دفاع ذات اور ہماری قانون سازی

  •   0
  •   Tauseef Anwar
  •   0
  •   585
دفاع ذات اور ہماری قانون سازی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

دفاع ذات اور ہماری قانون سازی Defense and our Legislation


انسان یا کسی چیز کے حفاظتی انتظامات کرتے ہوئے سب سے پہلے یہ دیکھا جاتا ہے کہ دشمن یا حملہ آور کون ہے اور کتنی طاقت رکھتا ہے، پھر دشمن یا حملہ آور کی طاقت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے حفاظتی اقدامات کیے جاتے ہیں۔ بیماری، جانور، چور اور ڈاکو وغیرہ سے بچاؤ ، سے لے بڑی سے بڑی جنگ تک میں یہی چیز سامنے رکھ کر انتظامات کیے جاتے ہیں۔ اگر دشمن کو زیر کرنا ہو تو اس سے زیادہ طاقت رکھی جاتی ہے اور اگر معاشرے میں امن و امان کی صورت حال رکھنی ہو تو اس کے لئے معاشرے میں طاقت کا توازن برقرار رکھا جاتا ہے۔ یہ وہی توازن ہے جو آئے دن خبروں میں سنا جاتا ہے کہ فلاں ملک نے نئے میزائل بنا کر خطہ میں طاقت کا توازن بگاڑ دیا ہے۔ اب طاقت کا توازن برقرار رکھنے کے دو طریقے ہیں، طاقتور کی طاقت کم کر دی جائے یا کمزور کو طاقتور بنا دیا جائے۔

Defence law of Pakistan

پولیس، عدالت اور دیگر قانون Police, Court and Other Law


پولیس، عدالت اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا یہی کام ہوتا ہے کہ طاقت کا غلط استعمال کرنے والے کو روکا جائے اور کمزور کی طاقت یہ خود بنیں۔ یوں معاشرے میں طاقت کا توازن برقرار رہتا ہے اور امن و امان قائم رہتا ہے لیکن وطن عزیز میں معاملہ الٹ ہے۔ یہاں کمزور کی کوئی نہیں سنتا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طاقت والے نہیں سنتے، الٹا قانون نافذ کرنے والے ادارے شریف شہری کو قانون سکھاتے رہتے ہیں اور شریف شہری کی طاقت بننے کی بجائے الٹا اپنی طاقت کا رعب شریف شہری پر بیٹھاتے ہیں اور جب بات آتی ہے حفاظت کی تو انہیں اداروں سے جواب ملتا ہے کہ ہم ہیں نا۔۔۔

Laws of Pakistan

سیکیورٹی Security


کسی ملک میں سیکیورٹی چاہے جتنی سخت اور بہتر کر لی جائے پھر بھی ہر بندے کے ساتھ باڈی گارڈ مہیا نہیں کیے جا سکتے۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ کسی ایمرجنسی کی صورت میں جب تک قانون نافذ کرنے والے نہ پہنچ جائیں اتنی دیر ہر انسان دفاع ذات (Self-defence) یعنی اپنی حفاظت خود کرے۔ ہر معاشرے میں دفاع ذات کہاں تک کرنا ہے اور کن چیزوں کے استعمال سے کرنا ہے مختلف ہوتا ہے لیکن ہمارے ہاں شریف شہری کی ذہن میں ”دفاع ذات “ نام کی کوئی چیز موجود ہی نہیں۔الٹا یہاں دفاع ذات کی تعریف اور کہاں تک کرنا ہے کوئی نہیں بتاتا بلکہ معاملہ مزید خراب ہے کہ شریف شہری کے ذہن میں یہ بیٹھا دیا گیا ہے کہ دفاع ذات صرف اتنا ہے کہ بلی کو دیکھ کر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لو۔ یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ قانون نافذ کرنے والے کتنی دیر میں پہنچتے ہیں اور پھر آ کر کیا کرتے ہیں۔

Security of Pakistan

امن و امان Peace


کسی بھی معاشرے میں طاقت کا توازن برقرار اور امن و امان رکھنے کے لئے حکومت سب سے پہلے معاشرے میں موجود جرائم پیشہ لوگوں کی طاقت کو دیکھتی ہے۔ پھر سیکیورٹی کتنی جلدی اور کتنی طاقت کے ساتھ پہنچ سکتی ہے اور پھر عام شہری کےلئے دفاع ذات کے سازوسامان جیسے اسلحہ وغیرہ کا انتخاب کرتی ہے اور عام شہری کو اس کی اجازت دیتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ حکومت جرائم پیشہ لوگوں کی طاقت کم کرنے اور جرائم کو ختم کرنے پر کام کرتی ہے۔ جیسے جیسے جرائم پیشہ لوگوں کی طاقت کم ہوتی ہے ویسے ویسے قانون میں تبدیلی کر کے دفاع ذات کے سازوسامان میں بھی تبدیلی کر دی جاتی ہے۔ یہ تبدیلی اس لئے آسانی سے ممکن ہوتی ہے کہ دفاع ذات کے لئے رکھا گیا اسلحہ حکومت کے پاس رجسٹرڈ ہوتا ہے۔
اب دیکھیں وطن عزیز کے حالات اور قانون سازی۔۔۔

We are One Nation

جرائم پیشہ لوگ Criminal People


یہاں جرائم پیشہ لوگوں کی طاقت اتنی ہے کہ وہ شریف شہری کے گھر، دوکان، عزت اور جان وغیرہ پر اے کے 47 (AK-47) یعنی کلاشنکوف یا کسی بھی دیگر خود کار اسلحہ سے حملہ کرتے ہیں اور سیکیورٹی تب پہنچتی ہے جب مجرم سب صفایا کر کے بلکہ سب سے قیمتی چیز انسانی عزت وجان بھی لے کر فرار ہو چکے ہوتے ہیں اور کبھی پکڑے بھی نہیں جاتے۔ اس کے بعد بات آتی ہے کہ ان حالات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے قانون سازی یعنی شریف شہری کو دفاع ذات کے لئے کیا سازوسامان اور کتنی تعداد رکھنے کی اجازت ہے۔ اب میں کیا بتاؤں یہ اجازت بھی آپ سب کے سامنے ہے۔سونے پر سہاگہ یہ کہ ہمارے ”خود کار معتبر شہری“ کسی شریف شہری کا دفاع ذات کے لئے معمولی سا اسلحہ رکھنا بھی اچھا نہیں سمجھتے۔ اس کے علاوہ حکومت بھی شریف شہری کو اسلحہ رکھنے کی اجازت نہیں دیتی اور اگر اجازت ہوتی ہے تو وہ بھی انہیں ”معتبر شہریوں“ کو ہوتی ہے۔ جو ویسے ہی بڑے طاقتور ہوتے ہیں اور قانون کو اپنی جاگیر سمجھ کر ہر وقت جیب میں رکھتے ہیں۔ حالات سب کے سامنے ہیں۔ یہاں جرائم پیشہ لوگ بہترین خودکار آتشی اسلحہ رکھتے ہیں، جس کی وہ کسی سے اجازت نہیں لیتے اور دن دہاڑے لیے پھرتے ہیں۔ ”معتبر شہریوں“ کو حفاظت کے لئے اے کے47 کے پرمٹ دیئے جاتے ہیں اور وہ اپنی گاڑیوں سے بندوقوں کی نالیاں باہر نکالے پھرتے ہیں۔ آ جا کر رہ جاتا ہے شریف شہری تو اسے بس اتنی اجازت ہے کہ بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کر لے اور اپنے مرنے کا انتظار کرے۔ حکومت کلاشنکوف کلچر روکنے کے بہانے بے شمار قانون سازی کرتی ہے اور یہ قانون شریف شہری پر لاگو ہوتا ہے جو بیچارہ ویسے ہی اپنی جان بچاتا پھر رہا ہے جبکہ یہ قانون ”معتبر شہری“ پر لاگو نہیں ہوتا کیونکہ انہیں اسلحہ پر پابندی کے باجود وزراء کے حکم اور کوٹے پر اسلحہ رکھنے کی اجازت مل جاتی ہے۔

Criminal People


حکومت کو بھی پتہ ہے کہ اس کے قانون نافذ کرنے والے ادارے کتنے پانی میں ہیں۔ میرے خیال میں(جوکہ غلط بھی ہو سکتا ہے) جب تک ادارے بہتر اور جرائم پیشہ لوگوں کی طاقت ختم نہیں ہو جاتی کم از کم تب تک تو شریف شہری کو دفاع ذات کا حق دیا جائے اور ہر شریف شہری کو اپنی حفاظت کے لئے اسلحہ رکھنے کی تربیت اور اجازت دی جانی چاہئے تاکہ عوام میں طاقت کا توازن برقرار رہنے سے امن امان کی صورت حال بہتر رہ سکے۔ ویسے بھی اگر حکومت قانون بنانے کے بہتر طریقہ پر چلے تو اس کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ موجودہ حالات میں شریف شہری کو اپنی حفاظت کے لئے اسلحہ رکھنے کی اجازت ہونی چاہئے۔

سے لیا گیا ہے http://www.mbilalm.com یہ بلاگ

0 Reviews
Blogs, Vlogs iGreen Bottom Image