جھنگ کا تالاب مندر

  •   0
  •   Naveed Khan
  •   0
  •   464
ماضی میں یہ کرکٹ گراؤنڈ دراصل ہندو عبادت گاہ ہوا کرتا تھا۔

جھنگ کا تالاب مندرPond of Jhang Temple

جھنگ کا تالاب مندر، جو اب تالاب کمیٹی گراؤنڈ کہلاتا ہے، اپنی تاریخ کی بدولت بے حد اہمیت کا حامل ہے۔ماضی میں یہ کرکٹ گراؤنڈ دراصل ہندو عبادت گاہ ہوا کرتا تھا۔ جھنگ کی لکھی گئی کتابوں میں تحریر ہے کہ یہ مندر سترہویں صدی میں سادھوناتھ نام کے ایک بزرگ نے تعمیر کروایا تھا۔

اس وقت اس مندرکی باگ دوڑ نرنج داس نامی ایک پنڈت کو سونپی گئی تھی جبکہ ہندوؤں کے علاوہ اور کسی کو اس مندر میں داخل ہونے کی اجازت نہ تھی۔
تقسیم ہند کے بعد تالاب مندر کی مناسب دیکھ بھال نہ ہو سکی جس کے باعث وہ خشک ہو گیا۔ اس کے بعد تالاب مندرکی ذمہ داری ایک مقامی شخص "طوطے شاہ" کے سپرد کی گئی۔ 1949ء میں جب مہر شیر مگھیانہ میونسپل کمیٹی کے صدر بن کر سامنے آۓ تو ان سے اس خشک تالاب پر فٹ بال کھیلنے کی اجازت مانگی گئی، جو انہوں نے دے دی۔

Jhang Temple

کچھ عرصہ بعد شفیع منظور میونسپل کمیٹی کے صدر منتخب ہوۓ تو انہوں نے یہاں فٹ بال گروپ بنانے پر پابندی لگا دی اور تالاب میں مچھلیاں پال لیں۔ اس پر فٹ بال گروپ نے اس وقت کے معروف وکیل خواجہ شائق احمد کی سرپرستی میں ڈی۔سی۔او جھنگ کی رہنمائی میں مچھلیاں پالنے کے منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ یہ مقدمات جاری ہی تھے کہ دریاۓ چناب کے بد ترین سیلاب نے جھنگ کے کافی علاقہ کو سخت نقصان پہنچایا جس کے باعث تالاب مندر کے نقوش بھی مٹ گۓ۔

Temple of Jhang

بعد ازاں 1953ء میں جھنگ کے ڈپٹی کمشنر بشیر احمد تارڑ نے اس جگہ پر کھیل کا میدان بنانے کا منصوبہ سامنے رکھا۔ اس پلا ن کے تحت تالاب مندر کے تالاب کو گراؤنڈ کی شکل دے کر اندرونی دروازے کے اُوپر دو توپیں اور جنگی جہاز نصب کرنے کی خواہش ظاہر کی۔

اس خواہش کو مد نظر رکھتے ہوئے تالاب مندر کی بناوٹ کو نئے نقشے میں تبدیل کرتے ہوئے وہاں مسجد تعمیر کی گئی جس کا اب مرکزی دروازہ میونسپل کمیٹی کی عمارت کے اندر جبکہ دوسرا دروازہ تالا ب کمیٹی گراؤنڈ کی طر ف کُھلتا ہے۔

0 Reviews
Blogs, Vlogs iGreen Bottom Image