منفرد آلہ جس کی مدد سے مچھروں کا خاتمہ

انسانی پسینے کی ﺑﻮ ﭘﺮ ﻣﻠﯿﺮﯾﺎ ﮐﮯ ﺟﺮﺍﺛﯿﻢ پھیلانے والے ﻣﭽﮭﺮ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ آلے سے ﭨﮑﺮﺍ ﮐﺮ مر ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔

سائنسی ماہرین ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﺎ ﻣﻨﻔﺮﺩ ﺁﻟﮧ ﺍﯾﺠﺎﺩ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ کی مدد سے ﻣﭽﮭﺮوں کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ ﺍﺱ منفرد ایجاد ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺴﺎن کے ﭘﺴﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﺑﻮ کا ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ کیا ﺟﺎتا ﮨﮯ۔ انسانی پسینے کی ﺑﻮ ﭘﺮ ﻣﻠﯿﺮﯾﺎ ﮐﮯ ﺟﺮﺍﺛﯿﻢ پھیلانے والے ﻣﭽﮭﺮ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ آلے سے ﭨﮑﺮﺍ ﮐﺮ مر ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔


یہ آئی تین سال کی تحقیق اور تجربات کے بعد ایجاد کیا گیا۔ اس آلے ﺳﮯ نکلنے ﻭﺍﻟﯽ ﺑﻮ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ستر ﻓﯿﺼﺪ تک ﻣﻠﯿﺮﯾﺎ کے جراثیم سے آلودہ ﻣﭽﮭﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ آتے ہیں ﺍﻭﺭ ان کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق اس نئی ایجاد سے 30 فیصد تک ملیریا کے جراثیم پھیلانے والے مچھروں سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔
طبی ماہرین اپنی اس نئی ایجاد کے متعلق یہ بھی کہتے ہیں کہ انسان کے ﺟﺴﻢ ﮐﯽ ﺑﻮ ﺳﮯ مچھروں سے پھیلنے والے دوسرے وائرس جیسے ﮈﯾﻨﮕﯽ ﺍﻭﺭ ﺯﯾﮑﺎ ﻭﺍﺋﺮﺱ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﻗﺎﺑﻮ ﭘﺎﯾﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے چونکہ ﮈﯾﻨﮕﯽ ﺍﻭﺭ ﺯﯾﮑﺎ بھی ﺍﯾﮏ ﻣﭽﮭﺮ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﺳﮯ ﮨﯽ ﭘﮭﯿﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﯾﮧ ﻣﭽﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺑﻮ کی طرف مائل ہوتے ہیں۔
سائنسدانوں کا اس نئے ﺁﻟﮧ کے بارے میں یہ بھی کہنا ہے کہ یہ نئی ایجاد ﺍﺱ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ کم کرنے میں مدد دے گی ﮐﮧ ﮨﻢ ﻣﭽﮭﺮﻭﮞ ﭘﺮ ﻗﺎﺑﻮ ﭘﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺟﺮﺍﺛﯿﻢ ﮐﺶ ﺍﺩﻭیات کا استعمال کریں۔ ہم جانتے ہیں کہ ان جراثیم کش ،ﮐﯿﮍﮮ ﻣﺎﺭ ﯾﺎ ﺣﺸﺮﺍﺕ ﮐﺶ ﺍﺩﻭیہ کے ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﺳﮯ ﺯﺭﺍﻋﺖ ﮐﻮ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﭘﮩﻨﭽﺘﺎ ﮨﮯ ۔


سائنسدانوں ﮐﺎ ﮐﮩﻨﺎ ﮨﮯ ، ﻣﻠﯿﺮﯾﺎ ﮐﮯ ﺟﺮﺍﺛﯿﻢ ﮐﻮ ان مہلک ﺍﺩﻭﯾﺎﺕ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ختم ﮐﺮﻧﺎ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ کوشش ﮨﮯ ۔
یہ تجربہ ﺟﮭﯿﻞ ﻭﮐﭩﻮﺭﯾﮧ ﮐﮯ ﺟﺰﯾﺮﮮ ﭘﺮ لگایا گیا ہے ﺟﻮ سورج کی ﺗﻮﺍﻧﺎﺋﯽ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﺳﮯ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ جسم کے ﭘﺴﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﺑﻮ کا ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔ یہ آئی باآسانیﮔﮭﺮﻭ ﮞ ﮐﮯ اندر یا باہر ﻟﮕﺎﯾﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔ دوسری طرف ملیریا اور اس جیسی دوسری بیماریوں سے بچاؤ کیلئے ﻣﭽﮭﺮ ﺩﺍﻧﯿﺎﮞ ﺍﻭﺭ مچھر مار اسپرے کا ﺑﮭﯽ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ کیا ﺟﺎ رہا ہے۔
ﺍﺱ ﺁﻟﮯ ﮐﻮ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﺠﻠﯽ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﭘﮍﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﭼﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺟﺰﯾﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﺠﻠﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ، ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺷﻤﺴﯽ ﺗﻮﺍﻧﺎﺋﯽ ﺳﮯ ﺑﺠﻠﯽ ﮐﮯ ﺩﻭ ﺑﻠﺐ ﺭﻭﺷﻦ ﮐﯿﮯ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﻓﻮﻥ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﭼﺎﺭﺝ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔


ﺍﯾﮏ سائنسی تحقیق کے مطابق : دنیا میں ﮨﺮﻣﻨﭧ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﭽﮧ ﻣﻠﯿﺮﯾﺎ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﻥ گنوا ﺑﯿﭩﮭﺘﺎ ﮨﮯ۔
ﻣﺎﺩﮦ ﻣﭽﮭﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﮐﺎﭨﻨﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻣﻠﯿﺮﯾﺎ ﺧﻮﻥ ﭼﻮﺳﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺣﺸﺮﺍﺕ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﺳﮯ بھی ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ داخل ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﻋﺎﻟﻤﯽ ﺍﺩﺍﺭﮦ ﺻﺤﺖ کی تازہ ترین رپورٹ کے ﻣﻄﺎﺑﻖ ﮔﺰﺷﺘﮧ ﺑﺮﺱ تینتالیس ہزار آٹھ سو ﺍﻓﺮﺍﺩ ملیریا جیسی مہلک بیماری کے ﺑﺎﻋﺚ لقمہ اجل بن گئے۔ اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ﮨﺴﭙﺘﺎﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ اس مہلک بیماری کی روک تھام کے لیے ادویات موجود ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ۔ اور سب سے زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﺮ ﺍﻣﻮﺍﺕ ﭘﺎﻧﭻ ﺑﺮﺱ ﺳﮯ ﮐﻢ ﻋﻤﺮ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﯽ ﮨﻮﺋﯿﮟ ﺟﻮ ‏( ﺍﻓﺮﯾﻘﮧ ‏) ﻣﯿﮟ ﺁﺑﺎﺩ ﺗﮭﮯ ۔ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ ﻭﮦ ﻣﻠﯿﺮﯾﺎ ﺳﮯ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺍﻣﻮﺍﺕ ﮐﻮ 2030 ﺀ ﺗﮏ 90 ﻓﯿﺼﺪ ﺧﺘﻢ ﮐﺮﺩﯾﮟ ﮔﮯ ۔

0 Reviews
Blogs, Vlogs iGreen Bottom Image