قومی ڈیٹا بیس اور رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا)

  •   0
  •   Ayesha Ikram
  •   0
  •   426
نادرا دراصل انگریزی نام ’’ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی ‘‘ کا مخفف ہے۔ یہ حکومت پاکستان کا ایک اہم ادارہ ہے جس کا آغاز 2000ء میں کیا گیاتھا۔اس ادارے کا کام عوام کی بطور انفرادی شہری رجسٹریشن کرنا اور ان کو قومی شناختی کارڈ جاری کرنا ہے۔

نادرا دراصل انگریزی نام ’’ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی ‘‘ کا مخفف ہے۔ یہ حکومت پاکستان کا ایک اہم ادارہ ہے جس کا آغاز 2000ء میں کیا گیاتھا۔اس ادارے کا کام عوام کی بطور انفرادی شہری رجسٹریشن کرنا اور ان کو قومی شناختی کارڈ جاری کرنا ہے۔


تاریخی پس منظر :

قیام پاکستان کے بعد وزیر اعظم لیاقت علی خان نے شخصی نظام شناخت کی ضرورت محسوس کی تو انہوں نے قومی ادارے ’’ پی آئی ایس ‘‘ کی بنیاد رکھی ۔ اس ادارے کا کام پاکستان کے ہر شہری کیلئے ہر قسم کی شناختی کارڈ کا اجراء تھا۔ یہ ادارہ مغربی پاکستان‘مشرقی پاکستان بشمول بھارت سے پاکستان ہجرت کرکے آنے والوں کی سہولت کیلئے بنایا گیا تھا ۔ 1965ء میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے اس ادارے میں ایک بڑی تبدیلی لائی گئی تا کہ 1965ء کے صدارتی انتخابات کی تیاری کی جا سکے۔ 1970ء تک اس ادارے میں عام انتخابات کی سرگرمیاں جاری تھیں جس کی وجہ سے اس میں کافی تبدیلیاں آچکی تھیں۔سقوط ڈھاکہ 1971ء کے بعد ملک کو ایک سادہ سے ڈیٹا بیس نظام کی ضرورت تھی جس میں پاکستانی شہریوں سے متعلق تمام معلومات محفوظ کی جاسکیں۔ اس مقصد کیلئے1973ء میں دوسری آئینی ترمیم کی گئی اور ایک نسبتاً سادہ ڈیٹا بیس پاکستانی شہریت کیلئےتشکیل دیا گیا۔

1996ء میں پاکستان نے امریکہ سے IBM کے نظام کیلئے بائیو میٹرک سسٹم خریدنے کا معاہدہ کیا جو شہریوں کے کوائف کے اندراج اور شناخت کیلئے ایک جدید شناختی نظام کی طرف پہلا قدم تھا ۔ 1998ء میں ادارہ برائے قومی شناخت و تسجیل NADRA کا قیام عمل میں آیا ۔


کمپیوٹرائز قومی شناختی کارڈ:

نادرا کمپیوٹرائزڈ ہر شہری کو ایک جدید کمپیوٹرائزڈ سسٹم سے مربوط قومی شناختی کارڈ (CNIC) جاری کرتا ہے ۔ نادرا ہر پاکستانی شہری کے کوائف کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے محفوظ کرنے کیلئے اقدامات کرتا ہے ۔ نادرا کے اعدادو شمار کے مطابق 2012ء تک تقریباً 5.9ملین لوگوں کو قومی شناختی کارڈ جاری کیے جا چکے ہیں ۔ نادرا یہ کارڈ ہر اٹھارہ سال سے زائد عمر کے شہری کو جاری کرتاہے ۔ کمپیوٹرائزد قومی شناختی کارڈ متعدد ضروریات زندگی کیلئے ميں اب ناگزیر ہوتے جا رہے ہیں مثلاً انتخابی عمل‘بینک اکاؤنٹ‘پاسپورٹ بنوانے کیلئے ‘زمین و گاڑی کی خرید و فروخت کیلئے‘ڈرائیونگ لائسنس کیلئے ‘ہوائی جہاز یا ریل کے ٹکٹ خریدنے کیلئے ‘موبائل سم خریدنے کیلئے ‘یوٹیلیٹی سہولیات جیسے بجلی ،گیس ، پانی وغیرہ کے کنکشن حاصل کرنے کیلئے ‘کالج و یونی ورسٹی میں داخلے میں آسانی کیلئے ‘کسی بھی قسم کے مالیاتی لین دین کیلئے اس کی ضرورت ہر شہری کی معاشرتی ضرورت کا حصہ ہے ۔ یہ کارڈ ہر پاکستانی شہری کیلئے 18 سال کی عمر کے بعد بنوانا ضروری ہے جو کئی سرکاری و نجی کاروائیوں میں پاکستانی شہری کی حیثيت سے پہچان کے لیے ضروری ہے۔


بی فارم:

قومی شناختی کارڈ کا 13 ہندسوں پر مشتمل نمبر بوقت پیدائش ہر اس پاکستانی بچے کیلئے مختص کردیا جاتا ہے جب والدین اس کی پیدائش سے متعلق ضروری کاغذی کارروائی انجام دیتے ہیں یعنی اس کے کوائف کا بروقت اندراج متعلقہ یونین کونسل یا دفاتر میں کروایا جاتا ہے ۔ نادرا بچے کی پیدائش کے وقت 13 ہندسوں پر مشتمل جس فارم کی صورت میں جاری کرتا ہے اسے آر جی ٹو فارم (Form RG-2) جسے B-Form بھی کہا جاتا ہے۔

نئے شناختی کارڈ کا اجرا:


  1. نئے قومی شناختی کارڈ میں کارڈ یافتہ شہری کی درج ذیل معلومات کا اندراج ہوتا ہے :
  2. پورا نام
  3. جنس عورت
  4. سرپرست کا نام (والد یا شادی شدہ عورت ہونے کی صورت میں شوہر کا نام )
  5. شناختی علامت
  6. تاریخ پیدائش
  7. خاندانی نمبر
  8. موجودہ رہائشی پتہ
  9. مستقل رہائشی پتہ ایضا
  10. کارڈ جاری ہونے کی تاریخ
  11. کارڈ کے منسوخی کی تاریخ
  12. کارڈ یافتہ شہری کے دستخط
  13. تصویر
  14. انگوٹھے کے نشان
  15. پرانے شناختی کارڈ نمبر یکم جنوری 2004 سے منسوخ کر دیئے گئے ہیں مگر تا حال پھر بھی کسی احتیاطی ضرورت کے تحت نئے کارڈ میں اس کا بھی اندراج کیا جاتا ہے۔

قومی شناختی کارڈ کی حفاظتی خصوصیت


نادرا کے نئے سسٹم کے تحت جو قومی شناختی کارڈ جاری کئے جاتے ہیں ان میں کئی ایسی خصوصیات شامل ہیں جو اس کے معلومات کو مستند اور درست بنانے کے ساتھ ساتھ جعل سازی کی روک تھام میں بھی معاون ثابت ہوتی ہیں ۔ کارڈ کی طبعی بناوٹ میں کئی تہوں کا استعمال کیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں کارڈ کی جعل سازی نا ممکن ہوجاتی ہے ۔ اس کارڈ کی تصدیق کیلئے کچھ ایسی مشینیں استعمال کی جاتی ہیں جنہيں نادرا کی زیر نگرانی تیار کیا گیا ہے ۔ ان مشینوں کے ذریعے کارڈ اور کارڈ یافتہ شہری کی تصدیق کیلئے کارڈ پر موجود بار کوڈ کے علاوہ انگوٹھے کے نشان کا بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔ جس کی وجہ سے کئی مالیاتی اور اہم کاروباری ادارے شخصی شناختی نظام کیلئے نادرا کے ساتھ الحاق کرتے ہیں ۔

سمندر پار پاکستانی :

سمندر پار پاکستانیوں کے شناختی کارڈ بھی اوپر مذکور کارڈ کی طرح ہوتے ہيں لیکن ان میں ایک خاصیت کا اضافہ یہ کیا جاتا ہے کہ یہ انگریزی میں معلومات لیے ہوتے ہيں ۔ یہ کارڈ پاکستان سے باہر رہائش پذیر شہریوں کو ان کی بطور پاکستانی شناخت میں مدد دیتے ہیں ۔

سمارٹ قومی شناختی کارڈ:


اکتوبر 2012ء میں نادرا نے اپنے سسٹم میں ایک جدید اضافہ کیا جب اس نے ایک اور نئے اور جدید شناختی کارڈ سسٹم کا اعلان کیا ۔ جس کا نام سمارٹ قومی شناختی کارڈ رکھا گیا ۔ مذکورہ کارڈ میں ایک چِپ کا اضافہ کیا گیا ہے جس میں 36 کے قریب حفاظتی خصوصیات شامل کی گئی ہیں ۔ اس کارڈ کی سب سے بڑی خوبی اس کا آف لائن کام کرنا بھی ہے ۔ ( اس سے قبل کے کارڈ سسٹم کو کسی برقی مشینی نظام کے ذریعے ہی فعال کیا جا سکتا تھا ۔) جس میں متعدد مالیاتی لین دین مثلاًپنشن ‘ اے ٹی ایم‘طبی حالت اور حادثاتی انشورنس کی بھی سہولیات شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ اس میں ڈرائیونگ لائسنس ‘پاسپورٹ ‘بینک اکاؤنٹ وغیرہ کی معلومات کیلئے روشن اشاراتی بٹن موجود ہوں گے جبکہ اس پر فنگر پرنٹ کی سہولت بھی ہوگی ۔ اس جدید کارڈ میں موجود معلومات کو ہیکنگ سے حفاظت کے نکتہ نظر سے مزید بہتر بنایا گیا ہے ۔


نادرا آن لائن سسٹم کے ذریعے گھر بیٹھے شناختی کارڈکی تجدید کی سہولت :

قومی ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی ’’نادرا ‘‘نے نہ صرف پاکستان بلکہ غیر ممالک میں آباد پاکستانی باشندوں کے لیے بھی ان لائن شناختی کارڈ کے اجرا کے کام کا آغاز کردیا ہے۔اس سلسلے میں کچھ عرصہ قبل اس وقت کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے سوموار کو نادرا ہیڈکوارٹرز میں قومی شناختی کارڈ کے آن لائن اجرا کا افتتاح کیا۔آن لائن سہولت کے ذریعے اب شہری اپنے شناختی کارڈز کی تجدید سمیت نادرا سے متعلق امور گھر بیٹھے انجام دے سکیں گے۔ البتہ پہلی بار شناختی کارڈ بنوانے کیلئے نادرا کے دفتر آنا پڑے گا۔ چھ ماہ کے بعد پاسپورٹ کی تجدید بھی گھر بیٹھے ہوسکے گی۔ دبئی کی طرح کے13 نیکسٹ جنریشن بزنس سنٹر قائم کیے جائیں گے۔ نادرا چھ ماہ میں ڈی این اے لیب بھی بنائیگا۔میرج، برتھ سرٹیفکیٹس کے اجرا کیلئے سینٹر لائزڈ اور ڈیجیٹلاائزڈ سسٹم لایا جائیگا۔ ذرائع کے مطابق نادرا نے شناختی کارڈ کی آن لائن تجدید اور دیگر امور کیلئے جدید سافٹ ویئرتیارکرلیا ہے۔ نادرا کا آن لائن فارم جلدنادراکی آفیشل ویب سائٹ پردستیاب ہوگاجو غیر ممالک میں پاکستانیوں کے لیے بہت بڑی سہولت ہے اور ان کو سفارت خانہ پاکستان کے توسط سے اپنے شناختی کارڈ حاصل ہو سکیں گے

0 Reviews
Blogs, Vlogs iGreen Bottom Image