محبت کی عظیم مثال

  •   0
  •   Naveed Khan
  •   0
  •   461
اگر آپ کے پاس الہ دین کا چراغ آجائے تو آپ کیا مانگیں گے؟

معزز دوستو ! بچپن میں آپ نے الہ دین کی کہانی تو ضرور سنی ہوگی۔اس الہ دین کو لے کر سوشل میڈیا پر اکثر یہ سوال گردش کرتا رہتا ہے کہ اگر آپ کے پاس الہ دین کا چراغ آجائے تو آپ کیا مانگیں گے؟ اس کے جواب میں کئی کومنٹس کیئے جاتے کوئی کچھ مانگتا تو کوئی کسس خواہش کا اظہار کرتا۔مگر سب جانتے ہیں کہ یہ سب کہانی کی بات ہے اور اگر ایسا چراغ والا جن کسی کو مل بھی جائے تو وہ ہماری خواہش ایک حد میں رہ کر پوری کرسکتا ہے۔لیکن اگر ہمیں کہا جائے اللہ سے ایک دعا مانگو تم جو اس ایک دعا میں مانگو گے وہ ملے گا تو ہم کیا کچھ نہیں مانگ سکتے,اللہ کی عطا کی تو کوئی حد نہیں۔کوئی دنیا کی دولت مانگے گا ,تو کوئی بڑا سا محل,کوئی سونا چاندی ہیرے جواہرات کی خواہش کرئے گا تو کوئی دنیا کی سیر و تفریح کا سوال کرئے گا,کوئی اولاد مانگے گا تو کوئی صحت تندرستی,کوئی کسی کی محبت مانگے گا تو کوئی محبوب کا ساتھ غرض ہر ایک اپنی خواہش کی تکمیل مانگے گا


مگر جب ہمارے پیارے آقا محمد مصطفی صلیﷲعلیہ وآلہ وبارک وسلم سے کہا گیا کہ ایک دعا مانگ لیں اسے لازمی قبول کیا جائے گا تو جانتے ہیں انہوں نے کیا مانگا؟
آئیں یہ حدیث پڑھ کر محبت مصطفی صلیﷲعلیہ وآلہ وسلم کے پھولوں کو اپنے دل میں تازہ کریں۔


حدیث مبارکہ
"حضرت محمد مصطفی صلیﷲعلیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا""
""اللہ نے جو بھی نبی بھیجا اسے ایک مقبول دعا عطا فرمائی ,ان میں سے جس نے دنیا میں ہی وہ دعا مانگ لی اسے دنیا میں ہی عطا کردی گئی اور جس نے اپنی قوم کے خلاف دعا کی جب انہوں نے ان کی نافرمانی کی تو انہیں ہلاک کردیا گیا
اور اللہ نے مجھے بھی دعا عطا فرمائی تو میں نے اسے قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لئے محفوظ کر رکھا ہے۔"
(المصنف لابن ابی شیبہ کتاب الفضائل باب ما اعطی اللہ محمد صلیﷲعلیہ وآلہ وسلم جلد ٧ حدیث نمبر ١٠٢)
سبحان اللہ ماشآءﷲ


دیکھا آپ نے دوستو ہمارے مصطفی صلیﷲعلیہ وآلہ وسلم نے مانگا بھی تو کیا مانگا,دولت نہیں مانگی,سونا چاندی نہیں مانگی بلکہ اپنی امت کی شفاعت کے لئے اس دعا کو بچا کر رکھا۔ایسی عظیم محبت کی مثال دیکھی کہیں آپ نے؟ کتنی محبت کرتے ہیں ہمارے آقا صلیﷲعلیہ وآلہ وسلم اپنی امت سے۔کیا آج ہم ان کی اس عظیم ترین محبت کا کتنا حق ادا کر رہے؟ کیا ان کی تعلیمات پر عمل کر رہے ؟ ضرور سوچیں,سمجھیں اور اٹھ کھڑے ہوں ,یہ عہد کریں کہ ہم تعلیمات مصطفی صلیﷲعلیہ وآلہ وسلم کے مطابق اپنی زندگی گزارنے کی کوشش کریں گے,اس محبت کا جواب بے وفا بن کر نہیں بلکہ وفا شعار بن کر دیں گے,دل میں محبت رسول صلیﷲعلیہ وآلہ وسلم کی شمع کو روشن رکھیں گے۔یہی گستاخان رسول کے لئے بہترین جواب بھی ہے اور اللہ کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے کا ذریعہ بھی۔
اللہ سے دعا ہے ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

0 Reviews
Blogs, Vlogs iGreen Bottom Image