پاکستان میں سولر انرجی کی اہمیت

سولر پینل ایک ایسی ڈیوائس ہے جو سورج کی روشنی کو بجلی میں تبدیل کر دیتی ہے ۔

بجلی کے اس شدید شارٹ فال سے پوری قوم ایک طرح کی اذیت میں مبتلا ہے۔ بجلی کے مسلسل بحران سے بہت ساری چھوٹی بڑی فیکٹریاں بند ہو چکی ہیں۔ اس خود ساختہ اذیت کی وجہ ے عوام نفسیاتی مریض بنتے جا رہے ہیں۔ اگر شمسی توانائی کے منصوبوں کا بر وقت آغاز کیا جاتا تو یقیناً آج پاکستان لوڈ شیڈنگ کے اس عذاب میں مبتلا نہ ہوتا۔ بجلی کے بحران سے نجات حاصل کرنے کے لئے ہمیں ہر سطح پر شمسی توانائی کے حصول کی ہر ممکن کوشش کرنا ہوگی۔ شمسی توانائی کے ذریعے بجلی حاصل کرنے کا طریقہ انتہائی سادہ اور ہر قسم کی آلودگی سے پاک ہے۔

شمسی توانائی کے ذریعے بجلی کے حصول کے لئے ہمیں صرف ایک مرتبہ سرمایہ کاری کرنا پڑتی ہے جبکہ کے اس سرمایہ کاری کے نتیجہ میں طویل المدت کے لئے بجلی کا مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی 10,000 کے مقابلہ میں سورج کی روشنی سے 36 گنا زیادہ توانائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ اور سب سے زیادہ خوش قسمتی کی بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں ، سال کے تقر یباً 300 دن، سورج توانائی میسر ہوتی ہے۔ سورج سے حاصل ہونے والی توانائی انسان کے پاس ایک ایسا خزانہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگا۔ اب ہم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم قدرت کی عطا کردہ اس نعمت سے کتنا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اگر ہم ملک اپنے ملک میں خوشحالی دیکھنا چاہتے ہیں تو اس کا بہترین حل یہ ہے، کہ ہمیں شمسی توانائی کی اہمیت کے شعور کو عام کرنا ہوگا۔ خاص طور وہ این جی اوز جو عوام کی فلاح وبہبود کیلئے کام کرتی ہیں ان کوشمسی توانائی کے حصول کیلئے عوام کی رہنمائی اور مدد کرنی ہوگی۔

سورج سے حاصل ہونے والی توانائی کسی بھی ملک کی معیشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اوراگرہم صرف یہ فیصلہ کر لیں کہ ہم نے پاکستان سے بجلی کے بحران کو جڑ سےختم کرنا ہے تو ایک دن ایسا آئے گا جب ہر گھر میں شمسی توانائی کے ذریعے بجلی پیدا کر نے کی سہولت موجود ہو گی۔

شمسی توانائی سے میری دلچسپی اس وقت زیادہ ہوئی جب بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے تنگ آ کر میں نے اپنے گھر کے پنکھے اور بلب کو سولر انرجی کے ذریعے چلانے کے بارے میں سوچا، سولر انرجی کے ذریعے یہ چیزیں چلانے پر کتنے اخراجات آئیں گے ،یہ معلومات حاصل کرنے کے لئے میں نے شہر کی محتلف دکانوں اور مارکیٹ کا سروے کیا۔ اس دوران مجھے جو معلومات حاصل ہوئیں بجائے اس کے کہ میرا کنسیپٹ کلیئر ہوتا۔ میری کنفیوژن میں مزید اضافہ ہو گیا۔ ہر دکاندار نے ایک نئی بات سنائی ، وہ تمام دوکاندار جو اس وقت سولر پینل کی خرید و فروخت کر رہے ہیں وہ بتاتے کچھ ہیں اور دیتے کچھ ہیں۔پھر میں نے شہر کے ہر بڑے ہول سیلر کے ریٹ اور انکے سولر پینلز اور دیگر اشیاءکی کوالٹی وغیرہ چیک کی۔ پوری مارکیٹ میں صرف ایک دو دکاندار ہی ایسے تھے جنہوں نے صاف اور کلیئر بات بتائی ۔ عین ممکن ہے کہ میری اس تحریر کو پڑھنے والے 90 فیصد افراد شائد اتنے بھاری اخراجات برداشت نہ کر سکیں جو سولر پینل سے انرجی حاصل کرنے کے لیے ادا کرنے پڑتے ہیں۔ اس بلاگ میں دی گئیں معلومات کا آپ کو یہ فائدہ ہوگا کہ جب آپ سولر پینل کی خریداری کریں گے تو کوئی آپ کو دھوکہ نہیں دے سکے گا۔ سولر انرجی سے بجلی حاصل کرنے کے لئے سولر پینل کے علاوہ اور بھی بہت سی اشیاءکی ضرورت پڑتی جن کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔
سولر پینل کا تعارف:-


سولر پینل ایک ایسی ڈیوائس ہے جو سورج کی روشنی کو بجلی میں تبدیل کر دیتی ہے ۔ ایک سولر پینل بہت سے مختلف چھوٹے چھوٹے سولر سیلز سے مل کر بنتا ہے ۔ اُن سولرسیلز کو ایک بڑی شیٹ پر لگا کر بجلی حاصل کی جاتی ہے۔ ایک سولر سیل صرف 0.5 وولٹ ہی پیدا کرتا ہے جبکہ سیل کے مختلف سائز کی وجہ سے ایمپیر کم یا زیادہ ہو جاتے ہیں۔ کسی بھی سولر پینل کے وولٹ معلوم کرنے کا فارمولا درج ذیل ہے۔ Watt divided by Ampere = Volts
سولر پینل کی ایک شیٹ پر جو چھوٹے سیلز لگے ہو تے ہیں ان کی تعداد کو گن کر بھی وولٹ معلوم کئے جا سکتے ہیں ۔0.5 وولٹ کا ایک سولر سیل آدھے واٹ کی بجلی بناسکتا ہے ۔تمام سولر پینل جو بجلی پیدا کرتے ہیں اُن کو واٹ میں شمار کیا جاتا ہے۔مثال کے طور پر اگر ہم 180 واٹ کا ایک بہترین سولر پینل لیتے ہیں تو اس سولر پینل سے 26 وولٹ حاصل ہوں گے اور وہ 6.9 ایمپیئر پیدا کرے گا۔ اب اس کی کیلکولیشن کا طریقہ کار یہ ہوگا
Volts x Ampares = Watts
اسی طرح اگر ہمیں وولٹ اور واٹ معلوم ہوں تو درج ذیل فارمولے کی مدد سے ہم ایمپیئر معلوم کر سکتے ہیں۔
Watt divided by Volts = Ampare
ظلم کی انتہا تو یہ ہے کہ پاکستان میں زیادہ تر لوگ لوکل سولر پینل کو جرمنی کا نام دے کر بیچ رہے ہیں۔

سولر پینل کی اقسام اور دوسری تیکنیکی معلومات:-


مونو کرسٹلائن (Mono-Crystalline):
مونو کرسٹلائن سولر پینل کی شناخت کا طریقہ کار یہ ہے کہ اس کی پلیٹ میں لگے سولر سیل کا رنگ کالا ہوتا ہے۔ پتلے ٹکڑے یا ویفر ، بلیک کلر کے ایک بڑے کرسٹل سیلیکان کو کاٹ کر یا اس کا پتلا سا مونو کرسٹلائن سیل بنا ہوا ہوتا ہے ۔ ان کی کار کردگی سب سے زیادہ ہوتی ہے ۔ اس کو بنانے پر سب سے زیادہ توانائی خرچ ہوتی ہے اور یہ پہلے پانچ سال تک سو فیصد رزلٹ دیتا ہے۔ اس کے بعد اس کی ایفیشینسی بتدریج کم ہوتی جاتی ہے ۔ مونوکرسٹلائن ان علاقوں کے لئے بہت زیادہ بہتر ہے، جہاں پر درجہ حرارت نسبتا تھوڑا ہوتا ہے۔
پولی کرسٹلائن (Poly-Crystalline):
پتلے سیلیکان کے ویفرز کو کاٹ کر پولی سٹلائن کو تیار جاتا ہے ۔ پولی کرسٹلائن میں بہت سارے کرسٹل آپس میں ملے ہوتے ہیں ۔ ان کی کارکردگی مونو کرسٹلائن کی نسبت کم ہوتی ہے۔ سائز کے اعتبار سے بھی پولی کرسٹلائن بڑے ہوتے ہیں۔ ایسے علاقے جو نسبتا ذیادہ گرم ہوتے ہیں جیسے فیصل آباد، لاہور، گجرات، بھاولپور، ملتان اور کراچی ان کے لئے پولی کرسٹلائن بہت مناسب ہیں اور پولی کرسٹلائن کا رنگ نیلا ہوتا ہیں اور اس میں دھوپ کی شدت کو برداشت کرنے کی صلاحیت مونو کرسٹلائن کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔
لوڈ(Load):
سولر پینل کی مدد سے آپ کو کتنی بجلی کا حصول درکار ہے اس کا طریقہ کار یہ ہے۔ سب سے پہلے وہ برقی آلات جو آپ UPS یا سولر پاور سسٹم سے چلانا چاہتے ہیں ان کو کلو واٹ فی گھنٹہ میں بیان کیا جاتا ہے ۔ اس کی مثال یوں ہے کہ اگر 3 پنکھے، 4 انرجی سیور چلانا ہوں تو اس کا لوڈ تقریباً 400 واٹ کے قریب بنتا ہے ۔ اس لوڈ کو معلوم کرنے کے لئے تمام برقی آلات جو آپ UPS یا سولر پینل پر چلانا چاہتے ہوں ، ان کی پاور واٹ میں جمع کر لیں۔
کارکردگی (Efficiency):


سولر پینل کی قیمت اس کی کارکردگی کے حساب سے بدلتی ہے ۔ جتنی کم کارکردگی ہوگی سولر پینل بھی اتنا ہی کم قیمت کا ہوگا ۔ سولر پینل کی کارکردگی سے مراد اس کی آوٹ پٹ پاور ہے۔ یعنی وہ کتنی out put (واٹ میں) پیدا کر سکتا ہے ۔ ایک مربع میٹر کے سولر پینل کا آؤٹ پٹ 1000 واٹ ہونا چاہیے لیکن کچھ وجوہات کی بنا پر ایسا نہیں ہوتا اور اس کی آوٹ پٹ بہت کم ہوجاتی ہے۔


یہی وجہ ہے کہ ہر سولر پینل میں اس کی کارکردگی بیان کی جاتی ہے یعنی وہ کتنے واٹ بجلی پیدا کر رہا ہے۔ کسی سولر پینل کی کارکردگی کا 10فیصد ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ایک ضرب ایک میٹر کا پینل 100واٹ تک آؤٹ پٹ مہیا کر رہا ہے۔ کارکردگی 20 فیصد ہونے کا مطلب یہ ہوا کہ ایک ضرب ایک میٹر کا پینل 200 واٹ تک آؤٹ پٹ مہیا کر رہا ہے لیکن عملی طور پر 10% سے 17% تک سولر پینل پائے جاتے ہیں ۔

0 Reviews
Blogs, Vlogs iGreen Bottom Image