پاکستان کے تاریخی اور جنت نظیر علاقوں کی سیر کیجیے

  •   0
  •   Naveed Khan
  •   0
  •   554
قرآن پاک میں سورئہ عنکبوت کی آیت نمبر 20 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ”کہو کہ: ”ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ اللہ نے کس طرح مخلوق کو شروع میں پیدا کیا، پھر اللہ ہی آخرت والی مخلوق کو بھی اُٹھا کھڑا کرے گا۔ یقینا اللہ ہر چیز پر قادر ہے ۔“

ہم وقتاً فوقتاًتاریخی، معلوماتی، جنت نظیر اور خوبصورت مختلف علاقوں کی سیر و تفریح کرتے رہتے ہیں۔
ہر سال آٹھ دس نئے علاقے اور مقامات ضرور دیکھتے ہیں۔ جتنا کچھ سفر سے سیکھنے کا موقع ملتا ہے، اس سے کہیں زیادہ نئی علاقوں کے باشندوں سے مل کر اور حال احوال لینے کے بعد سیکھا جاتا ہے۔
ہمارے ایک دوست نے چترال سے دعوت دی ہے کہ وہ اس مرتبہ جون جولائی میں یہاں آئیں۔ جب میں چترال جانے کا پروگرام بنانے لگا تو سوچا اس طرف اور کون کون سے علاقے ایسے ہیں جن کی سیر کرنی چاہیے۔ انٹرنیٹ پر سرچ کیا تو حیران رہ گیا کہ پاکستان میں بیسیوں ایسے تاریخی اور جنت نظیر خطے ہیں جہاں ہر پاکستانی کو جانا چاہیے۔


خصوصاً ایسے حالات میں جب اپنے ملک کے بارے میں سوچیں تو دہشت گردی، انتہاپسندی، فرقہ واریت، کرپشن، لوڈشیڈنگ اور مہنگائی، دھرنے، ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی.... جیسے برے حوالے ذہن میں آتے ہیں،
مگر ان سب کے باوجود ہم پاکستان سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں اگر آپ کے سامنے کچھ اچھے حوالے پیش کیے جائیں تو آپ کی وطن عزیز سے محبت کا پیمانہ کہاں پہنچ جائے گا؟
اگر آپ سیاح ہیں یا گھومنے پھرنے کے شوقین تو یقینا ہر سال آپ کے شیڈول میں کوئی نہ کوئی نیا مقام ہو گا جہاں آپ جانا چاہیں گے۔ ہم سمجھتے ہیں پاکستان میں بیسیوں تاریخی، معلوماتی، تہذیبی، ثقافتی اور جنت نظیر علاقے اور مقامات ہیں جن کی ہر پاکستان کو سیر کرنی چاہیے۔
ان میں سے چند ایک علاقے درج ذیل ہیں


نمبر1: وادی نیلم، آزاد کشمیر ہے۔
نمبر 2: شنگریلا ریزورٹس ہے۔
نمبر 3: وادی گوجال ہے۔
نمبر4: وادی نلتر، گلگت بلتستان ہے۔
نمبر 5: راما میڈو ہے۔
نمبر 6: پائے ہے۔ وادی شوگران سے اوپر جائیں تو ہندوکش کے پہاڑوں پر سرسبز پائے کا وسیع میدان اپنے اندر سیاحوں کو کھینچنے کی زبردست کشش رکھتا ہے۔
نمبر 7: دیوسائی ہے۔ ہمالیہ کے دامن میں واقع دیوسائی دنیا کا سب سے بلند اور اپنی نوعیت کا واحد پہاڑی میدان ہے جو اپنے کسی بھی مقام پر 4000 میٹر سے کم بلند نہیں
۔نمبر 8: دریائے چناب کے کنارے پنجاب کا دیہی چہرہ ہے۔
نمبر 9: مبارک ولیج، کراچی ہے۔
نمبر 10: سفید محل، سوات ہے۔
نمبر 11: کیرتھر کا خطہ ہے۔ اس خطے کی تاریخ اتنی بھرپور ہے کہ ہر ایک وقت کی بھول بھلیوں میں گم ہوجاتا ہے، یہاں متعدد چوٹیوں پر مشتمل پہاڑی سلسلہ بلوچستان اور سندھ کے درمیان ایک قدرتی سرحد بناتا ہے جن میں گورکھ ہل ، کٹے جی قبر اور بندو جی قبر نمایاں ہیں۔

نمبر 12: ایون اور وادی بمبوریت ہے۔ ایون ضلع چترال کا ایک گاﺅں ہے جو چترال شہر کے جنوب میں بارہ کلومیٹر کے فاصلے پر دریائے بمبوریت کے سنگم پر واقع ہے۔
نمبر 13: گانچھے ہے۔ سنگلاخ نوکیلے پہاڑوں، بہتے نیلگوں پانیوں، بلندی سے گرتی آبشاروں کی یہ سرزمین قدرتی و انسانی حسن سے مالا مال ہے۔
نمبر 14: بہاولپور ہے۔ پنجاب کی سابقہ ریاست بہاولپور تاریخی عمارات، یادگاروں اور باغات کے خزانے کی مالک ہے جن کے بارے میں آپ نے کبھی سنا بھی نہیں ہوگا۔
نمبر 15: گورکھ ہل ہے۔ برفباری اور سندھ میں ۔ سننے میں تو یہ کافی افسانوی سا لگے گا، مگر یہ صوبہ سندھ میں ایک مقام ایسا ہے جہاں موسم سرما میں حقیقت میں برفباری ہوتی ہے۔
نمبر 16: رنی کوٹ ہے۔ 26 کلومیٹر رقبے پر پھیلا ہوا یہ دنیا کا سب سے بڑا قلعہ ہے، مگر اس کے باوجود حکام یہاں سیاحت کو فروغ دینے میں ناکام رہے ہیں۔
نمبر 17: کوئٹہ کے قریب زیارت ہے۔ نمبر 18: لاڑکانہ کے قریب موہن جوڈرو ہے۔
نمبر 19: کراچی کے قریب بلوچستان کا گڈانی ہے۔
نمبر 20: گوادر ہے۔ اس کے علاوہ بھی بے شمار مقامات اور علاقے ایسے ہیں جن سیر و تفریح کرنی چاہیے۔
قرآن پاک میں سورئہ عنکبوت کی آیت نمبر 20 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
”کہو کہ: ”ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ اللہ نے کس طرح مخلوق کو شروع میں پیدا کیا، پھر اللہ ہی آخرت والی مخلوق کو بھی اُٹھا کھڑا کرے گا۔ یقینا اللہ ہر چیز پر قادر ہے ۔“

0 Reviews
Blogs, Vlogs iGreen Bottom Image