شاپنگ میں شوہر

  •   0
  •   Naveed Khan
  •   0
  •   525
ہاں دونوں میری گود میں ہیں

شاپنگ کی دلدادہ خواتین کو یہ بھی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے شوہر کی پسند کا سوٹ خریدیں لہٰذا ہر ’’پرنٹ‘‘ شوہرکو چیک کرواتی ہیں،
شوہر بیچارہ ہونقوں کی طرح سرکھجاتا رہتا ہے اوربالآخر کچھ سمجھ نہیں آتا تو انگلیاں گھماتے ہوئے کسی ایک کپڑے پر انگلی رکھ دیتا ہے ،
اور پیار بھرے انداز میں بیوی کی طرف دیکھتاہے جس کی آنکھیں شعلے برسا رہی ہوتی ہیں۔’’

آپ کو تو ہر بکواس ڈیزائن پسند آجاتاہے‘‘۔ شاپنگ کے دوران شوہر کی پسند کی ایک بھی چیز نہیں خریدی جاتی لیکن چونکہ شوہر پر فرض ہے،
کہ وہ بیوی کی خریدی ہوئی ہر چیز پر پسندیدگی کا اظہار کرے لہٰذا بیویاں بڑے فخر سے اپنی ہمسائیوں کو بتاتی ہیں’’یہ جوتی میرے شوہر نے خود پسند کی تھی‘‘۔

مرد نے شاپنگ کرنی ہو تو کسی ایک دکان میں گھس کر زیادہ سے زیادہ آدھے گھنٹے میں ساری شاپنگ کرکے نکل آتاہے،
لیکن خواتین چھان پھٹک کی قائل ہوتی ہیں۔ یہ کھجوریں بھی خریدنے جائیں تو ’’عجوہ‘‘ کی ڈیمانڈ کرتی ہیں اور تسلی ہوجائے تو اطمینان سے پرس کھول کر کہتی ہیں’’دس روپے کی دے دو‘‘۔
ایسی خواتین کو گھر کے قریب والی مارکیٹ کا کوئی کپڑا پسند نہیں آتا، انہیں باجی اُلفت جو پٹی پڑھا جاتی ہیں یہ اُسی پر اڑ جاتی ہیں کہ ’’اچھرہ ہی جانا ہے‘‘۔وہاں بھی انہیں وہ دکان زیادہ پسند آتی ہے جہاں دکاندار کپڑے کا ریٹ بے شک زیادہ لگاتا ہے لیکن ساتھ فروٹ چاٹ کی پلیٹ منگواتاہے۔

اکثر شوہروں کو یہ شکایت ہے کہ بیگمات کی شاپنگ کے دوران وہ رُل جاتے ہیں، بیگم ایک دفعہ دکان میں گھس جائے تو پھر مسڈ کال کے ذریعے ہی باہر آتی ہے اور آتے ہی دکاندار کو کوسنے دینے لگتی ہے،
کہ’’ کم بخت چھ سو کا سوٹ ہزار روپے میں دے رہا تھا‘‘ ۔جو بیویاں دکان کے اندر بھی شوہروں کو ساتھ لے جاتی ہیں ان کے شوہروں کی حالت دیکھنے والی ہوتی ہے،
بیگم دکاندار سے سوٹ کی قیمت کا بھاؤ تاؤ کر رہی ہوتی ہیں اور یہ دونوں بچے گود میں اٹھائے حسرت سے دائیں طرف کھڑی دوشیزہ کو دیکھ کر آہیں بھر رہے ہوتے ہیں۔ایسے میں ان کی بیگم چیخ کر بھی پوچھیں کہ ’’کیا یہ سوٹ لے لوں؟؟‘‘
تو اکثر انہیں سنائی نہیں دیتا اور سنائی دے بھی جائے تو بوکھلا ہٹ میں منہ سے اتنا ہی نکلتاہے’’ہاں دونوں میری گود میں ہیں‘‘۔

0 Reviews
Blogs, Vlogs iGreen Bottom Image