فیض آباد دھرنے کے ثمرات

ایک وفاقی وزیر کے اِستعفیٰ سے نظامِ مصطفیٰ نافذ نہیں ہو جائے گا۔ مؤرخہ 25 نومبر کے حالات سے بڑی بڑی اُمیدیں نہ لگائیں۔

محض ایک وفاقی وزیر کے اِستعفیٰ سے نظامِ مصطفیٰ نافذ نہیں ہو جائے گا۔ مؤرخہ 25 نومبر کے حالات سے بڑی بڑی اُمیدیں نہ لگائیں۔ جذبات کی رو میں بہہ کر فیصلے کرنے والے اس جذباتی دور کے گزر جانے کے بعد روئیں گے۔

Faizabad Protest Against Government

اس تماشے کے پیچھے نون لیگ کی اپنی سازش ہے ۔ فیض آباد دھرنے کے پیچھے ماسٹرمائنڈ رانا ثناء اللہ ہے اور وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے دھرنے والوں کو وزیر قانون کے استعفیٰ کا مطالبہ کا راستہ دکھایا۔

میڈیا چینلز گواہ ہیں کہ خادم رضوی صاحب نے دھرنے کے دوران چیف جسٹس سے لے کر آرمی چیف تک ہر کسی کو گالیوں سے نوازا، پھر کیا وجہ ہے کہ انہوں نے اس دوران اپنی توپوں کا رخ نوازشریف اور رانا ثناءاللہ کی طرف نہیں موڑا؟

Faizabad Protester Burned Veichle

مؤرخہ 25 نومبر صبح 11 بجے کے لگ بھگ شرکاء کی بڑی تعداد واٹر کینن اور آنسو گیس کی شدت کی تاب نہ لا کر گرفتار یا فرار ہوچکی تھی اور اسٹیج پر صرف ڈیڑھ دو سو علماء بچے تھے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ پولیس کو اُن علماء کی گرفتاری کی بجائے پسپائی کا حکم جاری کیا جاتا ہے؟ اگلے چند گھنٹوں تک یہ مناظر ٹی وی چینلز پر چلتے رہتےہیں تاکہ سارا ملک متاثر ہو جائے، پھر اچانک پیمرا حرکت میں آ جاتا ہے اور تمام نیوز چینلز اور سوشل میڈیا کو بیک جنبش قلم بند کرکے مارشل لاء کی یاد تازہ کروا دی جاتی ہے؟ کوئی ہے جو اس نظر سے بھی سوچے اور سمجھے؟

بظاہر نواز شریف اس دھرنے کے نتیجے میں اپنے تینوں مقاصد کامیابی سے حاصل کر لے گا۔

 Protestors Continue Sit-in at Faizabad Rawalpindi

نوازشریف کی پہلی کامیابی First Success of Nawaz Sharif

جنیوا میں ہونے والے معاہدے کے بعد نوازشریف اپنے مغربی آقاؤں کو یہ پیغام دینے میں کامیاب رہا کہ اُس کی جماعت پاکستان میں انسانی حقوق کی علمبردار ہے اور وہ ایک انتہاپسند مذہبی معاشرے میں بنیاد پرست مذہبی طبقات سے مخالفت مُول لے کر قادیانیوں کو پاکستانی معاشرے میں اُن کا من پسند مقام دلوا سکتا ہے۔ اس مقصد میں وہ بظاہر کامیاب ٹھہرا۔


نوازشریف کی دوسری کامیابی Second Success of nawaz Sharif

سانحہ ماڈل ٹاؤن سے متعلق جسٹس باقرنجفی کی رپورٹ کو منظرعام پر لانے کا فیصلہ حال ہی میں عدالت نے محفوظ کر لیا تھا، جو اگلے ہفتے سنایا جائے گا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں نوازشریف، شہبازشریف اور رانا ثناء اللہ جیسوں کیلئے پھانسی کے پھندے تیار ہو سکتے ہیں۔ حکومت نے عین اس موقع پر دھرنے کو بہانہ بنا کر نہ صرف سارے ملک میں تمام نیوز چینلز کو بند کرنے کا جواز حاصل کر لیا بلکہ فیس بک، ٹیوٹر، یوٹیوب اور ڈیلی موشن جیسی ویب سائٹس کو بھی عوام کی رسائی سے دور کر دیا۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن رپورٹ کے پبلک ہونے سے حکومت کے خلاف میڈیا کی طرف سے یکدم جو پریشر پیدا ہونا تھا اس سے وہ قبل از وقت قابو پا لے گی۔ اس مقصد میں بھی وہ بظاہر کامیاب ٹھہرا۔

Model Town Massacre - 17 June 2014

نوازشریف کی تیسری کامیابی Third Success of Nawaz Sharif

سابقہ دونوں بار نوازشریف کی حکومت آرمی کے ہاتھوں گئی تھی۔ اس بار بھی اس کی شدید خواہش تھی کہ اس کی حکومت آرمی کے ہاتھوں جائے تاکہ اگلےوہ الیکشن میں مظلومیت کا رونا رو کر دوبارہ جیت سکے۔ لیکن اِس بار آرمی کی بجائے عدالت نے اُسے اِقامہ کو بنیاد بنا کر حکومت سے الگ کر دیا۔ اپنی کٹھ پتلی حکومت کے ذریعہ وہ فوج کو خراب کرنے کی پوری کوشش کر رہا ہے۔ دھرنے میں حالات کو کنٹرول کرنے کیلئے پولیس اور رینجرز کو استعمال کرنے کی بجائے چند گھنٹوں کے اندر اندر عجلت میں فوج اور دھرنا مظاہرین کو آمنے سامنے لانے کی سازش رچائی گئی، مگر فوج عوام کی طرح بدھو نہیں بنی اور حکومت کی فوج اور دھرنا مظاہرین کو آمنے سامنے لانے کی سازش ناکام ہوگئی۔ فوج نے اُلٹا حکومت سے تحریری وضاحت مانگ لی کہ اسے کس مقصد کے تحت بلایا جا رہا ہے۔ فوج نے موقف اپنایا کہ دھرنا مظاہرین سے نمٹنے کیلئے آرمی کو بلانے کی بجائے پولیس اور رینجرز کو مکمل طور پر استعمال کیا جائے۔ اس مقصد میں وہ ابھی تک کامیاب نہیں ہوا مگر حالات مزید بگاڑنے میں کامیاب رہا تو آرمی کو لامحالہ آنا پڑے گا۔

Army Against Faizabad Protester

دیگر ضمنی فوائد Other Advantages

1. نوازشریف کے خلاف کرپشن کیسز کے حوالے سے میڈیا پہ بننے والی درگت کا عوام کی آنکھوں سے اوجھل ہوجانا ایک الگ ضمنی فائدہ ہے۔
2. نوازشریف کو نکالنے میں عدالت نے اہم کردار ادا کیا، چنانچہ عدالتی احکامات کو بنیاد بنا کر دھرنے والوں کے خلاف آپریشن رنے سے عدالت کو متنازعہ بنانے میں اُسے کامیابی ملی۔
3. اگر فوج حکومت کے حکم پر عوام کے سامنے آ کھڑی ہوتی تو ایسی ہی ایک کامیابی اُسے فوج کو متنازعہ بنانے کی بھی ہو سکتی تھی۔

Army called in Islamabad as protests and violence spread in Pakistan

نقصان کس کا ہوا؟

اس سے قبل صرف ایک خاص مکتبہ فکر کے لوگ انتہاپسند شمار کئے جاتے تھے، جبکہ صوفیاء کی تعلیمات کا درس دینے والے اہلسنت کو بالعموم پرامن تصور کیا جاتا ہے۔ ممتازقادری ایشو کے بعد یہ دوسرا بڑا موقع ہے کہ خادم رضوی صاحب کی گالم گلوچ اور 25 نومبر کے ہنگاموں کے بعد اس خاص مکتبہ فکر کے لوگ خوش ہیں کہ اُن پر لگا دہشتگردی اور انتہاپسندی کا اِلزام اہلسنت مکتبہ فکر کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔مغربی دنیا کو واضح طور پر یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ صوفیاء کی تعلیمات کا درس دینے والے مین سٹریم مسلمان بھی وہابیت کے پیروکاروں سے کم متششد نہیں ہیں۔ گویا اسلام کے ماننے والے تمام گروہ شدت پسند اور انتہاپسند ہیں، جو غیرمسلموں کو بنیادی انسانی حقوق دینے کے خلاف ہیں۔
کاش پاکستانی عوام یہ سمجھ لیں کہ ایک آدھ وزیر کے استعفیٰ سے ناموسِ دین اور ناموسِ رسالت صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تحفظ کبھی نہیں ہو سکے گا۔ اس کیلئے پورے نظامِ ظلم کو بدل کر تعلیماتِ دین کے مطابق منصفانہ نظام لانا ہوگا، جس نظام میں قوتِ نافذہ اہلِ حق کے پاس ہو۔ اے اللہ کریم ہمیں جذباتیت کے ساتھ ساتھ شعور کی دولت بھی عطا فرمائے۔ آمین

تحریر:(عبدالستارمنہاجین)

Faizabad Protesters

0 Reviews
Blogs, Vlogs iGreen Bottom Image