خوردوپن پاس۔ قسط اوّل

لاہور میں ہونے والی میٹنگ میں جیف نے اپنی خوردوپن مہم کو خودکشی مہم کا نام دیا تھا-اس ٹیم کا سامان ٹاپ پر پڑا تھا اور ٹیم بوجھل دل کے ساتھ آگے کا خیال چھوڑ کر واپس اترنا شروع ہوگئی۔

یہ دو دہائیاں پہلے 1998 کی بات ہے فیصل آباد کے چار نوجوانوں ڈاکٹر احسن شیخ زیشان محمد عبدہٗ اور شیخ نعمان پر مشتمل ایک ٹیم کےٹو بیس کیمپ پر جاتی ہے۔ پائیو کے مقام پر فارنرز کی ایک ٹیم جو مشربروم ون کو سر کرنے جارہی تھی میں ایک پاکستانی ملا جو ٹیم کے ساتھ چوٹی تک جانے کا ارادہ رکھتا تھا۔ یہ نوجوان شمشال سے تھا۔ شمشال جو پاکستان کے شمال میں آخری گاؤں ہے جس سے آگے کوئی آبادی نہیں بلکہ ویرانے اور وحشتیں ہیں۔ شمشال ایک پہیلی ایک معمہ تھا۔ شمشال ایک عجیب گاؤں ہے جس بارے لوگ بہت کچھ نہیں جانتے۔ ہنزہ سے آگے پسو ہے۔ وہاں سے ایک سڑک دائیں طرف پہاڑوں کے اندر جاتی ہے جس کا اختتام ایک مشکل سفر کے بعد شمشال میں ہوتا ہے۔ پہلے یہ سڑک بھی نہیں ہوتی تھی اور پسو سے شمشال جانے میں تین لگ جاتے تھے۔ شمشال کی وجہ شہرت وہاں کے کوہ پیما نوجوان ہیں۔ اتنے بڑے اور تجربہ کار کوہ پیما پورے پاکستان میں نہیں جتنے اکیلے شمشال میں ہوں گے۔ کوہ پیمائی شمشال کے نوجوانوں کا شوق ہے۔ باتوں باتوں میں شمبی خان کا نام آیا تو خوردوپن پاس کا زکر کا نا ہوتا یہ ممکن نہیں تھا۔ بہت دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ ملاقات تو ختم ہوگئی مگر خوردوپن ذہن میں بیٹھ چکا تھا۔

اگلے سال 1999 میں ٹیم فیصل آباد کے چند مزید نوجوانوں کے ہمراہ شمشال سے اوپر پامیر میں ایک چوٹی کو سر کرنے کا عزم لیے شمشال جا پہنچی۔ یہ شمبی خان سے ملاقات کا ایک بہانہ بھی تھا۔ پورا ایک دن اور رات خوردوپن ہی موضوع گفتگو رہا۔ شمبی خان بھی بلا تھکان بولتا رہا۔ کوئی ایسا پہلو نا تھا جو سوال میں پوچھا نا گیا ہو یا بیان نا ہوا ہو۔ ذہن میں بیٹھا خوردوپن بخار بن کر پورے جسم میں اتر چکا تھا۔

کچھ سالوں بعد 2005 میں اسی ٹیم کا ایک ممبر محمد عبدہٗ کسی یورپی ٹیم کے ساتھ بتورہ گلیشئیر اور ورتھم پاس کیلے گیا تو بتورہ گلیشئیر کے کہیں آخری کونے میں وسیع چراغاں میں پتھروں سے بنے ایک کمرے میں پسو کے امیر جان سے ملاقات ہوئی۔ امیرجان بھی ایک یورپی ٹیم کے ساتھ پورٹر کی حیثیت سے خوردوپن پاس پر جا چکا تھا۔ اس کی ٹیم پاس کرتے ہوئے ایک حادثے کا شکار بھی ہوچکی تھی۔ ان کی بیان کردہ کہانیاں بہت خوفناک اور کوہ کاف کے پہاڑوں جیسی تھیں جہاں جن بھوت رہتے ہیں جو کسی کو اپنے علاقے میں نہیں آنے دیتے اور جو بھولے سے آجائے اسے مشکل ترین پہاڑوں کی بھول بھلیوں میں گم کردیتے ہیں۔ فیصل آباد واپسی پر تمام روداد اسی کے ٹو والی ٹیم کو سنائی گئی تو جسم میں اترے ہوئے بخار کو نکال باہر کرنے پر سنجیدگی سے غور ہونے لگا۔ لیکن علاج کس سے کروایا جائے اس کا پتہ نہیں تھا۔

ایسے میں سال 2007 آتا ہے پاکستان ٹورازم میں ایک خبر گردش کرتی ہے جیف ہاؤبن نام کے ایک ٹریکر نے خوردوپن پاس کو عبور کرنے کا کارنامہ سر انجام دے دیا ہے۔ اس مہم میں اس کے ساتھ شمشال کے کچھ نوجوان بھی شامل تھے۔ یہ خبر اگرچہ بہت سوں کی توجہ حاصل نا کرسکی مگر کچھ اس خبر کے بعد سر جوڑ کر بیٹھ گئے کہ خوردوپن کا بخار تو ہر گزرتے سال کے بعد مزید شدت اختیار کرتا جارہا ہے۔ اب اس کا علاج شروع کرنا چاہیے ورنہ یہ لاعلاج بھی ہوسکتا ہے۔

مزید کچھ سال گزرے اور 2010 میں ڈاکٹر احسن اور شیخ زیشان چار رکنی ٹیم تشکیل دیکر لُک پے پاس کرنے چلے گئے ان کے ساتھ شمشالی بندوں کی ایک ٹیم تھی۔ جس میں عبدل جوشی و ثابت کریم بھی شامل تھے جو 2007 میں جیف ہاؤبن کے ساتھ خوردوپن پاس کراس کرچکے تھے۔ لُک پے پاس پر جاتے چڑھتے اترتے ہوئے باتیں خوردوپن پاس ہی کی ہوتی تھیں۔ لُک پے پاس کو کرکے جب یہ ٹیم واپس آئی تو خوردوپن پاس کا بخار بدل کر کینسر کی شکل اختیار کرچکا تھا جس کا آب فوری علاج کرنے کا فیصلہ ہوا ورنہ شدید نقصان کا اندیشہ تھا۔ لُک پے ٹیم میں سے سے عبدل جوشی کی شکل میں ایک ڈاکٹر بھی مل گیا تھا۔

اگلے سال 2011 کی سردیوں میں 1998 کےٹو والی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر احسن نے عبدل جوشی سے میٹنگیں شروع کردیں۔ گرمیاں آتے ہی ٹیم سکردو جا پہنچی۔ ڈاکٹر احسن اکیلا ہی اس ٹیم کا سربراہ اور ممبر بھی تھا۔ عبدل جوشی کے ہاتھ میں اس مہم کے انتظامات تھے۔ سنو لیک سے ہوتے ہوئے خوردوپن پاس کے بیس کیمپ پر ڈیرے ڈال دئیے۔ اس سے آگے کا سفر محنت سے زیادہ قسمت پر طے ہونا تھا۔ جیف ہاؤبن کے راستے کو سامنے رکھتے ہوئے ٹیم خوردوپن پاس کے ٹاپ تک جاپہنچی۔ سامنے ہی خوردوپن کی دوسری سمت نظر آرہی تھی۔ بس چار قدم چلو اور اترنا شروع کردو۔ مگر راستے میں ایک رکاوٹ حائل تھی اور یہ رکاوٹ ایسی تھی جو عبور کرنا ناممکن تھی۔ لاتعداد بڑی بڑی کریوس منہ کھولے کھڑی تھیں۔ جن کے اندر اترنا زندگی سے کھیلنے کے مترادف تھا۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں سے جیف ہاؤبن نے خوردوپن کو کراس کیا تھا۔ یہ پورا حصہ بڑی کریوس اور Corneas بھرا ہوا تھا۔ اور برف کی تودوں میں ٹوٹ پھوٹ جاری تھی۔ قدرت علی راستہ بنانے کیلے بہت سی کریوس کے اندر بھی اترا تھا۔ ایک تودہ تو عین اس وقت گرا جب ٹیم اس کے نیچے سے نکلنے کا سوچ رہی تھی۔ اور قدرت کو بہت محنت سے راستہ بنانا پڑا تھا۔ بعد میں لاہور میں ہونے والی میٹنگ میں جیف نے اپنی خوردوپن مہم کو خودکشی مہم کا نام دیا تھا۔اس ٹیم کا سامان ٹاپ پر پڑا تھا اور ٹیم بوجھل دل کے ساتھ آگے کا خیال چھوڑ کر واپس اترنا شروع ہوگئی۔ خوردوپن بخار جو کینسر بن چکا تھا اس کا آپریشن مکمل نا ہوسکا تھا۔

پنجاب ٹورازم نے لاہور میں 2014 میں ماؤنٹین فلم فیسٹیول کروایا یہ پاکستان کا پہلا ماؤنٹین فلم فیسٹیول تھا۔ جس میں جیف ہاؤبن کو خصوصی طور پر بلایا گیا۔ خوردوپن کے متاثرین یہ سن کر لاہور ڈورے چلے آئے۔ لاہور سے نئیر قاسم بھی اس ملاقات میں شامل ہوگیا۔

یہ سب جیف ہاؤبن کے ایک ایک لفظ کو غور سے سن کر یادداشت میں محفوظ کرتے گئے۔ ٹاپ سے نیچے اترنے کے ہر ممکنہ راستے طریقے کو زیر بحث لائے۔

یہاں سے کہانی فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوتی ہے۔ اور سال 2016 آجاتا ہے۔ خوردوپن کی کہانی کو مکمل کرنے کا فیصلہ ہوتا ہے۔ ڈاکٹر احسن ٹیم ممبران سے رابطے کرتا ہے۔ اور سردیاں شروع ہونے سے پہلے خوردوپن پاس کو عبور کرنے کی تمام تر تیاری مکمل کرلی جاتی ہے۔ ممکنہ راستوں اور ٹیکنیکل سامان پورا کرنے کے بعد ہر ممبر اپنا زاتی سامان اکٹھا کتنا شروع کردیتا ہے۔ یہ ٹیم فیصل آباد سے ڈاکٹر احسن کی سربراہی میں اپنا سفر شروع کرتی ہے۔ جس میں شیخ زیشان محمد عبدہٗ شہزاد بٹ لاہور سے نئیر قاسم اسلام آباد سے محمد کاشف اور راولپنڈی سے ڈاکٹر ضیاء الدین و کرنل احسن کیانی پر مشتمل ہے۔ ایسے میں اچانک خبر آتی ہے کہ ایک باہمت لڑکی چند شمشالی نوجوانوں کی مدد سے سردیوں میں خوردوپن پاس کو کراس کرنے جاپہنچی ہے۔ وہ تمام تر مشکلات اور سردی کا مقابلہ کرتے ہوئے پاس کے بہت قریب آگئی۔ یہاں سے قسمت نے ساتھ نا دیا اور شدید ترین حالات و موسم کی شدت نے انہیں واپس آنے پر مجبور کردیا۔ مگر یہ بہت بڑی خبر تھی۔ ایک تو اکیلی لڑکی کا خوردوپن پاس کیلے جانا اور دوسرا سردیوں میں ایسا کرنا۔ یہ مشکل ترین چیلنج تھا جس کے بارے آج تک کسی نے کرنا تو درکنار سوچا بھی نا تھا۔ یہ کراچی سے سامیعہ رفیق تھی اور اسکے ساتھ شمشال کا بہادر جوان قدرت تھا۔ جو 2007 میں جیف ہاؤبن والی ٹیم کا بھی ساتھی تھا۔ سامیعہ کا خوردوپن پاس کیلے جانا ایک جاندار پیغام تھا۔

ابھی سامیعہ کی ہمت اور بہادری کا زکر چل رہا ہے کہ ایک اور جوان نے اپنے خواب کو سب کے سامنے پیش کردیا۔ یہ خواب اس نے کہیں پہلے دیکھا تھا اور اب اسے شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے عملی قدم اٹھانے کا اعلان تھا۔ یہ لاہور سے عمر جاوید تھا۔ اور اسکا خواب خوردوپن پاس تھا۔ فیصل آباد کی ٹیم جتنی خاموشی سے تیاریوں میں مصروف تھی عمر جاوید کی ٹیم اتنے ہی اعلانیہ انداز سے اس خواب کو پورا کرنے میں مصروف ہوگئی۔ لوگوں تک یہ خواب پہنچنا تھا کہ امیدیں اور توقعات بھی شامل ہوگئیں جس سے عمر جاوید کی ٹیم کا جوش و جزبہ دیدنی ہوگیا۔ سردیاں ختم ہوئیں اور شمشال کے جوان عبدل جوشی ثابت جوشی اور بلبل کریم فیصل آباد و لاہور کے چکر لگانا شروع ہوگئے یہ معاملات طے کرنے کا موسم تھا۔ تیاریوں کو حتمی شکل دینے کا وقت تھا۔ اگلے چند ہفتوں میں خوردوپن مہم کو مکمل کرکے آغاز سفر کا انتظار شروع ہوگیا۔ سامیعہ مہم کے بعد خوردوپن پاس پر ایک اور اشارہ یہ ملا کہ فیصل آباد کی ٹیم شمشال سے اور عمر جاوید کی ٹیم سنو لیک سے قسمت آزمائی کریں گی۔

عید کے فوراً بعد جولائی میں سفر کا آغاز ہونا تھا۔ اس سے پہلے ڈاکٹر احسن نے عبدل جوشی کو رمضان میں خوردوپن گلیشئیر کی تازہ صورتحال کا جائزہ لینے بھیج دیا۔ دو بندوں پر مشتمل ٹیم خوردوپن گلیشئیر کے آخری حصے تک گئی۔ تمام راستے ندی نالے عبور کرنے ممکنہ مقامات۔ گلیشئیر میں اترنے و اس کے کنارے چلنے کے راستے اور رات گزارنے کیلے کیمپ سائٹ کے مقامات کا تعین کیا گیا۔ گلیشئیر پر بعض جگہوں پر نشانات مقرر ہوئے۔ یہ ٹیم خوردوپن گلیشئیر سے واپس آئی اور اپنی رپورٹ لیکر سیدھی فیصل آباد پہنچ گئی۔ یہ مجموعی طور پر حوصلہ افزا خبر تھی۔ سوائے دو تین جگہوں کے۔ جہاں کچھ مشکلات پیش آنے کا خدشہ تھا۔ ان مشکلات سے نبٹنے کی دوبارہ تیاری کی گئی۔ عبدل جوشی کی رپورٹ کے علاوہ محکمہ موسمیات نے مئی میں ہیلی کاپٹر اور سیٹلائٹ سے کچھ تصویریں اور وڈیوز بنائی تھیں۔ جس میں خوردوپن گلیشئیر کے خطرناک حصوں کی تفصیلات تھیں ان کا بھی بغور جائزہ لیا گیا۔ ڈاکٹر احسن کی ٹیم خوردوپن پاس کیلے شمشال روانہ ہوگئی۔ دوسری طرف عمر جاوید کی ٹیم چند دن کے فرق سے سکردو پہنچ گئی۔

ڈاکٹر احسن کی ٹیم مرحلہ وار منزلیں طے کرتی 12 جولائی کو خوردوپن پاس کے بیس کیمپ پر خیمہ زن ہوگئی۔ اگلا دن راستہ تلاش کرنے کے بعد 14 جولائی کو ایک پورا دن پاس پر چڑھنے کے بعد جیف ہاؤبن والے مقام پر جاکر قیام کیا۔ یہ وہی جگہ تھی جہاں سے ڈاکٹر احسن 2011 میں واپس ہوگیا تھا۔ لیکن اب کی بار پھر یہ راستہ بند تھا اور کریوس تھوڑا سا نیچے کی جانب بن چکی تھیں۔ اگلے دن 15 جولائی کو ڈاکٹر احسن کی ٹیم تھوڑا سا واپس آئی اور دائیں طرف 6290 میٹر بلند پہاڑی کے درمیان ایک راستہ کو تلاش کیا۔ پاس کو تلاش کرکے اس میں راستے کا تعین کیا گیا۔ رسیاں لگا کر عبدل جوشی اور اسکے تین ممبر نیچے سنو لیک کی طرف ایڈوانس بیس کیمپ تک گئے۔ مشن مکمل کرکے واپس اوپر اپنے کیمپ میں آگئے۔ یہ پاس جیف ہاؤبن والے پاس سے تقریباً 330 میٹر جنوب میں تھا۔ نئے تلاش کردہ پاس سے اگلے دن 16 جولائی کو ڈاکٹر احسن ٹیم جب سنو لیک پر اتری تو عمر جاوید اپنے نوجوانوں کے ساتھ اوپر چڑھنے کو تیار تھا۔ یوں 2017 وہ تاریخی سال بن گیا جب خوردوپن تیسرے راستے سے کراس ہوا۔ اور تاریخ میں پہلی بار اسے کراس کرنے والی دونوں ٹیمیں پاکستانی تھیں۔

جاری ہے----

دوسری قسط پڑھنےکیلیے یہاں کلک کریں خوردوپن پاس- قسط دوئم

تحریر۔ محمد عبدہ

abduhu@igreen.pk

1 Reviews
  • User Image
    shaukat
  • ایک سال پہلے
  • dusri kist ka wait zaiyda he lamba ho gaya kiya irada hai janab :P

Blogs, Vlogs iGreen Bottom Image