خوردوپن پاس- قسط دوئم

س سے کوئی مطلب نہیں کہ بیس کیمپ سے کس دن چڑھائی شروع کی۔ کتنے دن تک چڑھتے رہے۔ چوٹی پر پہنچنے کے بعد واپس بیس کیمپ اترنے میں کتنے دن لگے۔ اترے یا راستے میں کسی حادثے کا شکار ہو کر واپس آنے کی بجائے وہیں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

خوردوپن پاس کہاں واقع ہے۔ اس کی بلندی اور روٹ کیا ہے۔ یہ جاننے سے پہلے زیادہ ضروری ہے کہ ہم ٹریکنگ اور کوہ پیمائی کی چند خاص باتیں سمجھ لیں۔ کسی چوٹی کو سر کرنے اور پاس کو کراس میں کیا فرق ہوتا ہے۔ یہ جانے بغیر ہم بہت ساری غلط فہمیوں اور لاعلمیوں میں پھنسے رہیں گے۔

کسی چوٹی کو سر کرنے کا دن وہ مانا جاتا ہے جس دن اس چوٹی کے ٹاپ پر پہنچیں ہوں۔ اس سے کوئی مطلب نہیں کہ بیس کیمپ سے کس دن چڑھائی شروع کی۔ کتنے دن تک چڑھتے رہے۔ چوٹی پر پہنچنے کے بعد واپس بیس کیمپ اترنے میں کتنے دن لگے۔ اترے یا راستے میں کسی حادثے کا شکار ہو کر واپس آنے کی بجائے وہیں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس سارے سفر میں جس دن چوٹی سر ہوئی وہ دن مانا جاتا ہے۔ جس نے سب سے پہلے کوئی چوٹی سر کی وہ پہلا بندہ مانا جاتا ہے۔ اس کی بعد جو بھی سر کرے وہ ترتیب وار دوسرا تیسرا چوتھا۔ اگر بعد میں کوئی کوہ پیما وہی چوٹی کسی دوسرے روٹ سے سر کرے تو وہ چوٹی سر کرنے والا تو پہلا نہیں ہوگا مگر نئے روٹ سے سر کرنے والا پہلا بندہ کہلائے گا۔ جیسے K2 ہے۔ سب سے پہلے 1954 میں لینو نے سرکی۔اور ساؤتھ ایسٹ روٹ جسے ابروزی کہتے ہیں سر کی۔ تو لینو کےٹو اور ساؤتھ ایسٹ روٹ پر پہلا بندہ تھا۔ پھر 1981 میں جاپانی اوتھانی ایہاؤ نے ویسٹ روٹ سے کی تو اوتھانی کےٹو پر پہلا تو نہیں مگر ویسٹ روٹ سے سر کرنے والا پہلا کوہ پیما بن گیا۔ پھر 1982 میں ایک اور جاپانی نے نارتھ روٹ سے سر کی وہ نارتھ روٹ کا پہلا کوہ پیما کہلایا۔ اسی طرح اگر کوئی سردیوں میں سر کرے گا تو وہ سردیوں میں سر کرنے والا پہلا بندہ کہلائے گا۔

چوٹی سر کرنے کے برعکس کسی پاس کو کراس کرنے کا معاملہ مختلف ہے۔ کراس کرنے کا مطلب ہے بیس کیمپ سے کب سفر شروع ہوا۔ کب بلند ترین مقام پر پہنچے اور کب دوسری طرف اتر کو بیس کیمپ پر پہنچے۔ اس میں جب سفر مکمل کر دوسری برف بیس کیمپ پر پہنچتے ہیں تو اس دن کوئی پاس مکمل کراس ہوتا ہے۔ یہ سارا سفر ایک دن میں ہوگیا تو وہی دن تصور ہوگا اور اگر کسی پاس پر چڑھنے اور اترنے کے دن مختلف یا زیادہ ہوں اور پاس کی چوٹی پر پہنچے کا دن بھی مختلف ہو تو جس دن دوسری طرف اتر کر بیس کیمپ پہنچے مجموعی طور پر پاس کراس کرنے کا وہ دن مانا جاتا ہے۔ اور مزید تفصیل میں جائیں تو پاس پر چڑھنے اوپر پہنچنے اور پاس سے اترنے کے دن کو علیحدہ علیحدہ ریکارڈ کا حصہ بنایا جاتا ہے۔ اگر پاس پر پہنچ کر دوسری طرف اترنے کی بجائے ٹاپ سے ہی واپس ہولئے تو وہ پاس کراس کرنے کی بجائے صرف سر کرنا گنا جائے گا۔

اس تکنیکی وضاحت کے بعد اب ہم خوردوپن پاس کو جغرافیائی طور پر دیکھتے ہیں۔

شمشال گاؤں سے پامیر کی طرف جائیں تو کچھ دیر بعد سامنے یزگل گلیشیئر آتا ہے۔ یزگل سے آگے دائیں طرف چلتے جائیں سامنے یکشن گردان اور خوردوپن گلیشیر آجاتے ہیں۔ یہ خوردوپن گلیشئیر کا آخری سرا یا اختتام ہے۔ خوردوپن گلیشیئر بہت ہی خراب حالت میں ہے اور گلوبل وارمنگ کی وجہ سے اس میں ٹوٹ پھوٹ کا عمل بہت تیزی سے جاری ہے جس کی وجہ اس کے اندر جاکر چلنا ناممکن ہے۔ خوردوپن گلیشئیر تقریبا 41.6 کلومیٹر لمبا ہے۔ اور جہاں سے شروع ہوتا ہے وہاں خوردوپن گلیشیئر کی دو شاخیں ہیں۔ دائیں طرف ویسٹ خوردوپن جو کنجوت سر 7760 میٹر چوٹی کی طرف جاتا ہے۔ ویسٹ خوردوپن کی آخری دیوار کے اوپر چند مشکل ترین چوٹیاں ہیں۔ یہ تاہو رتھم گروپ ہے جن کی بلندی 5600 میٹر سے 6650 میٹر تک ہے۔ ان چوٹیوں کے بیچ میں چند پاس ایسے ہیں جن کی بلندی 5300 سے 5550 میٹر ہے۔ ان چوٹیوں کے دوسری طرف تاہو رتھم گلیشیئر ہے جس کے الٹے ہاتھ پر سنو لیک آتی ہے جبکہ سیدھا چلے جائیں تو ایسٹ کھانی باسا گلیشیئر آئے گا جو آگے جاکر ہسپر گلیشئیر کے ساتھ جا ملتا ہے۔

خوردوپن گلیشئیر کا بائیں طرف جانے والا حصہ ایسٹ خوردوپن گلیشئیر کہلاتا ہے جو آخر سے بند ہے۔ اس حصہ میں خوردوپن گروپ کی چند چوٹیاں ہیں۔ جس میں سب سے اونچی چوٹی 6593 میٹر پھر 6290 اور 6140 میٹر اور 6100 میٹر کی بلندی والی چوٹیاں ہیں۔ یہ چوٹیاں مشرق سے مغرب کی طرف تقریباً دو مربع کلومیٹر کے رقبے میں پھیلی ہوئی ہیں۔ اور ان چوٹیوں تک جانے والے راستے بھی ایسٹ خوردوپن گلیشئیر کے مختلف حصوں سے جاتے ہیں۔ بعض یورپی نقشوں (جرزی والا پولینڈ 2011) نے ان چوٹیوں کو لُک پے لاؤ براک یعنی سنولیک کی چوٹیاں لکھا ہے۔ ان چوٹیوں کے دوسری طرف سنو لیک ہے۔ اسی لئے انہیں لُک پے لاؤ براک چوٹیاں کہا گیا ہے۔ ان چوٹیوں کے درمیان میں کچھ پاس ہیں جن کی بلندیاں 5760 میٹر سے 6100 میٹر تک ہیں۔ یہ سب ممکنہ طور پر خوردوپن پاس ہیں جوکہ خوردوپن گروپ کی چوٹیوں کے درمیان میں واقع ہیں۔ ان میں کچھ کراس ہوچکے ہیں اور کچھ ابھی تک انسانی قدموں کی چاپ سے محروم ہیں۔

1986 @ 5696m 32.48.36.06 , 75.36.40.53
1987 @ 5696m 32.48.36.06 , 75.36.40.53
1991 @ 5696m 32.48.36.06 , 75.36.40.53
2007 @ 5682m 36.06.18.20 , 75.34.35.35
2017 @ 5759m 36.06.32.53 , 75.33.59.41

خوردوپن پاس کو تاریخ میں سب سےپہلے 1986 میں کینیڈا کے بیری روبرٹس کیمرون ویک نے کراس کیا تھا۔ ان کے ساتھ شمشال سے شمبی خان اور رجب شاہ بھی شامل تھے۔ یہ چار رکنی ٹیم شمشال کی طرف سن لیک پر اتری اور پھر واپس اوپر آکر شمشال چلی گئی یعنی انہوں نے ایک چکر میں خوردوپن پاس کو دو بار کراس کیا۔ جب ہم نقشے میں خوردوپن پاس کے اس حصے کو دیکھتے ہیں وہ ایسٹ خوردوپن گلیشئیر کی بالکل آخری مشرقی کونے میں نظر آتا ہے۔ جس کے ساتھ ہی خوردوپن و ویجراب گلیشئیر کی درمیانی دیوار واقع ہے۔ اس پاس کی بلندی 5696 میٹر ہے۔ اور اس کا طول بلد N"32.48'36'06 ہے۔ اور عرض بلد 75°36'53.40''E ہے۔ خوردوپن کا یہ پاس مشرقی خوردوپن پاس ہے۔

اس کے بعد خوردوپن دوسری بار برطانوی ٹیم نے 1987 میں کراس کیا جب سٹیفن وینی بل، ڈنکن ٹین سٹال، جیری گورے اور فلپ بارلیٹ نے بغیر کسی مقامی پورٹر یا گائیڈ کے خوردوپن کوکراس کیا۔ یہ ٹیم بھی اسی مشرقی خوردوپن پاس کے راستے سے گزری تھی جس سے ایک سال شمبی و رجب والی ٹیم نے کراس کیا تھا۔

تیسری بار 1991 میں نیوزی لینڈ کے ڈیو بین فورڈ ، میٹ کومیسکی ، جون کوکس ، جون وائلڈ اور جون نانکروس نے بھی اسی راستے سے خوردوپن پاس کراس کیا۔

ایک لمبے وقفے کے بعد 2007 میں بیلجیئم کے جیف ہاؤبن قدرت علی عبدل جوشی اور بلبل کریم نے خوردوپن کو نئے راستے سے کراس کیا۔ یہ ٹیم سنو لیک کی طرف سے آئی اور خوردوپن کو 1986 والی ٹیم کے راستے سے ہی سر کرنے کی کوشش کی مگر راستہ بھٹک کر کہیں اور جا نکلے۔ جب دو چوٹیوں کے درمیانی راستے سے نکل کر ایسٹ خوردوپن گلیشیئر پر اترے تو انہیں پتہ چلا پاس تو کراس ہوگیا ہے مگر یہ پرانا راستہ نہیں بلکہ پہلے راستے سے تقریباً ایک ڈیڑھ کلومیٹر جنوب کی طرف کوئی نیا پاس ہے۔ یہ خوردوپن گروپ کی 6593 میٹر بلندی والی چوٹی کے بغل میں واقع تھا اس پاس کی بلندی 5682 میٹر تھی۔ اس کا طول بلد 36°06'20.18''N اور عرض بلد 75°34'35.35''E ہے۔ جبکہ یہ پاس خوردوپن گروپ کی چوٹیوں کے بالکل درمیان میں تھا اس لئے اسے خوردوپن پاس سینٹرل کے نام سے پکارنا زیادہ مناسب ہے۔

حالیہ 2017 میں ڈاکٹر احسن کی ٹیم ڈاکٹر محمد احسن اختر۔ شیخ ذیشان۔ محمد نئیر قاسم۔ ڈاکٹر ضیاءالدین۔ شہزاد بٹ۔ محمد عبدہ۔ محمد کاشف۔ (کرنل احسن کیانی بیماری کی وجہ سے واپس آگئے)۔ عبدل جوشی۔ ہدایت۔ منصور۔ ارشد۔ رفایت۔ احسان۔ عارف۔ زمان۔ سعید۔ نثار۔ فریاد۔ اظہار۔ دولت۔
اور عمر جاوید کی ٹیم مظہر فرید۔ آصف پیرو۔ شہروز۔ جوہان جیف ہاؤبن والے راستے سے جانے کیلے آئی مگر اوپر پہنچ کر دیکھا تو وہ سارا راستہ ٹوٹ کر اور کریوس کی وجہ سے ناقابل عبور ہے۔ جس پر ڈاکٹر احسن کی ٹیم نے مزید مشرقی سمت میں ایک Ridge سے اترنے کی کوشش کی مگر وہ بھی ناممکن تھی۔ پھر واپس آئے اور جیف ہاؤبن روٹ سی تھوڑا سا پیچھے جنوبی سمت میں 6290 میٹر اونچی چوٹی کے دائیں طرف سے نیا راستہ نکالا اور سنو لیک پر جا اترے۔ اس پاس کی اونچائی 5860 میٹر ریکارڈ کی گئی جبکہ گوگل ارتھ میپ کے مطابق اس کی اونچائی اور 5759 میٹر بنتی ہے۔ اس کا طول بلد 36°03'56.80''N اور عرض بلد 75°32'44.68''E ہے۔ یہ مغربی خوردوپن پاس بنتا ہے۔


1986 میں کراس ہونے والا پاس خوردوپن گلیشئیر کی ایک شاخ ایسٹ خوردوپن گلیشیئر کی انتہائی مشرقی جانب واقع ہے۔ یہ پاس تین بار 1986 , 1987 اور 1991 میں کراس ہوا ہے۔ 2007 والا پاس پہلے پاس سے تقریباً ایک کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔ ان دونوں پاس کے درمیان 6593 اور 6140 میٹر کی دو چوٹیاں واقع ہیں۔ 2017 میں کراس ہونے والا پاس 2007 والے پاس سے 400 میٹر مزید جنوب میں واقع ہے۔ ان دونوں پاس کے درمیان میں 6290 میٹر کی ایک چوٹی واقع ہے۔ تینوں پاس کا بیس کیمپ ایک ہی ہے جبکہ ایڈوانس بیس کیمپ سے ٹاپ تک جانے کے راستے۔ ٹاپ اور اترنے کے راستے علیحدہ علیحدہ ہیں

جبکہ مشرقی پاس سے سینٹرل پاس کے درمیان میں اور سینٹرل سے مغربی پاس اور مغربی پاس سے مزید آگے ایسے کئی راستے ہیں جہاں سے آر پار جا سکتے ہیں۔ اور مستقبل میں یہ پاس بھی کراس ہوسکتے ہیں۔

پہلی قسط پڑھنےکیلیے یہاں کلک کریں خوردوپن پاس۔ قسط اوّل

تحریر۔ محمد عبدہ

abduhu@igreen.pk

1 Reviews
  • User Image
    Samran Ali
  • ایک سال پہلے
  • سر دل خوش ہو گیا مضمون پڑھ کر اور بہت عمدہ تحریر ہے

Blogs, Vlogs iGreen Bottom Image