پلاسٹک بیگ اور کینسر

پلاسٹک بیگ ہمارے کھانے میں ایک زہر کی شکل ہے

پاکستان میں تقریباً کھانا لینے کے لئے اگر آپ کہیں باہر جائیں تو تقریباً ہر چیز پلاسٹک کے بیگ میں دی جاتی ہے.اور آپ کو معلوم نہیں یہ کس سٹینڈرڈ کا تیار کردہ بیگ ہے جسے کھانے منتقل کرنے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے.یہاں گھروں میں چھوٹی فیکٹریوں میں تیار کیا جاتاہے جو کہ یقینا گورنمنٹ سے رجسٹرڈ کرواۓ بغیر چل رہی ہیں. نہیں معلوم وہ پلاسٹک بیگ بنانے کےلئے وہ خام مال کہاں سے لیتےہیں اور وہ خام مال گورنمنٹ سے منظور شدہ بھی ہے کہ نہیں ، اور کیا وہ کھانے میں استعمال کیا جاسکتا بھی ہے کہ نہیں یہ وو تمام سوال ہے جو میرے ذہن میں آتے ہیں جن کا جواب صرف گورنمنٹ کے پاس ہے یا جو اسس کو تیار کرتے ہیں.

پلاسٹک بیگ کوالٹی

پلاسٹک بیگ میں بھی کوالٹی کے حساب سے درجہ بندی ہوتی ہے کہ وو کھانے کےلئے استعمال کیےجاسکتے ہیں یا صرف دوسری چیزوں کے لئے.کیوںکہ کھانےکے لئے ایک خاص قسم کا پلاسٹک بیگ استعمال ہوتا جو کہ گرم یا ٹھنڈا کھانا اس میں محفوظ کیا جا سکتا ہے.اسکے علاوہ کوئی قسم کھانے میں اپنے جراثیم چھوڑ دیتا ہے جو کہ انسانی صحت کے لئےبہت نقصان دہ ہیں ان میں وہ کیمیکل جو اسسے بنانے میں استعمال ہوتے ہیں وو گرم ہونے پر کیمیکل کا جراثیم کھانےمیں شامل ہو جاتے ہیں جو کہ کینسر پھیلانے میں سب سے زیادہ محرک ہوتے ہیں.

پابندی

پوری دنیا میں پلاسٹک بیگ کو ختم کیا جا رہا ہے یہاں تک کا کھانے کہ علاوہ بھی کسی مقصد کہ لئے اس کی کوئی قسم تیار کی جاتی ہے تو اس کی کوالٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے اور اس کوایک کوالٹی ٹیسٹ میں سے گزارا جاتا ہے تب ہی یہ مارکیٹ میں آ سکتا ہے . یہاں تک کہ کچھ ملکوں میں اس پر مکمل طور پر پابندی لگا دی گی ہے کیوں کہ یہ ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ کرتی ہے.

گلوبل افیکٹ

ایک رپورٹ کے مطابق پوری دنیا کے سمندروں میں جو کوڑاکرکٹ اکھٹا ہوتا ہے اس کا بہت سا حصّہ صرف پلاسٹک بیگ ہی ہے.باقی کوڑاکرکٹ تووقتاً فوقتاً پانی میں گھل مل جایا ہے لیکن پلاسٹک ایک ایسی چیز ہے جو کئی سالوں تک بھی dissolve نہیں ہوتی جو کہ آبی حیات کہ لئے بہت نقصان دہ ہے.مچھلیاں اسسے نگھل جاتی ہیں اور چونکہ ہضم نہیں کر پاتی تو مر جاتی ہیں.جس کی وجہ سے سالانہ کروڑوں کی تعداد میں مچھلیاں صرف یہ کوڑا کرکٹ کھا کہ مرجاتی ہیں.جو کہ آبی حیات کے لئے دن بدن ان کی نسلوں کو نقصان پہنچتا جا رہا ہے. اور ہمارے ارد گرد کے ماحول پر اسکا بہت زیادہ فرق پرتا ہے جو کا باقی جنگلی حیات کے لئے بھی بہت نقصان دہ ہے جو شاید ہمیں آج اس نقصان کااتنا اندازہ نہ ہو لیکن آنے والے وقتوں میں پوری دنیا کا موسم اور بیماریاں اس سے اثر انداز ہونگی.

میری اپیل ہے ہماری گورنمنٹ سے اور تمام ان اداروں سے جو اس کی ریگلولر اتھارٹی سے جس کے بھی ذمے یہ کام اتا ہے، وہ اس کے لئےکوئی اقدام کرے تاکہ کھانے کے لئےکم از کم اس پر پابندی لگائی جاۓ اور فوڈ اتھارٹی والے اس پر سختی سے عمل درآمد کرواے تاکہ پاکستان میں کینسر جیسی محلق بیماری کوکم سے کم کیا جا سکے.

ٹیگز :

0 Reviews
Blogs, Vlogs iGreen Bottom Image