شادی کے بارے میں لڑکیوں کی سوچ

  •   0
  •   Naveed Khan
  •   0
  •   598
بس اب شادی اسی پرسنالٹی سے ہونی چاہئیے۔

آج کل لڑکیوں میں نئی سوچ جنم لے رہی ہے کہ وہ کسی مشہور و معروف پرسنالٹی کے بارے میں جان لیں تو اپنی توجہ صرف اس بات پر مرکوز کر لیں گی کہ بس اب شادی اسی پرسنالٹی سے ہونی چاہئیے۔ پھر ان شخصیات سے رابطہ کا ایک طویل سفر ہوتا ہے۔ اگر رابطہ ہو بھی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ وہاں رابطوں کی پہلے سے ہی ایک لمبی لائن لگی ہے۔ دیکھا جائے تو مشہور شخصیات کے ساتھ شادی جیسا بندھن بلکل سیراب کی مانند ہے۔

اس سب کے باوجود ہمیں اس بات کو کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ جو اللہ نے آپ کی قسمت میں لکھ رکھا ہے وہ ضرور مل کر رہے گا۔ مجھے ایک معروف عالم سے ملنے کا اتفاق ہوا میں نے ان سے پوچھا یا شیخ آپ چار کا خانہ پر کیوں رکھتے ہیں؟ مسکرا کر جواب فرمانے لگے بیٹا! ان فون کالز سے بچنے کے لیے۔ جب بھی مجھے کوئی ایسی فضول کالز ملتی ہیں تو میں کھرا سا جواب دیتا ہوں کہ جناب میری تو پہلے سے میری چار بیویاں موجود ہیں۔ اسی طرح ایک سعودی ٹی وی شو کے دوران ایک خاتون نے لائیوکال کی اور کہنے لگیں کہ یا شیخ! دعا کریں کہ میری شادی فلاں شیخ سے ہو جائے کیونکہ میں ان کے پاس بہت علم ہے اور میں ان کے علم کی وجہ سے ہی ان سے شادی کی خواہش مند ہوں۔ شیخ نے مسکرا کر جواب دیا بہن! کیا میں آپ کے لیے اس سے بھی بہتر دعا نہ کر دوں ؟ اگر آپ واقعی علم کی خاطر شادی کرنا چاہتی ہیں تو میری دعا ہے کہ آپ کی شادی فلاں شیخ ( کسی دوسرے ضعیف عالم کا نام لیا ) سے ہو جائے وہ ان شیخ سے بڑے عالم ہیں )۔


یہاں مجھے ڈاکٹر کنول قیصر کا بیان کیا ایک قصہ یاد آیا ہے جو ہے تو مختصر مگر انتہائ اثرانگیز ہے، ڈاکٹر صاحبہ لکھتی ہیں کہ پانی کے تالاب میں ایک قطرے نے دوسرے کو بتایا کہ میں ایک لڑکی کا آنسو ہوں۔ وہ کسی سے شادی کرنا چاہتی تھی لیکن وہ اسے نہیں مل سکا تھا۔ دوسرا آنسو بولا "اور میں اس لڑکی کا آنسو ہوں جسے وہ مل گیا تھا"۔ ایک اور مشہور مفکر کہتے ہیں کہ میری بیوی کا کہنا ہے کہ شادی سے پہلے میں آپ کا ہر لیکچر بہت شوق سے سنتی تھی۔ اب میری شادی کو 11 سال ہو گئے ہیں۔ اور اب ان 11 سالوں میں اس نے ایک دفعہ بھی میری ایک نہیں سنی۔

لیکن آپ کو ایک اور بات بتاتا چلوں کہ اس میں قصور میری بیوی کا تو بلکل بھی نہیں کیونکہ وہ کہتی ہے کہ آپ جتنے نیک اور اچھے دکھتے تھے اتنے ہیں نہیں۔ کیونکہ اب وہ مجھے زیادہ قریب سے دیکھتی ہے۔ پہلے وہ صرف سکرین پر دیکھتی تھی۔ ہمیں یہ بات کبھی نہیں بھولنی چاہیے کہ ہمیشہ ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی۔ صرف چمک کو نہ دیکھیں۔ سونے کو پرکھ بھی لیں کہ کھرا ہے کہ کھوٹا؟


اس کے علاوہ ایک اور رواج پروان چڑھ رہا ہے کہ سننے میں آتا ہے کہ شادی کے بعد میں تو ساس کی ایسے خدمت کروں گی جیسے میری اپنی ماں ہے۔ اور اپنی نند کو تو ایسی محبت دوں گی کہ کیا سگی بہن نے کی ہوگی۔ اور گھر ایسے سنبھالوں گی کہ سب گھر والے مجھ سے راضی ہو جائیں گے۔ اور اگر ان کی کارکردگی ان کے اپنے گھر میں دیکھی جائے تو دل کانپ اٹھتا ہے کہ اٹھ کر اپنی سگی والدہ کو پانی بھی نہیں پلایا جاتا۔ جب آپ اپنے گھر میں اپنی سگی والدہ، گھر والوں کا خیال نہیں رکھ پاتیں تو ساس جس سے رشتہ بھی نازک ہے اور جس کے اونچ نیچ کو دنیا جانتی ہے۔ اس کی خدمت کیسے کر لیں گی؟ پہلے آپ اپنے آپ کو بدلیں۔ کوشش کریں۔ یقین کریں آپ کے لیے یہ بلکل مشکل نہیں۔

0 Reviews
Blogs, Vlogs iGreen Bottom Image