پاکستانی نوجوان نسل

  •   0
  •   Naveed Khan
  •   0
  •   579
پاکستان میں نوجوانوں کی آبادی میں بہت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے

پاکستان میں نوجوانوں کی آبادی میں بہت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے ملک ایک بڑی تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی آبادی کا 60 فیصد 25 سال سے کم عمر کے نوجوانوں پر مشتمل ہے اور آنے والی اگلی ایک دہائی کے دوران یہ آبادی 70 فیصد سے بڑھ جائے گی۔ اس رپورٹ کا مطلب یہ ہوا کہ ملک میں نوجوان افراد کی ایک بڑی تعداد تعلیم اور مختلف مواقع کے انتظار میں ہے۔

یہ بات قابل غور ہے کہ کسی بھی قوم کی ترقی میں نوجوان نسل کے کردار کو بھلایا نہیں جا سکتا۔ نوجوانوں کی اہمیت کا اندازہ کرتے ہوئے دنیا کے بہت سے ترقی یافتہ اور ترقی پزیر ممالک ان کی صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے انہیں معیاری تعلیم اور مواقع فراہم کرنے مدد کر رہی ہیں۔ یہ یہ پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ پاکستان اپنے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو بنیادی تعلیم تک فراہم کرنے سے قاصر رہا ہے۔ مثال کے طور پر مختلف رپورٹس سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ اس وقت پاکستان میں قریباََ 25 ملین سے زائد بچے بنیادی تعلیم سے محروم ہیں۔

اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو ملینیم ڈیولپمنٹ گول کے اہداف کے حصول میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان ملینیم گول میں یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ 2015 تک تمام بچوں کو پرائمری تک کی بنیادی تعلیم دلوائی جائے گی۔ دوسری طرف ہمارے ہمسایہ ممالک جیسے کہ سری لنکا، بنگلہ دیش اور بھارت اس ہدف کو کافی حد تک حاصل کر چکے ہیں۔

پاکستان کا اس ہدف میں ناکامی کا مطلب یہ ہے کہ آنے والے چند سالوں میں ملک میں ناخواندہ، غیر ہنرمند اور بیروزگار نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ہو گی۔ اس کے نقصانات کا اندازہ کرنا بہت مشکل ہے۔ ہماری نوجوان نسل کو بنیادی تعلیم کے حصول میں بہت سی رکاوٹیں ہو سکتی ہیں۔ میرے خیال میں سب سے اہم رکاوٹ ہماری حکومتوں کی تعلیم کی طرف توجہ کی کمی ہے۔

یہ سچ ہے کہ تعلیمی قوانین اور پالیسیاں بنائی ضرور جاتی ہیں لیکن ان پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا ہے۔ پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں ملک بھر میں ایجوکیشن ایمرجنسی کا اعلان کیا گیا لیکن بعد میں کچھ پتہ نہ چل سکا کہ اس اعلان سے تعلیم کے میدان میں کیا تبدیلی آئی۔ اور کچھ رپورٹس کے مطابق پچھلے سالوں میں ہماری تعلیم بہتری کی بجائے نقصان کی طرف جا رہی ہے۔ اٹھارویں ترمیم میں کیا گیا کہ تعلیم کا شعبہ صوبوں کے ذمہ ہے۔ لیکن صوبوں کے پاس کوئی واضح پالیسی اور قانون نہ ہونے کی وجہ سے آج بھی تعلیم کے حوالے سے ہر صوبہ بہت سی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ملک میں سرکاری سکولوں کی حالت زار دن بدن زبوں حالی کی طرف جا رہے ہے۔ جس کی وجہ سے سکول میں نہ پڑھنے والے بچوں کی تعداد میں آۓ روز اضافہ ہو رہا ہے۔

ایک قوم کی حثیت سے ہمیں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو معیاری تعلیم اور بہترین مواقع فراہم کیے بغیر دنیا کے کسی بھی میدان میں ترقی کرتا نہیں دیکھ سکتے۔ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ ہمارے ملک کے مستقبل کا دارمدار ایک تعلیم یافتہ اور ہنر مند نوجوان افراد پر ہی منحصر ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان کو دوسرے ممالک سے سیکھنے کی بہت ضرورت ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنی نوجوان نسل پر توجہ دی اور اپنے ملک کو ترقی یافتہ ممالک کی دوڑ میں شامل کیا۔ مثال کے طور پر 1970 کی دہائی میں ملائشیا کی آبادی بھی ہماری طرح نوجوانوں کے بڑے حصے پر مشتمل تھی۔ لیکن ہمارے بر عکس ملائشیا نے قومی ترقی میں نوجوانوں کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے بہترین اور اعلی تعلیمی اور سماجی مواقع فراہم کئے کہ دو دہائیوں کے اندر اندر ملائشیا ایشین ٹائیگر بن گیا۔ لہٰذا نوجوان نسل کو اپنا اثاثہ سمجھتے ہوئے پاکستان کو بھی اسی طرح کے سنجیدہ اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے جن سے نوجوان نسل کی صلاحیت کو ملکی ترقی کے لئے بروئے کار لا سکے۔

سب سے پہلے حکومت پاکستان کو تعلیم کی موجودہ بگڑتی ہوئی صورت حال کو سمجھتے ہوئے تعلیم کے حوالے سے ایک پر عزم اور مخلصانہ قوانین بنانے کی ضرورت ہے۔ دوسرے نمبر پر عوامی سطح پر ایک ملک گیر تعلیمی آگاہی مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ جس میں ذرائع ابلاغ سب سے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تیسرا یہ کہ حکومت اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے درمیان تعلیم کے حوالے سے ایک با مقصد اور بامعنی تعاون اور اشتراک قائم کرنے کی اہم ضرورت ہے۔

مزید یہ کہ تعلیم کے نظام میں ایک ایسا موثر نگرانی کا نظام لانے کی ضرورت ہے جو تعلیم کی ترقی پر مسلسل نظر رکھتے ہوئے تعلیم کی بہتری کے لیے اقدامات کر سکے۔ ہمارے ملک میں اس وقت باصلاحیت نوجوانوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ اس لئے انہیں قومی اثاثہ سمجھتے ہوئے معیاری تعلیم اور مواقع فراہم کر کے ملک و قوم کی ترقی میں ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ اور اگر حالات ایسے ہی رہے تو یہ قیمتی اثاثہ اگر ناخواندہ اور غیر ہنر مند رہا تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے وبال جان بھی بن سکتا ہے۔

0 Reviews
Blogs, Vlogs iGreen Bottom Image