ٹیوٹا اے ای روزگار پروگرام

  •   0
  •   Afi Sindhu
  •   0
  •   296
ٹیوٹا کی طرف سے نوجونوں کے لیے اے ای روزگار پروگرام شروع کیا جا رہا ہے

نوجونوں کے لیے اے ای روزگار پروگرام:(E-Rozgaar Training Program for Youth)

پاکستان میں بےروزگاری کی شرح کو کم کرنے کے لیے ٹیوٹا اے ای روزگار پروگرام کے ذریعے 4000 نوجوانوں کو تربیت دی جائے گی۔ یہ روزگار پروگرام گورنمنٹ کا ایسا پروگرام ہے جس سے تمام کے تمام پڑھے لکھے نوجوان اس سے بھرپور فائدہ اُٹھا سکتے ہیں. اس میں 10،000 لوگوں کو پہلے سال میں ٹریننگ دی جائے گی اس ٹریننگ کے تحت وہ یہ سیکھ سکے گئے کہ freelancing کو کیسے استعمال کرنا ہے.

E rozgar

فری لانسنگ:(freelancing)

فری لانسنگ میں ہم گھر بیٹھے دنیا کے ہر کونے سے جاب حاصل کر کے کام کر سکتے ہیں اور ایک ٹائم میں ہم گھر بیٹھے کے مختلف کمپنیوں کے ساتھ کام کر سکتے ہیں۔ اور آپ گھر بیٹھے بغیر کسی باس کے آزادی سے کام کر سکتے ہیں۔

freelancing

فری لانسنگ کے موقع:(freelancing opportunity)

اور freelancing کی opportunity کو استعمال کرتے ہوئے کیسے وہ پیسے کما سکتے ہیں. اس کے لیے 36 ڈسٹرک میں 40 روزگار سنٹر بننے جا رہے ہیں. جس میں تمام نوجونوں کو جو میرٹ پر آتے ہیں ان کو مفت ٹرینگ دی جائے گی. پاکستان میں یہ پہلی دفعہ ایسا ہو رہا ہے کہ سارے freelancers کو ایک پلٹ فورم میں اکٹھا کیا گیا ہے.

Freelancing

پروگرامنگ:(Programing)

ویب ڈویلپمنٹ، موبائل اپپس، ویڈیو گیمز بنانے کے ساتھ ساتھ IT سے مطلقہ تمام کورس مختلف یونیورسٹیوں سے کروائے جائے گئے. ای روزگار کے باعث نوجونوں کو نا صرف IT کے میدان میں اپنا ٹیلینٹ دکھانے کے بہتر موقعے میسر ہو نگے. بلکہ سالانہ لاکھوں ڈالر کی جاب بھی حاصل کر سکے گے۔

IT

ملک کی معیشت:(Country economy)

ٹیوٹا کے چیئرمین عرفان قیصر شیخ نے لاہور میں ٹیوٹا کے اجلاس کے دوران کہا اس پروگرام سے پاکستان میں بےروزگاری کو ختم کرنے میں مدد ملے گی. یہ پروگرام کئی حصوں میں تقسیم کیا جائے گا . جو اس فروری کے دوسرے ہفتے میں شروع ہونے کی توقع ہے. لاہور، فیصل آباد اور راولپنڈی کے 600 افراد کو Technical اور گرافک ڈیزائننگ سیکھائی جائے گی. چیئرمین نے کہا ای روزگار پروگرام صرف نوجوانوں کے لئے ہی اہم نہیں ہے. بلکہ ملک کے لئے بھی ضروری ہے کیونکہ نوجوان ملک کی معیشت میں اپنا حصہ رکھ سکتے ہیں. اس طرح کی تربیتی سہولیات دیگر ممالک میں وسیع پیمانے پر موجود ہیں. اور ترقی پذیر ممالک میں نوجوانوں کو ان کی تربیت اور سرکاری حمایت کی وجہ سے زیادہ آمدنی کے مواقع ملتے ہیں. چیئرمین نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ بین الاقوامی سطح پر پاکستانی نوجوانوں کو پیچھے چھوڑ دیا گیا ہے. اور ان شعبوں میں تربیت نہیں مل سکی جو ان کی آمدنی کا امکان کافی حد تک بڑھا سکتے ہیں.

Country Economy

اس بلاگ کے بارے میں اپنی رائے نیچے ضرور دیں.

0 Reviews
Blogs, Vlogs iGreen Bottom Image