پاکستان کی انوکھی جمہوریت

  •   0
  •   Tauseef Anwar
  •   0
  •   571
پاکستان کی انوکھی جمہوریت

اللہکے نام سے ابتدا، جو مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔ وہ دلوں کے بھید خوب جانتا ہے۔

کہتے ہیں کہ پاکستان میں جمہوریت ہے جبکہ میرے خیال میں یہاں جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں، اگر کہیں ہے بھی تو وہ صرف آٹے میں نمک کے برابر۔ اس میں حیران ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ پاکستان کے موجودہ نظام پر غور کریں تو یہ بات کھل کر سامنے آ جاتی ہے۔ جمہوریت میں عوام کی اکثریت کی رائے کا احترام کیا جاتا ہے جبکہ ہمارے ہاں ایسا کچھ نہیں۔ چند مثالیں دیتا ہوں، تھوڑا سا غور کیجئے گا۔

کیسی عجیب بات ہے کہ الیکشن 2013ء میں کل 14.8 ملین ووٹ لے کر مسلم لیگ نون کو قومی اسمبلی میں 126 نشستیں (سیٹس) ملتی ہیں جبکہ مسلم لیگ نون کے کل ووٹوں کے آدھے سے بھی تھوڑے زیادہ یعنی 7.6ملین ووٹ لے کر تحریک انصاف کو صرف 28 نشستیں ملیں۔ اگر پاکستانی قوم کی رائے اور تناسب دیکھیں تو پھر تحریک انصاف کی کم از کم مسلم لیگ نون سے آدھی نشستیں ہونی چاہئیں۔ لیکن اس عجب نظام میں ایسا ہے نہیں۔ مزید غور کریں کہ ان دونوں جماعتوں سے بھی کم یعنی 6.9ملین ووٹ لے کر پیپلز پارٹی کو 32 نشستیں ملیں۔ حیرانی کی بات ہے کہ پیپلز پارٹی کے تحریک انصاف سے ووٹ کم، مگر نشستیں زیادہ ہیں۔ پیپلزپارٹی کی نسبت پاکستانیوں کی زیادہ تعداد تحریک انصاف کو پسند کرتی ہے مگر نشستیں پیپلزپارٹی کی زیادہ ہیں۔

پارٹی کل ووٹ نشستیں
پاکستان مسلم لیگ نون 14.8 ملین 126
پاکستان تحریک انصاف 7.6 ملین 28
پاکستان پیپلز پارٹی 6.9 ملین 32



مزید حیرانی تب ہوئی جب ایک پارٹی ”متحدہ دینی محاذ“ کو مختلف حلقوں سے تقریباً ساڑھے تین لاکھ ووٹ ملے لیکن ان کا ایک بھی رکن قومی اسمبلی تک نہ پہنچ سکا یعنی ساڑھے تین لاکھ لوگوں کی رائے کو فراموش کر دیا گیا جبکہ قومی وطن پارٹی (شیرپاؤ) کو تقریباً سنتالیس ہزار ووٹ ملے اور ان کا ایک رکن قومی اسمبلی تک پہنچ گیا۔ واہ جی واہ کیا خوب نظام ہے کہ ساڑھے تین لاکھ لوگوں کا کوئی نمائندہ نہیں جبکہ سنتالیس ہزار کا نمائندہ ہے۔ جب بات پورے ملک کی ہے، جب نمائندگی پوری قوم کی ہے اور جب نتیجہ میں بننی ”قومی“ اسمبلی ہے تو پھر یوں حلقے بنا کر یعنی قوم کو چھوٹے چھوٹے غیرمتوازن گروہوں میں تقسیم کر کے الیکشن نہیں کروائے جاتے، کیونکہ اس طرح برابری کی سطح پر قوم کی رائے کا احترام نہیں ہوتا بلکہ وہی ہوتا ہے جس کا پہلے ذکر کیا ہے۔ جب بات پوری قوم کی ہو تو پھر متناسب نمائندگی ہوتی ہے۔

آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے اور نظام میں خرابی کہاں ہے؟ اس کو سمجھنے کے لئے مثال کے طور پر فرض کریں کہ پاکستان کی قومی اسمبلی کی تین حلقے (نشستیں) ہیں۔ ہر حلقے میں کل تیس تیس ووٹ ہیں۔ ان حلقوں میں مسلم لیگ، تحریک انصاف اور پی پی مدِمقابل ہیں۔ الیکشن ہوتا ہے اور پہلے حلقے میں مسلم لیگ کو 12، تحریک انصاف کو 10 اور پی پی کو 8 ووٹ ملتے ہیں۔ یوں پہلے حلقے سے مسلم لیگ جیت گئی۔ دوسرے حلقے میں مسلم لیگ کو 2، تحریک انصاف کو 13 اور پی پی کو15 ووٹ ملتے ہیں۔ یوں دوسرے حلقے سے پی پی جیت گئی۔ تیسرے حلقے میں مسلم لیگ کو 11، تحریک انصاف کو 10 اور پی پی کو 9 ووٹ ملتے ہیں۔ یوں تیسرے حلقے سے مسلم لیگ جیت گئی۔ اب نتیجہ یہ ہے کہ مسلم لیگ کی دو اور پی پی کی ایک نشست ہے جبکہ تحریک انصاف کی ایک بھی نشست نہیں۔ یہ معاملہ اتنا سیدھا بھی نہیں۔ ذرا پورے ملک کی عوام کی رائے تو دیکھیں، پھر پتہ چلے گا کہ عوام نے سب سے زیادہ کس کو پسند کیا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مسلم لیگ کو کل 25، تحریک انصاف کو 33 اور پی پی کو 32 ووٹ ملے ہیں۔ عوام کی رائے کچھ اور کہہ رہی ہے جبکہ ملنے والی نشستیں کچھ اور۔

پارٹی پہلے حلقے کے ووٹ دوسرے حلقے کے ووٹ تیسرے حلقے کے ووٹ کل ووٹ کل نشستیں
مسلم لیگ 12 2 11 25 2
تحریک انصاف 10 13 10 33 0
پیپلز پارٹی 8 15 9 32 1

حیرانی والی کوئی بات نہیں جی۔ ہمارا نظام ہی اتنا عجیب ہے کہ جسے عوام نے سب سے کم پسند کیا وہ اسمبلی میں سب سے زیادہ نشستیں لے گیا اور جسے سب سے زیادہ پسند کیا اسے ایک بھی نشست نہ ملی۔ یہ صرف مثال دی ہے تاکہ آپ کو اندازہ ہو سکے کہ کیسے ساڑھے تین لاکھ لوگوں کا ایک بھی نمائندہ اسمبلی میں نہیں پہنچتا اور دوسری طرف سنتالیس ہزار کا نمائندہ پہنچ جاتا ہے۔ ایک دفعہ پھر کہوں گا کہ جب بات پوری قوم کی ہو تو متناسب نمائندگی بھی ہونی چاہئے، نہ کہ کھوکھلا اور فرسودا نظام جسے ہمارے ہاں جمہوریت کا نام دے دیا گیا ہے جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اس نظام کو جمہوریت نہیں بلکہ کچھ اور ہی کہیں گے۔ مختلف چھوٹے بڑے حلقے بنا کر انتخابات کرانے کے نظام کی صرف یہی ایک خرابی نہیں کہ عوام کی متناسب نمائندگی نہیں ہوتی اور کم ووٹ لینے والا زیادہ نشستیں حاصل کر جاتا ہے بلکہ اس نظام میں لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد کی رائے کو ضائع کر دیا جاتا ہے۔ مثلاً ایک امیدوار 20 ووٹ لیتا ہے اور دوسرا امیدوار 21 لے کر جیت جاتا ہے۔ یوں ہارنے والے امیدوار کے 20 ووٹ ضائع ہو جاتے ہیں یعنی 20 لوگوں کی رائے کا ذرہ برابر بھی مول نہیں۔ اسی بنا پر زمینی حقائق یوں بن چکے ہیں کہ لوگ، خاص طور پر دیہاتی لوگوں کی اکثریت نئے امیدواروں کو ووٹ اسی لئے نہیں دیتے کہ اس نے کونسا جیتنا ہے، اس لئے اسے ووٹ دے کر ووٹ ضائع نہ کیا جائے۔ پاکستان الیکشن 2013ء میں یہ بات میں نے بہت زیادہ لوگوں سے سنی ہے کہ فلاں بندہ تو بہت اچھا ہے اور ووٹ کا حقدار بھی ہے مگر وہ ”سردار صاحب“ سے جیت نہیں سکتا اس لئے اسے ووٹ دے کر ضائع نہ کریں۔

میری سوچ (جو کہ غلط بھی ہو سکتی ہے) کے مطابق جب بات قوم کی نمائندگی کی ہو تو متناسب نمائندگی ہونی چاہئے یعنی جو جتنے فیصد عوام کا ووٹ حاصل کرے اسے قومی اسمبلی میں اتنے فیصد نشستیں ملیں۔ یوں ایک ایک ووٹ کا مول پڑے گا، ووٹ ضائع نہیں ہوں گے۔ اس کی تفصیل یوں سمجھیں۔ فرض کریں قومی اسمبلی کی کل 50 نشستیں ہیں۔ اب فی نشست 2فیصد ووٹ بنتے ہیں۔ لہٰذا پورے ملک سے جو بھی 2فیصد ووٹ لے گا اسے ایک نشست مل جائے گی۔فرض کریں کہ ایک پارٹی 40 فیصد ووٹ حاصل کرتی ہے تو اسے 20 نشستیں مل جائیں گی۔

اس متناسب نمائندگی والے نظام کے ذریعے کئی مسائل سے جان چھوٹ جائے گی۔ جیسے کوئی جیئے یا مرے، پارٹی چھوڑے نہ چھوڑے، یہ سب پارٹی کے ذمہ ہو گا اور یوں ضمنی انتخابات وغیرہ کا جھنجٹ ختم ہو جائے گا اور قوم کا جو پیسا ضمنی انتخابات پر برباد ہوتا ہے اس کی بچت ہو گی۔ یہاں دو سوال پیدا ہوتے ہیں، ایک یہ کہ پارٹی کن کو اور کیسے منتخب کر کے اسمبلی میں بیٹھائے گی اور دوسرا یہ کہ آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے والے کدھر جائیں گے؟ ان دونوں سوالوں پر پھر کبھی تفصیل سے بات کریں گے فی الحال یہی کہوں گا کہ پارٹی اسمبلی کے لئے اپنے ارکان منتخب کرنے کے لئے باقاعدہ ”انٹرا پارٹی الیکشن“ کروائے اور اس کی نگرانی بھی الیکشن کمیشن کرے۔ ویسے پارٹیاں بھی کسی کی جاگیر نہیں ہونی چاہئیں یعنی ایسا نہ ہو کہ باپ کے بعد بیٹا سربراہ بن بیٹھے یا سربراہ سیاہ و سفید کا مالک ہو وغیرہ وغیرہ۔ مزید آزاد حیثیت سے الیکشن میں حصہ لینے والے سوال پر عرض ہے کہ خدا کے بندو! کوئی ایک طریقہ اپناؤ۔ پارٹی سسٹم رکھو یا انفرادی۔ ویسے اگر کمپیوٹرائزڈ قسم کا الیکشن ہو تو پھر آزاد امیدوار بھی حصہ لے سکتے ہیں۔ نہیں تو آزاد امیدواروں کی صورت میں بیلٹ پیپر پوری ایک کتاب بن کر رہ جائے گا۔

ہمارے ہاں کچھ لوگ ایک خاص انداز میں بھی سوچتے ہیں۔ اس انداز کی وضاحت ایک مثال سے کرتا ہوں۔ فرض کریں مسلم لیگ کو 12، تحریک انصاف کو 10 اور پی پی کو 8 ووٹ ملے۔ یوں مسلم لیگ جیت گئی۔ لیکن دیکھا جائے تو مسلم لیگ کو 12 لوگوں نے پسند کیا ہے جبکہ 18 لوگوں نے مسلم لیگ کو ناپسند کرتے ہوئے دوسری پارٹیوں کو ووٹ دیا ہے۔ اب یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ پسند کرنے والے تھوڑے اور ناپسند کرنے والے زیادہ ہوں اور تب بھی وہ پارٹی جیت جائے؟ یہ ایک انوکھا اندازِسوچ تو ہے لیکن ادھورہ ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہم نے جیت کا پیمانہ کیا رکھنا ہے؟ آیا یہ دیکھنا ہے کہ ”زیادہ پسند“ کس کو کیا گیا یا ”کم ناپسند“ کس کو کیا گیا؟ دوسری بات یہ ہے کہ چاہے کوئی بھی پیمانہ رکھو، بات ایک ہی ہے۔ چلیں اسی مثال کی جدول کی مدد سے پسند اور ناپسند کی تفصیل دیکھتے ہیں۔

پارٹی پسند نا پسند یعنی مخالف
مسلم لیگ 12 18
تحریک انصاف 10 20
پیپلز پارٹی 8 22


اب ہم کوئی بھی پیمانہ رکھیں تو تب بھی مسلم لیگ ہی جیتے گی۔ پسند والا پیمانہ رکھیں تو دوسری پارٹیوں کی نسبت مسلم لیگ کو زیادہ لوگ پسند کرتے ہیں۔ اگر ناپسند والا پیمانہ رکھیں تو سب سے کم مخالفت بھی مسلم لیگ کی ہے جبکہ دوسری پارٹیوں کی مخالفت تو مسلم لیگ سے بھی زیادہ ہے۔ البتہ دوسری پارٹیاں متحد ہو جاتی ہیں اور ان کا ووٹ بنک مل جاتا ہے تو تب ظاہر ہے کہ کسی بھی پیمانے سے پھر وہ متحد پارٹی ہی جیتے گی۔ بہرحال کچھ لوگوں کا یہ اندازِسوچ انوکھا تو ہے مگر ادھورہ ہے اور جب ہم اسے مکمل کرتے ہیں تو یہی بات سامنے آتی ہے کہ کان اِدھر سے پکڑو یا اُدھر سے، بات ایک ہی ہے۔ البتہ یہ پسند اور ناپسند والی کنفیوژن صرف تب ہی پیدا ہوتی ہے جب دو سے زیادہ پارٹیاں ہوں۔ اگر پارٹیاں (فریق) صرف دو ہی ہوں تو تب یہ کنفوژن بھی پیدا نہیں ہوتی۔

سے لیا گیا ہے http://www.mbilalm.com یہ بلاگ

0 Reviews
Blogs, Vlogs iGreen Bottom Image