شادی کے بارے میں پاکستان میں غلط حقائق

اسلام شادی کی ادائیگی پر زور دیتا ہے .

یہ مضمون شادی کے بارے میں عام غلط فہمیوں کے بارے میں ہے. اور اسلام میں اس کی اصل تعلیم یہ ہے.

اسلام زور زبردستی کی شادی کرنے کی اجازت نہیں دیتا:

قرآن میں سورۃ النساء میں بیان ہے " اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو عورتوں کو ان کی خواہش کے خلاف شادی کرنےپر مجبور کرنا حلال نہیں ہے." , اسی طرح مردوں پر لاگو ہوتا ہے. کہ دباؤ ڈال کر یا جذباتی بلیک میل کر کے زبردستی انہیں شادی پر راضی نہ کیا جائے.

sh

شوہر کو دوبارہ شادی کرنے کے لیے پہلی بیوی کی اجازت لینے کی ضرورت نہیں:

اسی سورۃ کی آیات نمبر 3 میں ہے " اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ یتیم لڑکیوں میں انصاف نہ کرو گے. تو نکاح میں لاؤ. جو عورتیں تمہیں خوش آئیں. دو، تین اور چار پھر اگر ڈرو کہ دو بیبیوں کو برابر نہ رکھ سکو گے. تو ایک ہی کرو یا کنیزیں جن کے تم مالک ہو. یہ اس سے زیادہ قریب ہے. کہ تم سے ظلم نہ ہو" اگرچہ پہلے بیوی کی اجازت واضح طور پر ضروری نہیں ہے. لیکن بعض شرائط کو پورا کرنا ضروری ہے.

ss

طلاق دینے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ تین بار ایک ساتھ بولا جائے ( یہ حقیقت نہیں ) :

اسلام میں طلاق کی 3 اقسام لازمی ہیں طلاق احسن،طلاق حسن اور لین. سورۃ الاطلاق میں یہ کہا گیا ہے " اے نبی جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو تو ان کو حیض و جماع کی حالت میں طلاق نہ دو اور عدت کا شمار رکھو اور اپنے رب سے ڈرو عدت میں انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ آپ نکلیں مگر یہ کہ کوئی صریح بے حیائی کی بات لائیں اور یہ الله کی حدیں ہیں جو الله کی حدوں سے آگے بڑھا بیشک اس نے اپنی جان پر ظلم کیا تمہیں نہیں معلوم شاید الله اس کے بعد کوئی نیا حکم بھیجے"

dn

ایک بار طلاق کے بعد اس سے دوبارہ شادی نہیں ہوسکتی ( یہ حقیقت نہیں ):

طلاق حسن اور لین کے معاملے میں بیوی کے حصہ پر مداخلت (حلالہ) کی شادی کی ضرورت ہے." پھر اگر اس نے (تیسری مرتبہ) طلاق دے دی تو اس کے بعد وہ اس کے لئے حلال نہ ہوگی یہاں تک کہ وہ کسی اور شوہر کے ساتھ نکاح کر لے پھر اگر وہ (دوسرا شوہر) بھی طلاق دے دے تو اب ان دونوں (یعنی پہلے شوہر اور اس عورت) پر کوئی گناہ نہ ہوگا اگر وہ (دوبارہ رشتۂ زوجیت میں) پلٹ جائیں بشرطیکہ دونوں یہ خیال کریں کہ (اب) وہ حدودِ الٰہی قائم رکھ سکیں گے یہ اﷲ کی (مقرر کردہ) حدود ہیں جنہیں وہ علم والوں کے لئے بیان فرماتا ہے" (Surah Al-Baqara Ayah #230)

mr

شوہروں کو بیویوں پہ ہاتھ اٹھانے کی اجازت نہیں ہے:

یقینا یہ اسلام کے بارے میں بدترین غلط تصورات میں سے ایک ہے. مسلمان مردوں کو اپنی بیویوں سے شہزادیوں جیسا برتاؤ کرنا چاہیے. اگر ہمارا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے سورۃ النساء میں کہا گیا ہے " مرد افسر ہیں عورتوں پر اس لئے کہ الله نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی اور اس لئے کہ مردوں نے ان پر اپنے مال خرچ کئے تو نیک بخت عورتیں ادب والیاں ہیں خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی ہیں جس طرح الله نے حفاظت کا حکم دیا اور جن عورتوں کی نافرمانی کا تمہیں اندیشہ ہو تو انہیں سمجھاوَ اور ان سے الگ سووَ اور انہیں مارو پھر اگر وہ تمہارے حکم میں آجائیں تو ان پر زیادتی کی کوئی راہ نہ چاہو بےشک الله بڑا ہے"

is

بیوی شوہر کے والدین کے ساتھ رہنے اور ان کی دیکھ بھال کرنے کی پابند نہیں:

یہ واقعی ایک ایسا حق ہے. جس کی وجہ سے آپ کو اپنی بیوی کا انتخاب کرنا چاہیے. تاہم وہ ایسا کرنے کی پابند نہیں ہے. وہ ایک الگ رہائش گاہ کی مالک ہے. جو تمام دوسرے رشتہ داروں سے آزاد ہے. سورۃ النساء میں یہ سب کچھ بتایا گیا ہے "اور ہم نے سب کے لئے مال کے مستحق بنا دیئے ہیں جو کچھ چھوڑ جائیں ماں باپ اور قرابت والے اور وہ جن سے تمہارا خلف بندھ چکا انہیں ان کا حصہ دو بےشک ہر چیز الله کے سامنے ہے"

bn

حق مہر صرف طلاق دینے پر دیا جائے گا ( یہ حقیقت نہیں ):

پھر سورۃ النساء میں کہا گیا "اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دو پھر اگر وہ اپنے دل کی خوشی سے مہر میں سے تمہیں کچھ دے دیں تو اسے کھاؤ رچتاپچتا" یہ ٹھیک ہے! مہر کو نہ صرف طلاق پر بلکہ شادی کی ابتدا میں بھی عزت کا نشانہ بنایا جاتا ہے . بیوی اس کے ساتھ جنسی تعلق سے انکار کرسکتی ہے جب تک یہ ادا نہ ہو.

bn

عورت کو یہ حق نہیں کہ وہ طلاق دے سکے( یہ حقیقت نہیں ):

"طلاق (صرف) دو بار (تک) ہے پھر یا تو (بیوی کو) اچھے طریقے سے (زوجیت میں) روک لینا ہے یا بھلائی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے اور تمہارے لئے جائز نہیں کہ جو چیزیں تم انہیں دے چکے ہو اس میں سے کچھ واپس لو سوائے اس کے کہ دونوں کو اندیشہ ہو کہ (اب رشتۂ زوجیت برقرار رکھتے ہوئے) دونوں اﷲ کی حدود کو قائم نہ رکھ سکیں گے پھر اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ دونوں ﷲ کی حدود کو قائم نہ رکھ سکیں گے سو (اندریں صورت) ان پر کوئی گناہ نہیں کہ بیوی (خود) کچھ بدلہ دے کر (اس تکلیف دہ بندھن سے) آزادی لے لے یہ ﷲ کی (مقرر کی ہوئی) حدیں ہیں پس تم ان سے آگے مت بڑھو اور جو لوگ ﷲ کی حدود سے تجاوز کرتے ہیں سو وہی لوگ ظالم ہیں" (Surah Al-Baqara Ayah #229) بیوی کو طلاق دینے کا حق ہے. اگرچہ اس صورت میں حق مہر کو یا واپس کرنا پڑے گا یا معاف کر دیا جائے گا. اگر یہ شوہر کے ذریعہ ابھی تک ادا نہیں کیا گیا ہے.

ghgj

بیوی کو کوئی حق نہیں ہے کہ وہ کوئی فیصلہ کرئے ( یہ حقیقت نہیں ):

"مرد افسر ہے عورتوں پر اس لئے کہ اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی اور اس لئے کہ مردوں نے ان پر مال خرچ کئے تو نیک بخت عورتیں ادب والیاں ہیں خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی ہیں جس طرح الله نے حفاظت کا حکم دیا اور جن عورتوں کی نافرمانی کا تمہیں اندیشہ ہو تو انہیں سمجھاؤ اور ان سے الگ سووَ اور انہیں مارو پھر اگر وہ تمہارے حکم میں آجائیں تو ان پر زیادتی کی کوئی راہ نا چاہوبےشک الله بلند بڑا ہے"

dddd


ہم اہل کتاب سے شادی کر سکتے ہیں ( جو کہ چار مقدس کتابوں میں سے کسی کے بھی پیرو کار ہیں ):

نوٹ: یہ صرف مردوں کے لیے ہے

سورۃ النساء کی آیت نمبر 25 میں ہے " "اور تم میں بے مقدوری کے باعث جن کے نکاح میں آزاد عورتیں ایمان والیاں نہ ہوں تو ان سے نکاح کرے جو تمہارے ہاتھ کی مالک ہیں ایمان والی کنیزیں اور الله تمہارے ایمان کو خوب جانتا ہے تم میں سے ایک دوسرے سے ہے تو ان سے نکاح کرو انکے مالکوں کی اجازت سے اور حسب دستور ان کے مہر انہیں دو قید میں آتیاں نہ مستی نکالتی اور نہ یار بناتی جب وہ قید میں آجائیں پھر برا کام کریں تو ان پر اس سزا کی آدھی ہے جو آزاد عورتوں پر ہے یہ اس کے لئے جسے تم میں سے زنا کا اندیشہ ہے اور صبر کرنا تمہارے لئے بہتر ہے اور الله بخشنے والا مہربان ہے"

mrg

اس بلاگ کے بارے میں اپنی رائے کمینٹ سیکشن میں ضرور دیجئے گا.

0 Reviews
Blogs, Vlogs iGreen Bottom Image