سادھو بیلا کا مندر۔

  •   0
  •   Muhammad Abduhu
  •   0
  •   511
’’سادھو بیلو‘‘سندھی زبان کے الفاظ ہیں،سادھ کے معنی سادھو اور بیلو کے معنی جنگل ہیں۔اردو میں اُسے سادھو بیلا کہا جاتا ہے،یہ ایک ایسا جزیرہ ہے جہاں درختوں کے جھنڈ بھی اور پتھریلی چٹانیں بھی،جن پر مندروں اور سمادھیوں کی تعمیر کی گئی ہے.

’’سادھو بیلو‘‘سندھی زبان کے الفاظ ہیں،سادھ کے معنی سادھو اور بیلو کے معنی جنگل ہیں۔اردو میں اُسے سادھو بیلا کہا جاتا ہے،یہ ایک ایسا جزیرہ ہے جہاں درختوں کے جھنڈ بھی اور پتھریلی چٹانیں بھی،جن پر مندروں اور سمادھیوں کی تعمیر کی گئی ہے،لیکن ایسا لگتا ہے کہ ابتداء میں یہاں صرف چٹانیں اور درخت ہی تھے جنہیں بعد میں تعمیر ہونے والی عمارتوں نے اپنے اندر چھپا لیا۔اس کے باوجود اب بھی پیپل، نیم اور کئی دوسرے صدیوں پرانے درخت ان عمارتوں کو ڈھانپے ہوئے ہیں۔جزیرے میں داخل ہونے کے لئے ایک کشتی ہر وقت تیار رہتی ہے،جس کی نگرانی متروکہ املاک کے شعبے کے ذمہ ہے۔بتایا جاتا ہے کہ 1823ء میں ایک سادھو مہاراج بان کھنڈی سکھر شہر سے دور دریائے سندھ کے بیچ میں واقع اس ویران جزیرے پر آئے اور ایک کٹیا میں رہنے لگے،لوگوں کا بھی ان کے پاس آنا جانا شروع ہو گیا یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اُداسی فرقہ سے تعلق رکھنے والے سکھ’’سادھو بیلو‘‘ کو انتہائی قدر کی نگا ہ سے دیکھتے ہیں،کیونکہ اس فکر سے تعلق رکھنے والوں کے مطابق بابا بان کھنڈی مہاراج سری چند مہاراج کی تعلیمات سے کافی متاثر تھے۔

ایک روایت کے مطابق یہ جزیرہ میر سہراب خان کا تھا اس نے نے جب سادھو کی شہرت سنی تو وہ ان سے ملنے کے لئے اس جزیرے پر چلے گئے اور ان کی سادگی اور ذہانت سے اتنے متاثر ہوئے کہ پورہ جزیرہ ان کو تحفے میں دینے کا اعلان کر دیا،تب سے لے کر آج تک یہ جزیرہ صرف ’’سادھو بیلا‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔جو دور سے ایک آزاد ریاست کا سا منظر پیش کرنا نظر آتا ہے۔اس پر آباد مرکزی مندر کے علاوہ تمام مندر،گردوارہ،لنگر خانہ،ریسٹ ہاوس اور لائبریری وغیرہ اپنے اندر لگ بھگ دو سو سال پرانی یادیں سمیٹے ہوئے ہیں۔جبکہ ہر سال جون اور چاند کی 14 تاریخ کو سادھو بیلا کے مقام پر بان کھنڈی کا میلہ شروع ہوتا ہے جس میں دنیا بھرسے زائرین آتے ہیں۔

اس جزیرے میں آباد مندروں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری نوجوان پجاری اشوک کمار کو سونپی گئی ہے۔ اشوک کے مطابق حکومت نے یہاں کے مہمان خانے کے کمروں میں اضافے اور مندروں کی تزئین کے لئے بہت زیادہ فنڈز مہیا کیا اور زائرین کے لئے کافی سہولیات فراہم کی ہیں۔تاریخی شواہد کے مطابق بابابان کھنڈی نے 40 سال تک سادھو بیلا میں قیام کیا،ان کا انتقال1863ء کو 100 سال کی عمر میں ہوا۔ان کے انتقال کے بعد ’’سادھو بیلا‘‘ میں ان کے آٹھ جانشین آئے، 9ویں جانشین کا نام بابا ہرنام داس تھا ، جو تقسیم ہند کے بعد سادھو بیلا کو بند کر کے آنکھوں کے علاج کے سلسلے میں انڈیا کے شہر گوجرہ چلے گئے اور واپس نہ آئے۔بعد میں انہوں نے یہاں کی چابی ایک دوسرے آدمی کے ہاتھوں بھجوا دی۔انڈیا میں سادھو بیلا کے نام سے ہردوار،ممبئی اور دہلی میں تین دھرم شالے بنوائے،مگر ان کا مقابلہ پاکستان کے سادھو بیلا سے نہیں کیا جا سکتا۔اس لئے کہ ایک تو یہ تاریخی جگہ ہے،دوسرا دریا کہ بیچ میں ایک جزیرے پر آباد ہونے کی وجہ سے اس کا محل وقوع بہت خوبصورت اورقدرتی ہے۔پہلے اس جزیرے پر 100 مور بھی پائے جاتے تھے،جنہیں یہاں آنے والے یاتری دانہ دنکا کھلاتے تھے،مگر بعد میں دیکھ بھال نہ ہونے سے وہ مر گئے۔

کہا جاتا ہے کہ سادھو بیلا کی تعمیر برطانوی عہد میں ہوئی اور اس کے لئے مقامی ہندو تاجروں نے رقم فراہم کی،بعد میں یہاں کئی مندروں کی تعمیر ہوئی،ان مندروں میں’’ہنومان‘‘ اور گنیش مندر کے علاوہ سمادھیاں بھی پائی جاتی ہیں۔سندھ کے کئی ہندو مندروں میں سکھ مت کے بانی گرونانک دیو کی تصویریں بھی آویزاں ہیں، سادھو بیلا میں ایک چھوٹی سی لائبریری بھی موجود ہے جس میں بہت اہم مذہبی کتابوں کا ذخیرہ موجود ہے۔لائبریری کی دیواروں پر مندر سے متعلق اہم شخصیات کی کچھ تصویریں بھی آویزاں ہیں۔اور آنے مہمانوں کے تاثرات درج کرنے کے لئے ایک رجسٹر بھی موجود ہے۔


(بشکریہ ڈاکٹر اشفاق رحمانی)

abduhu@igreen.pk

abduhu@hotmail.com

0 Reviews
Blogs, Vlogs iGreen Bottom Image