ون بیلٹ ون روڈ

  •   0
  •   Afi Sindhu
  •   0
  •   325
2000ء کے شروع میں ہی چین نے تجارتی مال کی برآمدات میں اضافہ کرنے اور بین الاقوامی منڈیوں میں مال پہنچانے کیلئے ’’ ون بیلٹ ون روڈ‘‘ کے معاشی فلسفہ پر عمل درآمد کا آغاز کیا۔

(OBOR-One Belt One Road and CPEC importance for region):

چین کافی عرصے سے دنیا کے مختلف ممالک میں کئی طرح کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے . 500 ارب ڈالر کا نیا سالانہ سلک روٹ اس سلسلے کی کڑی ہے. اس حوالے سے اہمکانفرنس چین میں منقد ہوئی. جس میں 30 اہم آرمی رہنما بھی شامل ہوئے. اسکانفرنس میں 150 ارب ڈالر خرچ کرنے کا فیصلہ ہوا. کانفرنس کا مقصد 62 ممالک کو آپس میں جوڑنے والے نئے سلک روٹ کی تعمیر میں انہیں ساتھ لے کے چلنا ہے. سلک روٹ کی تعمیر سے ان ممالک میںترقیاتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گی. امریکا اور یورپ میں اس سلک روٹ کے مطلق کچھ خدشات ضرور پائے جاتے ہیں. امریکا اس سلک روٹ کی راہ میں رکاوٹ بننے سے گریز کر رہا ہے. اس روٹ سے دنیا کی شکل بدل جائے گی. خاص طور پر ایشیا میں تجارت اور معاشیات کے اندر میں بڑی تبدلی آئے گی.

Silk

sil pack:

چین پاکستان کے ساتھ مل کر sil pack پر بھی کام کر رہا ہے. یہ 50 ارب ڈالر کا پروجیکٹ ہے. اس پر دنیا کے بہت سے ممالک کو اعتراض ہے. کیوں کہ sil pack آنے والے دنوں میں پاکستان کو اور بھی مضبوط ملک بنا دے گا. چینی احکام کے مطابق اس علمی مشیعت میں کم سے کم 3 ہزار ارب ڈالر کی سرگرمی دکھنے میں آئے گی.

road

سلک روٹ میں کون کون سے ممالک شامل ہے:(Which countries include Silk Routes)

ڈنمارک، فرانس، سوئٹزرلینڈ اور فرلینڈ نے اس چینی اقدام کی حمایت کر کے امریکا اور یورپ کے لیے پرشان کر دینے والی صورتحال پیدا کر دی ہے. اٹلی کے صدر نے تو اس سلسلے میں چینی صدر سے بھی مذکرات کیےہیں. جبکہ فرانس کے وزیراعظم نے بھی چینی احکام کو اس سلسلے میں اپنی مکمل شمولیت کی یقین دہانی کروائی ہے. امریکی محکمہ خارجہ بھی اپنے آپ کو اس سے الگ نہیں کرنا چاہتا. اس لیے صدر ٹرمپ نے اپنے اسپیشل اسسسٹنٹ اور نیشنل سیکورٹی کونسل کے سینیر ڈائریکٹر کو بھی چین بھیجا. چین سلک روٹ کی تعمیر میں 2013 سے دلچسپی لے رہا ہے . 500 ارب ڈالر کے اس منصوبے پر 50 ارب ڈالر پہلے ہی خرچ ہو چکے ہیں. اس پانچ سالہ منصوبے سے 62 یورپین ممالک کو فائدہ پہنچے گا.

road

بڑی کمپنیاں:(Big companies)

جبکہ دنیا کی سب سے بڑی وائرلیس کمپنی جس کا تعلق چین سے ہے. اور چین کی قومی پیٹرولیم کارپوریشن منصوبے پر عمل درآمد کے لیے تیار ہے. چین کی مزید 6 بڑی کمپنیوں نے بھی اس سلسلے میں منصوبہ بندی مکمل کر لی ہے. اس کے علاوہ چین کے 3 بڑے بنکوں نے منصوبے پر عمل درآمد کے لیے 39 ارب ڈالر پہلے ہی دے دیئے ہیں. چین اس وقت دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے. جو عالمی ترقی کے لیے اپنے خزانے خرچ کرنا چاہتا ہے. اس لیے اس نے 62 ممالک کو آپس میں ملانے والے دنیا کے سب سے بڑے منصوبے کو حتمی شکل دے دی ہے. اسے اب عالمی اکنامک کوریڈور(Economic Corridor)بھی کہ سکتے ہیں. اس اکنامک کوریڈور کا فائدہ چین بھی اُٹھے گا. اور مغربی ممالک بھی فائدہ اُٹھاے گا. یوروپی یونین سے علیحدگی کے نتیجے میں یورپ اور برطانیہ میں خداشت پیدا ہو رہے ہیں. ٹرمپ کے اقدامات ہمسایہ ممالک کے لیے پریشان کر دینے والے ہی نہیں بلکہ تفشیش ناک بھی ہیں. ان تبدیلیوں سے دنیا بھر کی معاشی سرگرمیاں متاثر ہوگی.

road

سلک روڈ کی صلاحیت:(Silk Road Capacity)

ماہرین کے مطابق سلک روڈ اتنی صلاحیت رکھتا ہے. کہ دنیا بھر کی معاشی سرگرمیاں متاثر ہونے سے بچ سکتی ہیں. یہ درجنوں ممالک کو ریلوے لائنز، ہائی ویز، پائپ لائنز اور بندر گاہوں سے جوڑنے کا ایک بہت بڑا منصوبہ ہے.

silk road

اس بلاگ کے بارے میں اپنی رائے نیچے ضرور دیں.

0 Reviews
Blogs, Vlogs iGreen Bottom Image