دنیا کی سب سے قدیم کرنسی

  •   4
  •   Afi Sindhu
  •   1
  •   260
کرنسی سے مراد ایسی چیز ہوتی ہے. جس کے بدلے دوسری چیزیں خریدی یا بیچی جاسکیں. اور اگر یہ چیز کاغذ کی بنی ہو تو یہ کاغذی کرنسی کہلاتی ہے.

کرنسی کو زر یا زرمبادلہ بھی کہتے ہیں. روپیہ کی ایجاد سے پہلے لین دین اور تجارت کے تحت ہوتی تھی. مثلاَ گندم کی کچھ بوریوں کے بدلے ایک گائے خریدی جا سکتی تھی. اسی طرح خدمت کے بدلے خدمت یا کوئی چیز ادا کی جاتی تھی. لیکن گندم اور گائے کی صورت میں لمبی مدت کے لیے بچت ممکن نہیں ہوتی. اس لیے کسی دوسری کرنسی کی ضرورت موجود تھی. جس میں بچت بھی آسان ہو. دنیا میں کرنسی آنے سے پہلے بارٹر سسٹم ہوتا تھا. جس میں چیزوں کے بدلے چیزوں کا کاروبار ہوتا تھا.

curncy

اس میں بہت مشکلات آتی تھی. اس لیے اس کا آسان حل یہ تھا کہ چیزوں کو کسی قیمتی پتھر یا دھات کے بدلے خریدا جائے. لیکن یہ بھی ناکام ثابت ہوا us کے بعد کرنسی متعارف کروائی گئی. پاکستان میں پہلی کرنسی 1961ء میں اسٹیٹ بینک نے جاری کی . کرنسی سے مراد ایسی چیز ہوتی ہے. جس کے بدلے دوسری چیزیں خریدی یا بیچی جاسکیں. اور اگر یہ چیز کاغذ کی بنی ہو تو یہ کاغذی کرنسی کہلاتی ہے. ماضی میں کرنسی مختلف دھاتوں کی بنی ہوتی تھی.

money

اور اب بھی چوٹی مالیت کے سکے دھاتوں سے ہی بنائے جاتے ہیں. کمپیوٹر کی ایجاد کے بعد کاغذی کرنسی ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے. ساڑھے تین سال کی مدت میں 5600 میل کا سفر طے کر کے جب مئی 1275ء میں مارکوپولو پہلی دفع چین پہنچا. تو چار چیزیں دیکھ کر بہت حیران ہوا. یہ چیزیں تھی جلنے والا پتھر (کوئلہ)، نا جلنے والا کپڑے کا دسترخوان(ایسبسٹوس)، کاغذی کرنسی اور شاہی ڈاک کا نظام مارکوپولو لکھتا ہے کہ (قبلایَ) خان کو کیمیا گری (یعنی سونا بنانے کے فن) میں مہارت حاصل تھی.

pks

بغیر کسی خرچ کے خان ہر سال یہ دولت اتنی بڑی مقدار میں بنا لیتا تھا. جو دنیا کے سارے خزانوں کے برابر ہوتی تھی. لیکن چین سے بھی پہلے کاغذی کرنسی جاپان میں استعمال ہوئی. جاپان میں یہ کاغذی کرنسی کسی بینک یا بادشاہ نے نہیں بلکہ پگواڈ نے جاری کی تھی . کہا جاتا ہے کہ کاغذی کرنسی موجودہ دنیا کا سب سے بڑا دھوکا ہے. جولائی 2006ء کے ایک جریدہ و سہل بلور کے ایک مضمون کا عنوان ہے. کہ ڈالر جاری کرنے والا امریکی سینٹرل بینک " فیڈرل ریزرو اس صدی کا سب سے بڑا دھوکا ہے"

pks2

مشہور برطانوی ماہر معاشیات جان کینز نے کہا تھا. کہ مسلسل نوٹ چھاپ کر حکومت نہایت خاموشی اور رازداری سے اپنے عوام کی دولت کے ایک بڑے ہصے پر قبضہ کر لیتی ہے. یہ طریقہ اکثریت کو غریب بنا دیتا ہے. مگر چند لوگ امیر ہو جاتے ہیں. 1927ء میں بینک آف انگلینڈ کے گورنر جوسیہ سٹیمپ (جو انگلینڈ کا دوسرا امیر ترین آدمی تھا ) نے کہا تھا. کہ "جدید بینکاری نظام بغیر کسی خرچ کے رقم (کرنسی) بناتا ہے. یہ غالباَ آج تک بنائی گئی سب سے بڑی شعبدہ بازی ہے. بینک مالکان پوری دنیا کے مالک ہیں.

cu

اگر یہ دنیا ان سے چین بھی جائے. لیکن ان کے پاس کرنسی بنانے کا اختیار باقی رہے. تو وہ ایک قلم سے اتنی کرنسی بنا لیں گئے. کہ دوبارہ دنیا خرید لیں. بنحمجن ڈی اسرائیلی نے کہا تھا کہ یہ بڑی اچھی بات ہے کہ ملک کے عوام بینکاری اور مالیاتی نظام کے بارے میں کچھ نہیں جانتے. کیوں کہ اگر وہ یہ سب کچھ جانتے تو مجھے یقین ہے. کہ کل صبح سے پہلے بغاوت ہو جاتی. روتھسچائلڈ نے 1838ء میں کہا تھا. کہ مجھے کسی ملک کی کرنسی کنٹرول کرنے دو پھر مجھے پروا نہیں کہ قانون کون بناتا ہے.

mny

اس بلاگ کے بارے میں اپنی رائے کمینٹ سیکشن میں ضرور دیجئے گا.

1 Reviews
  • User Image
    김 재우
  • ایک سال پہلے
  • زبردست معلومات

Blogs, Vlogs iGreen Bottom Image