دنیا کے عظیم لیڈر کا مزار

مزارے قائد ایم اے جناح روڈ یعنی محمد علی جناح روڈ پہ واقع ہے. جس کا پرانا نام بندر روڈ تھا.

مزار قائد کراچی میں واقعہ ہے. یہ کراچی کی پہچان کے طور پہ بھی جانا جاتا ہے اور یاد دلاتا ہے کہ ہم سب کے عظیم لیڈر اس شہر سے ہیں. یہ قائد اعظم کی کوششوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیےبنایا گیا تھا. آئیں آپ کو مزار قائد کے بارے میں دلچسپ حقیقت بتاتے ہیں. مزار قائد ایم اے جناح روڈ یعنی محمد علی جناح روڈ پہ واقع ہے. جس کا پرانا نام بندر روڈ تھا.

mizary

(Design derived from turkey building)

مزار کا نقشہ بمبئی کے ماہرے تعمیرات یحییٰ مرشاند نے بنایا تھا. جو کہ ترکی کی ایک بلڈنگ جیسا ڈیزائن ہے. نقشے کی حتمی منظوری دسمبر 1959 میں محترمہ فاطمہ جناح نے دی. 1948 سے 1960 تک بابائے قوم کا مزار ایک شامیانے تلے رہا. مزار قائد کے لیے جگہ کا انتخاب کراچی کے کمشنر سید ہاشم رضا نے کیا تھا. مزار قائد کے لیے لیاقت علی خان نے قائد اعظم میموریل فنڈ قائم کیا. مقبرے کا سنگ بنیاد 31 جولائی 1960 میں رکھا گیا. اور باقاعدہ تعمیر 19 اگست 1960 کو شروع ہوئی. مزار کا سنگ بنیاد صدر پاکستان فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے رکھا.

qayed

مزار قائد کا کل رقبہ 65 ہزار مربع گز ہے. مزار قائد کی تکمیل کے بعد 10 جنوری 1971 کو سب سے پہلے صدر جرنیل محمد یحییٰ خان نے حاضری دی. مزار قائد عوام کے لیے 15 جنوری 1971 کو کھولا گیا. قائد اعظم کا مقبرہ سطح زمین سے 114 فٹ بلند ہے. مزار قائد کے دو مرکزی دروازے ہیں. ایک عوام کے لیے ہے اور دوسرا غیر ملکی احکام کی آمد پر کھلتا ہے. مزار قائد پر روشنی پھینکنے کے لیے جو ٹاورز ہے. ان ٹاورز میں سے ہر ایک کی بلندی 90 فٹ ہے. مزار قائد کے اندرونی ہال میں ایک فانوس ہے. جو چین نے 29 جنوری 1970 کو بطور تحفہ پیش کیا تھا.

qayed

اس کے بعد چین نے 2016 میں ایک فانوس پیش کیا. جو پورے کا پورا سونے سے بنا ہوا تھا. جو آج بھی اپنے شان و شوکت کے ساتھ مزار قائد میں لگا ہوا ہے. پہلی بار مقبرے کی تصویر ڈاک ٹکٹ پر 11 ستمبر 1964 کو شائع ہوئی. یہاں پہ سالانہ کچھ فوجی اور سرکاری تقریبات منعقد کی جاتی ہیں جیسے کہ پاکستان کا دن ( 23 اگست )، آزادی کا دن ( 14 اگست )، قائد اعظم کی پیدائش کا دن ( 25 دسمبر ) اور قائد اعظم کی وفات کا دن ( 11 ستمبر ).

qayed0

جب مختلف شہروں سے کچھ ممتاز یا دیگر اہم افراد کراچی جاتے ہیں. تو وہ مزار قائداعظم پر حاضری دیتے ہیں. جو عظیم قائداعظم کے احترام کی طرف اشارہ کرتے ہیں. 1951 میں پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو بھی ان کی وفات کے بعد یہی دفن کیا گیا ہے. قائداعظم کی آخری آرام گاہ کے ساتھ ہی فاطمہ جناح اور لیاقت علی خان کو بھی دفن کیا گیا ہے. اس کے علاوہ مسز رعنا لياقت على خان، سردار عبدالرب نجیب اور نورل امین کو بھی یہی دفن کیا گیا ہے . یہاں ایک وزیٹر بک ہے جس میں یہاں آنے والے خاص مہمان اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں.

do you know

اس بلاگ کے بارے میں اپنی رائے کمینٹ سیکشن میں ضرور دیجئے گا.

0 Reviews
Blogs, Vlogs iGreen Bottom Image