پاکستانی خواتین کے خوف

خواتین تین روز کے لیے بھی کام چھوڑ دیں تو پورے ملک کا دیوالیہ نکل جائے۔

گھر کی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ پاکستانی خواتین کو فیکٹریوں، اینٹوں کے بھٹوں اور کھیتوں میں بھی کام کرنا پڑتا ہے۔ اُنہیں اُن کھیتوں پر کام کرنے کا کوئی بھی معاوضہ نہیں ملتا، جو اُن کے اپنے خاندان کی ملکیت ہوتے ہیں۔ کھیت کسی اور کے ہوں تو بھی اُنہیں ملنے والا معاوضہ یا تو خاندان کی کُل کمائی کا حصہ بن جاتا ہے یا پھر سیدھا گھر کے مردوں کی جیبوں میں چلا جاتا ہے۔

پاکستان کے کچھ دیہی اور پسماندہ علاقوں میں خواتین کی حیثیت ایسے غلاموں کی سی ہے، جنہیں صرف کھانے اور پہننے کو ہی دینا پڑتا ہے۔ اس کے برعکس شہری علاقوں میں ملازمت پیشہ خواتین کو بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جن میں جنسی طور پر پریشان کیے جانے سے لے کر تنخواہوں میں امتیازی سلوک تک شامل ہیں۔


ایک بچی ملالہ یوسف زئی نے لڑکیوں کی تعلیم کے لیے مہم چلائی، طالبان کی نفرت کا نشانہ بنی اور اپنی کوششوں کے بدلے میں دنیا نے نوبل انعام سے نوازا۔
ریحانہ ہاشمی لاہور میں پنجاب یونیورسٹی سے وابستہ سیاسی امور کی ایک ماہر ہیں۔ اُن کے خیال میں جو شہری خواتین کو ملازمت کی اجازت حاصل کرلیں اور وہ پُرکشش تنخواہیں بھی گھر لے آئیں تب بھی اُنہیں گھر کے فیصلوں میں انہیں شرکت کا حق نہیں ملتا۔

امریکا میں قائم اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشن سے وابستہ سماجی کارکن فوزیہ نقوی پاکستان میں ترقی اور اقتصادی متبادلات کا انسٹیٹیوٹ چلاتی ہیں۔ اُن کے مطابق بھی پاکستانی خواتین کے کام کی زیادہ قدر نہیں کی جاتی:’’جبکہ کروڑوں خواتین گھر چلاتی ہیں لیکن اُن کے اس کام کو بلکل کام نہیں سمجھا جاتا۔ یہ خواتین تین روز کے لیے بھی کام چھوڑ دیں تو پورے ملکملک کا دیوالیہ نکل جائے۔ تب انہیں خواتین کی اقتصادی اہمیت کا احساس گا۔‘‘

0 Reviews
Blogs, Vlogs iGreen Bottom Image