نانگا پربت پرریسکیو آپریشن شروع

نانگا پربت پر پھنسے دو کوہ پیماوں کا ریسکیو آپریشن شروع کردیاگیاہے۔

پولینڈ کے ٹوماس مسکیوچ اور فرانس کی الزبیتھ ریول نانگا پربت پر 7400 میٹر بلندی پر پھنس چکے تھے اور آخری اطلاعات کے مطابق الزبیتھ نے مسکیوچ کو چند سو میٹر نیچے لا کر ایک کیمپ میں پہنچا دیا ہے۔

Climbers rescue French woman stranded on Pakistan's 'Killer Mountain

انہی دنوں دنیا کے مشہور ترین پولش کوہ پیما کےٹو k2کو سردیوں میں سر کرنےکیلئے آئے ہوئے ہیں۔ ان کوہ پیماؤں کو ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے کےٹو بیس کیمپ سے نانگا پربت منتقل کیا جارہا ہے۔ تاکہ وہ اس امدادی کارروائی میں مدد دے سکیں۔ سول ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹر پر ریسکیو ٹیم 6000 میٹر تک جائے گی اور اس سے اوپر ریسکیو ٹیم کے چار ممبر کوہ پیمائی کرکے اوپرجائیں گے اور میسکوچ کو نیچے لانے کی کوشش کریں گے۔ امدادی سرگرمیوں کے لیے تمام مالی معاونت پولش حکومت اسلام آباد میں اپنے سفارتخانہ کےذریعے فراہم کررہی ہے۔
مسکیوچ اس سے قبل سردیوں میں نانگا پربت کو سر کرنے کی چھ بار کوشش کر چکے ہیں۔ موسم سرما میں اس چوٹی پر درجہ حرارت منفی 60 ڈگری تک گر جاتا ہے۔

Nanga Parbat

الیزبتھ ریول کی حالت ٹھیک ہے جبکہ ٹوماس مسکیوچ سنو بلائنڈ نیس اور HACE مرض کا شکار ہوچکا ہے۔ سنو بلائنڈنس وقتی طور پر اندھے ہونے کی بیماری کی علامت ہے۔ اس مرض میں نظر ضائع نہیں ہوتی ہے۔ بلندیوں پر الٹراوائلٹ شعاوں کی وجہ سے آنکھوں پر بڑابرا اثر پڑتا ہے۔ جس کی وجہ سےآنکھوں میں سخت درد محسوس ہوتا ہےاور چند دن آرام کرنے سے اس کا اثر زائل ہو جاتا ہے۔
جبکہ HACE یعنی اوڈیما میں کوہ پیما کے سر میں پانی جمع ہو جاتا ہے۔ یا پھر پہلے سے موجود گلے میں انفیکشن بھی اس کا باعث بن سکتا ہے۔ سانس لینے میں دشواری محسوس ہوتی ہے۔ مدہوشی کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ ہونٹ نیلے رنگ کے ہو جاتے ہیں۔ لگاتار کھانسی کی وجہ سے رنگدار بلغم خارج ہونے لگتا ہے۔ اس مرض کا ایک ہی موثر علاج ہے۔ مریض کو جلد از جلد نیچے لائیں اور آکسیجن کا استعمال کروائیں۔
0 Reviews
Blogs, Vlogs iGreen Bottom Image