پاکستان کی تلاش میں

  •   0
  •   Tauseef Anwar
  •   0
  •   577
پاکستان کی تلاش میں

سیروسیاحت Tourism

جب بھی سیروسیاحت کا نام آتا ہے تو عام طور پر لوگوں کے ذہن میں سرسبز پہاڑوں، برف پوش چوٹیوں اور ٹھنڈے موسم کا تصور ابھرتا ہے۔ ایسا ہر جگہ نہیں بلکہ ہمارے ہاں ایسا تصور پایا جاتا ہے کہ سیاحت تو صرف ”پربت کی اور“ ہوتی ہے۔ جبکہ سیاحت تو سیاحت ہوتی ہے۔ یہ ہر طرف ہوتی ہے۔ یہ دیکھنے والے کی نظر میں ہوتی ہے۔ویسے بھی دیکھنے والے بھیڑ میں چھپی تنہائی اور تنہائی میں چھپا ہجوم دیکھ لیتے ہیں۔ گو کہ فی الحال ہمارا شمار ان ”دیکھنے والوں“ میں نہیں ہوتا اور کل تو کسی نے دیکھا ہی نہیں۔ بہرحال اب تک ہم نے بھی زیادہ تر ”پربت“(شمال) کا ہی رخ کیا لیکن ایک پرانی خواہش کو پورا کرنے کے لئے ان شاء اللہ اب کی بار ”دکھن“(جنوب) کا رخ کر رہا ہوں۔ اجی یہ مشرق اور مغرب تو کسی اور کے لئے ہوں گے۔ ہمارے ملک کا ”نقشہ“ ہی کچھ ایسا ہے کہ ہمیں صرف شمال اور جنوب ہی ملتے ہیں۔ اب دیکھنے والے تو آخرالذکر دو فقروں میں بھی بہت کچھ دیکھ لیں گے۔

سیاحت میرا پرانا شوق ہے، گو کہ یہ شوق اس حد تک پورا نہیں ہو سکا جیسا چاہتا تھا۔ میٹرک تک تو باقیوں کی طرح ہم بھی بچے ہی تھے۔ ہائی سکول کے دور میں تو کسی قسم کی سیاحت جرم شمار ہوتی۔ غلطی سے ایک دفعہ ہم تفریح کے وقت تفریح کرنے کے شوق میں گھر آ گئے تو دوسرے دن ہماری اچھی بھلی ”سیاحت“ ہو گئی۔ وہ کیا ہے کہ تب ”مار نہیں پیار“ نامی چڑیا نہیں ہوا کرتی تھی۔ ویسے اس چڑیا کے نہ ہونے کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ مار کے ڈر سے ہم میٹرک پاس کر گئے، ورنہ کہاں میٹرک اور کہاں ہم جیسا ”سیاح“۔ خیر اِدھر ”سکولی جیل“ سے رہا ہوئے اور اُدھر ہر اہم موقعے پر دوستوں کی منت سماجت کرتے پائے جاتے کہ چلو یار کہیں گھومنے چلیں۔ تب ہماری سیاحت نزدیکی علاقوں تک محدود رہی۔ گو کہ ہم خود کو جوان سمجھتے تھے اور ان علاقوں سے آگے جانے پر ہمارے پَر تو نہیں جلتے تھے مگر ابوجان کا خیال تھا کہ ہم ابھی بچے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ جب فلاحی کاموں کے سلسلے میں بالاکوٹ تک پہنچ گئے تو تب تک ہم جوان ہو چکے تھے۔ اگلے ہی سال چند دوستوں کے ساتھ موٹر سائیکلوں پر وادی ناران کاغان جا پہنچے۔ گو کہ موٹر سائیکل پر پہلے مری تک گئے تھے لیکن اب کی بار ذرا لمبا سفر کر ڈالا تو ہمارے برگر کزنوں نے ہمیں پاگل گردانا۔ کزنوں کی بات شائد ٹھیک ہو لیکن اس شوق کا کیا کرتے جو ہمیں بیٹھنے نہیں دے رہا تھا۔ ہم نے اپنا معصوم سا ستر سی سی موٹر سائیکل ان پہاڑوں پر چڑھایا جہاں موٹر سائیکل دیکھ کر لوگ حیران ہوئے۔ حیران اس لئے کہ ان کا خیال تھا کہ کم از کم ستر سی سی یہاں نہیں پہنچ سکتا، پھر بھی جیسے تیسے کر کے پہنچ بھی جائے تو اتنا سامان لاد کر نہیں پہنچ سکتا۔ بہرحال ہم ٹھہرے ”پاگل“ اور پاگل سے کچھ بھی بعید نہیں ہوتا۔ ویسے بھی پاکستان میں ”پاگلوں“ کی شدید قلت ہے۔ چلو ہماری وجہ سے کچھ قلت کم تو ہوئی۔ :-)

ہمارے کئی دوست سیاحت کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن آ جا کر وہ بھی پہاڑوں میں ہی جانے کا سوچتے ہیں۔ کئی دوست تو یہ سوچتے ہیں کہ سیاحت بھی ہو اور کوئی تردد بھی نہ کرنا پڑے۔ اب انہیں یہ کون سمجھائے کہ یہاں وراثت میں وزارت تو مل سکتی ہے لیکن ”زیارت“ نہیں۔ قدرت کے نظارے گھر بیٹھے تھوڑی ملتے ہیں۔ ڈھونڈنے نکلیں گے تو ہی ”نشانیاں“ ملیں گی۔ خیر ہم نے دوستوں کے ساتھ پربت کی اور دو چار سفر کیے۔ تھوڑی بہت ٹریکنگ اور کیمپنگ بھی کی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ میں ٹریکنگ کے معاملے میں اپنے دیگر دوستوں کی نسبت نہایت گیا گزرا ہوں، پہاڑ چڑھتے ہوئے سب سے زیادہ رکتا اور سب سے پیچھے رہ جاتا ہوں، لیکن پھر بھی مجھے مہماتی سیاحت کا شوق ہے۔ جیسے ”جنگل ہے، آدھی رات ہے، لگنے لگا ہے ڈر۔“ :-)

Mountains Places for visiting in Pakistan

لگتا ہے کہ اب ہمارے سر پر جو منڈلا رہا ہے، وہ کھونٹے سے بندھنے کا سایہ ہے اور سنا ہے کہ اس کے نتائج ”بھیانک“ بھی ہو سکتے ہیں۔ اس لئے سوچا کہ کل کسی نے نہیں دیکھا لہٰذا آج آزادی سے گزار لیا جائے۔ اب اس آزادی میں ”قیدی دوست“ میرا ساتھ تھوڑی دے سکتے ہیں۔ اس لئے اب کی بار اکیلا سیاحت پر نکل رہا ہوں۔ اب اس سب سے ہرگز یہ نہ سوچیئے کہ ہمارا کسی قسم کا کوئی لین دین ابن بطوطہ سے ہے۔ :-)

بات کہاں کی کہاں نکل گئی۔ کہہ تو میں یہ رہا تھا کہ ہم بھی سیاحت کے لئے پربت کا ہی رخ کرتے تھے لیکن اس دفعہ فیصلہ کیا ہے کہ پہلے دکھن (جنوب) کی طرف نکلا جائے اور اس کے بعد دوسری اطراف۔ یہ میرا پرانا شوق ہے کہ کم از کم اپنا پیارا وطن اور اس میں موجود تہذیب و ثقافت ساری نہیں تو تھوڑی بہت ہی دیکھ لوں۔ کسی سیانے نے کہا ہے کہ کتابوں میں پڑھ کر یا کسی سے سن کر تم کسی چیز کو ”جانتے“ ہو جبکہ خود دیکھ کر اسے ”پہچانتے“ ہو۔ ہم نے بھی آج تک کتابوں میں پڑھا، اِدھر اُدھر سے سنا اور پھر صرف ”جانا“ ہے۔ اب کیوں نہ خود قریب جا کر دیکھا جائے، ”پاکستان“ کی تلاش میں نکلا جائے۔ پہلے اس شوق کے راستے میں کبھی کوئی مجبوری آ جاتی تو کبھی ملکی حالات۔ اب مزید انتظار نہیں بلکہ اب تو اس شوق کے ساتھ ساتھ ایک اور بات کا اضافہ ہو چکا ہے۔ وہ یہ کہ اس سفر کے دوران کچھ انٹرنیٹی اور بلاگر دوستوں کو بھی ملنا ہے۔ کئی دیگر شہروں کے ساتھ ساتھ کراچی سے بہت ہی پیارے دوست ایک عرصے سے کراچی بلا رہے ہیں اور میں ہر دفعہ یہی کہتا رہا کہ بہت جلد آتا ہوں۔ اس بہت جلد کے آنے میں بھی سال بیت گئے۔ ویسے مجھے انٹرنیٹی اور بلاگر دوستوں سے بالمشافہ ملاقات بڑی اچھی لگتی ہے۔ وہ جو پہلی دفعہ ملتے ہی ایسے لگتا ہے جیسے ہم پہلے بھی کئی دفعہ مل چکے ہیں اور ہماری برسوں سے دوستی ہے، یہ احساس مجھے بڑا پیارا لگتا ہے۔

Tourism In Pakistan

خیر امید ہے کہ اللہ تعالیٰ میرا یہ سفر خیروعافیت سے مکمل کرے گا۔ کافی حد تک تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں اور ان شاء اللہ جلد ہی سفر شروع کروں گا۔ اس سفر میں لاہور، ملتان، بہاولپور، چولستان، رحیم یارخان اور سکھر کے راستے کراچی تک جانے کا ارادہ ہے۔ سفر کے دوران مختلف مقامات بھی دیکھوں گا، پھر سمندر کی بے مہار لہروں کو چھونے کے بعد اگر سب اچھا رہا تو کوئٹہ اور اس کے بعد پربت کی طرف سفر میں پشاور اور دیگر شمالی علاقہ جات۔ ایک تو یہ سب ایک ہی سفر میں ممکن نہیں یا کافی مشکل اور وقت طلب ہے اور دوسرا کچھ فیصلے حالات کریں گے کہ آیا اسی ترتیب سے مزید سفر جاری رکھا جائے یا اس میں ترمیم کی جائے۔ بہر حال فی الحال تو نکل رہا ہوں باقی جو میرے اللہ کی مرضی۔ آپ سب سے دعاؤں کی خصوصی درخواست ہے۔ مزید اپنے مشوروں سے نوازیں گے تو یہ سونے پر سہاگہ ہو گا۔ سفر کے متعلق کوئی بات وغیرہ یا کوئی ایسا علاقہ جو دیکھنے سے تعلق رکھتا ہو اور آپ کے پاس اس کے بارے میں معلومات ہو تو ضرور بتائیے۔ آپ یہاں تبصرے کے ذریعے بھی بتا سکتے ہیں اور اگر یہاں نہ بتانا چاہیں تو فیس بک پر پیغام بھیج سکتے ہیں۔ باقی کوشش ہو گی کہ سفر کا احوال ساتھ ساتھ لکھتا رہوں اور آپ کو مختلف علاقے بذریعہ تصاویر دیکھاتا رہوں۔ ہو سکے تو دعاؤں میں یاد رکھیئے گا۔

سے لیا گیا ہے http://www.mbilalm.com یہ بلاگ

0 Reviews
Blogs, Vlogs iGreen Bottom Image