجائے صرف بریکنگ نیوز اور براؤزنگ کے وقت ظاہر ہوں گے۔ لیکن گُوگل حقائق کی تصدیق خود کرنے کی بجائے اس پر ماہرین کی رائے شامل کرے گا اور اس سے لوگوں میں خبر کی صداقت اور سچائی جاننے میں مدد ملے گی۔

اگرچہ گُوگل نے گزشتہ برس اکتوبر میں یہ فیچر پیش کیا تھا لیکن اس وقت یہ صرف امریکا اور برطانیہ کے لیے تھا اور اب پوری دنیا اس سے استفادہ کرسکتی ہے۔ اس سال فروری میں فرانس اور دیگر ممالک کے 37 صحافتی اداروں نے گُوگل کے تعاون سے ’’کراس چیک‘‘ نامی ایک سروس شروع کی تھی جس کا مقصد فرانسیسی صدارتی انتخابات میں غلط رپورٹنگ اور افواہوں پر نظر رکھنا تھا۔

اس کے علاوہ فیس بک نے بھی جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے آن لائن مہم اور کام شروع کردیا ہے۔ فیس بک نے اپنے پلیٹ فارم پر ’’جعلی خبروں کی نشاندہی‘‘ کا طریقہ بیان کردیا ہے۔

یہ بلاگ ایکسپریس سے لیا گیا ہے

0 Reviews
Blogs, Vlogs iGreen Bottom Image