ویلنٹائن ڈے کی تاریخ

  •   5
  •   Khansa Maqbool
  •   3
  •   348
اسلام میں، تہوار واضح طور پر بیان کر دیے ہیں اور ان میں کسی بھی طرح کی کوئی تبدیلی یا اضافہ قبول نہیں کیا جا سکتا. تہوارہمارے مذہب کا ایک اہم حصہ ہیں اور اس میں ذاتی رائے یا اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں ہے.

جیسا کہ مطالعے سےاور زندگی کے حقیقی تجربے سے ثابت ہوتا ہےکہ یہ لوگ جو سوچتے ہیں، شادی سے پہلے کی محبت اچھی بات ہے، غلط سوچتے ہیں.لہذا، ہم یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ویلنٹائن ڈے مسلمانوں کے لیے کسی بھی طرح فائدے مندہے؟ سچ تو یہ ہے کہ یہ غیر اخلاقی اور حرام تعلقات کے قیام کا مطالبہ ہے.جو شوہر اپنی بیوی سے مخلصانہ طور پر پیار کرتا ہے اسے اظہار کے لیۓ اس چھٹی کی ضرورت نہیں ہے. وہ اپنی بیوی سے ہر وقت اور ہر موقع پر اپنی محبت کا اظہار کرسکتا ہے.

No to Valentine day

ویلنٹائن ڈے

ویلنٹائن ڈے یعنی14فروری کا دن جسے محبّت کرنے والوں کا عالمی دن بھی کہا جاتا ہے. عام طور پہ اس روز شادی شدہ اور غیر شادی شدہ جوڑے ایک دوسرےکو پھول اور تحائف دےکر اپنے پیار کا اظہار کرتے ہیں .مغربی اور سیکولر ممالک میں ویلنٹائن ڈے باقاعدہ ایک تہوار کی صورت منایا جاتا ہے. اس کی مقبولیت اور اہمیت کا اندازہ اس بات سے صاف لگایا جا سکتا ہے کہ مغربی ممالک میں نیو ایئر اور کرسمس کے بعد سب سے زیادہ منایا جانے والا تہوار ہے. میڈیا کی بےپناہ ایڈورٹایزمنٹ اور ویلنٹائن ڈے پر خصوصی پروگرامز کی بدولت اب یہ مغربی تہوار پاکستان میں بھی گزشتہ چند سالوں سے بہت جوش و خروش سے منایا جا رہا ہے.یہی وجہ ہے کہ سکولوں ، کالجوں ، یونیورسٹیوں اور بازاروں میں اس روز لڑکے اور لڑکیاں ایک دوسرے کو گلاب کے پھول دیتے نظر آتے ہیں .سڑکوں، پارکوں حتیٰ کہ شاپنگ سینٹرز کو بھی سرخ پھولوں اور غباروں سے سجایا جاتا ہے. اس موقع پر خاص طور پر جوتوں اور کپڑوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی جاتی ہے جسے ویلنٹائن ڈسکاؤنٹ کا نام دیا جاتا ہے.تاکہ اس تہوار کو منانے والوں کی خوب حوصلہ افزائی ہو.حتّی کہ ہمارے مذہبی تہوار جیسے کہ رمضان اور عید پہ ہر چیز کی قیمت میں بےپناہ اضافہ کر دیا جاتا ہے.صد افسوس کہ میڈیا لوگوں کو ویلنٹائن کی حقیقت سے آگاہ کرنے کی بجائے اس تہوار کو مزید فروغ دینے میں مصروف ہے. اس کے علاوہ نام نہاد لبرلز بھی اس کا دفاع کرتے نظر آتے ہیں.

Choclates

کیا آپ جانتے ہیں کہ اس تہوار کی حقیقت کیا ہے اور یہ کس کے نام پر منایا جاتا ہے؟

Saint Valentine of Rome

ویلنٹائن ڈے اور ویلنٹائن فادر کی داستان تاریخ کی پراسرار داستانوں میں سے ایک ہے. الّلہ پاک نے انسانوں کی رہنمائی کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر بھیجے کیوںکہ دنیا مشرک اور کافر لوگوں سے بھر چکی تھی. حضرت عیسی کی وفات کے بعد تین صدی عیسوی میں روم دنیا کی سپر پاور تھی جس پر کلاڈیس 2 بادشاہ کی حکومت تھی. ہر سال 15 فروری کو یہاں لوپریکل تہوار منایا جاتا تھااور لپوس نامی بت کی پوجا کی جاتی تھی تا کہ وہ خوش ہو کر انکی سلطنت کواور انہیں صحت اور فصلوں کی زرخیزی بھی عطا کرے. اس موقع پر باقاعدہ طور پر قرعہ اندازی کی جاتی تھی جس میں ایک بڑے ڈبے میں تمام کنواری لڑکیوں کے نام ڈالے جاتے تھے .ایک کنوارہ لڑکا ایک نام منتخب کرتا تھا اور جس لڑکی کا نام آتا اسکو لڑکے کے ساتھ اگلے سال کی 15 تاریخ تک بنا شادی کے تعلق قائم رکھنا ہوتا تھا. بعدازاں اس تہوار کا نام فیبریا رکھا گیا اس وقت حضرت عیسی کے پیر و کاروں میں سے ایک عیسائی پادری کا نام سینٹ ویلنٹائن تھا جس نے اس بےحیائی سے لوگوں کو بچانے کے لیے انکی شادیاں کروانا شروع کر دی. کلاڈیس 2 بادشاہ مزید فتوحات کر کے روم کو اور طاقتور ریاست بنانا چاہتا تھا .مگر جب اس نے جنگ کے لیے فوجیوں کی بھرتی شروع کی تو بہت کم لوگ فوج میں شامل ہویے اور نہ ہی زیادہ لوگوں نے فوج میں شامل ہونے کی کوئی خواہش ظاہر کی .کلاڈیس کو اس بات کی بہت تشویش ہوئی اور اس نے اس معاملے کی تحقیقات کا حکم جاری کر دیا تو پتا چلا کہ بہت زیادہ نوجوان لڑکے شادیاں کر چکے ہیں اور اپنی شادی شدہ زندگی کو ترق کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں .ان کا سارا دھیان جنگ سے ہٹ کر اپنے خاندان پہ مرکوز ہو گیا تھا. اس وقت کلاڈیس نے فیصلہ سنایا کہ دوبارہ اسکی ریاست میں کوئی شادی نہیں کرے گا.

Saint Valentine

جولیاکلاڈیس

خلاف ورزی کرنے والے کو سخت سزا دی جائے گی اور اسے قانون بنا دیا مگر سینٹ ویلنٹائن اس حکم کی خلاف ورزی کر کے چوری چھپ کے لوگوں کی شادیاں کرواتا رہا. جب کلاڈیس کو اس کی خبر ہوئی تو بہت طیش میں آیا اور اس نے ویلنٹائن کو گرفتار کر کے قید کرنے کا حکم' دیا. قید کے دوران سینٹ ویلنٹائن کی ملاقات کلاڈیس کی بیٹی جولیا سے ہوئی دونوں ایک دوسرے سے محبت کرنے لگے. جولیا روزانہ ایک سرخ گلاب کا پھول لے کر ویلنٹائن سے ملنے آتی تھی. جب اس معاشقے کی خبر کلاڈیس تک پہنچی تو اس نے ویلنٹائن سے ملاقات کر کے ایک شرط رکھی کہ تم رومی مذہب یعنی بت پرستی کو اپنا لو ورنہ تمہارا سر قلم کر دیا جائے گا. مگر ویلنٹائن کے انکار پر اسے 14 فروری کو سرعام پھانسی دے دی گی .پھانسی سے قبل اس نے جولیا کے نام ایک خط چھوڑا جس پہ"from your Valentine" کے الفاظ درج تھے .

ویلنٹائن تہوار


12ویں صدی عیسوی تک اس واقعہ پہ مکمل خاموشی رہی بعد میں چند سازشی زہنوں نے lupercalia یا febriya نامی تہوار کا تصور سینٹ ویلنٹائن کے نام کے لیبل کے ساتھ پوری دنیا میں ویلنٹائن ڈے کے نام سے پھیلا دیا تا کہ اسے مذہبی رنگ دے کر لوگوں کی ہمدردی اور زیادہ سے زیادہ توجہ حاصل کی جا سکے . یورپ کے بعد اس تہوار کو asia کے ممالک خاص طور پہ مسلم ممالک میں میڈیا کے زریعے خوب پھیلایا گیا، جس کہ پس پردہ دو عزایم ہیں ایک تومسلم نوجوان نسل میں بےحیائی اور لبرلیزم کو فروغ دینا تھا اور دوسرا اس دن کی مناسبت سے فروخت ہونے والی مصنوعات کے ذریعے اپنے کاروبار کو بڑھانا تھا اور سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان مصنوعات کے پیچھے کس کا فائدہ سب سے زیادہ ہے.اس تہوار کی بدولت ہر سال زناکے واقعات میں بھی بے تحاشا اضافہ ہو رہا ہے .

سرخ گلاب

اس بات سے کوئی انکاری نہیں کہ الّلہ نے انسان کے اندر فطری طور پہ محبت کا جذبہ رکھا ہے. اگر کوئی شادی شدہ شخص اس دن اپنی بیوی سے اظہار محبت کرتا ہے تو بھی اسے یہ دن مخصوص نہیں کرنا چاہیے .اگر اپنے دل کو محبت سے بھرنا ہے توالّلہ کی محبت سے بھرو قرآن پاک اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے بھرو، جن کی محبت کے لیے سینے میں دل رکھا گیا .ماں باپ کی محبت سے بھرو جن کی محبت اور خدمت دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی کی ضمانت ہے. ایسے فحاشی اور بے حیائی پر مبنی تہواروں پہ چل کر گمراہی اور ذلت کے سوا کچھ حاصل نہ ہو گا .ہماری نوجوان نسل اسکی حقیقت جانے بغیر سر عام یہ دن مناتی ہے. اس روز خاص طور پر سرخ رنگ کا استعمال کیا جاتا ہے، جیسے سرخ لباس زیب تن کئے جاتے ہیں ایک دوسرے کوویلنٹائن کارڈز اور سرخ گلاب بھیجے جاتے ہیں. چوںکہ یہ تہوار بےحیائی کو فروغ دیتا ہے اس لیے اسکو منانے سے اجتناب کرنا چاہیے کیوںکہ اس میں فائدہ انکا ہے جن کے اس سے ذاتی یا مذہبی مفادات جڑ ے ہیں.
لہذا اس بے بنیاد تہوار پہ اپنا وقت ، پیسہ اور پیار ضایع نہ کریں. پیار کے اظہار کے لیے دن مخصوص کرنے کی کوئی پابندی نہیں ہے. ویسے بھی یہ تہوار ایک عیسائی پادری کی یاد میں منایا جاتا ہے جس کا مسلمانوں سے دور دور تک کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے.
red roses

پاکستان میں ویلنٹائن ڈے پر پابندی

پاکستانی حکومت کی طرف سے ویلنٹائن ڈے کو منانے اور اس دن کو فروغ دینے والی نشریات پہ ہائی کورٹ کی جانب سے پابندی عائد کر دی گئی ہے . پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کو سختی سے کسی بھی طرح کی ویلنٹائن کی حوصلہ افزائی کرنے والے پرگرامز سے منع کیا گیا ہے . کیوںکہ یہ تہوار اسلام کے خلاف ہے اور فقط فحاشی اور فضول خرچی کو عام کرتا ہے . اس کے علاوہ ججز ک مطابق یہ دن ہمارےی مذہبی اور ملکی روایات کو پامال کرتا ہے. اس کے علاوہ پیمرا نے بھی اس پہ پابندی عا ئد کرتے ہوۓ کہا ہے کہ اس دن کی مطابقت سے سرکاری یا نجی طور پہ کوئی بھی قدم نہیں اٹھایا جائے گا . حکومت پاکستان کی طرف سے اٹھایا جانے والا یہ قدم انتہائی عقلمندانہ اور سمجھدارانہ ہے. یہ فیصلہ نوجوان نسل کی بہتری اور اخلاقی تربیت کا ضا من ہے .

اپنی رائےسے آگاہ کریں ۔

3 Reviews
  • User Image
    Hasil
  • ایک سال پہلے
  • Good one.. I don't think it's that wrong.. in Pakistan we hate everything even mothers day . . father's day

  • User Image
    Mona
  • ایک سال پہلے
  • جی ہاں ہمیں ویلنٹائن ڈے کے خلاف لڑنا چاہئے

  • User Image
    mano
  • ایک سال پہلے
  • outstanding Blog Thanx for sharing ur knowledge :(

Blogs, Vlogs iGreen Bottom Image