جگ بیتی صحرائے تھر میں موت کے سائے

  •   0
  •   Tauseef Anwar
  •   0
  •   572
جگ بیتی صحرائے تھر میں موت کے سائے

کوئلے ، چائنا کلے، کرینٹ پتھر اور نمک کے ذخائر سے بھرپور صحرائے تھر پارکر کے باشندوں کے مسکنوں میں بھوک و افلاس نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ بوند بوند کو ترسنے کے بعد تھر کی پیاسی زمین سے پرندوں نے تو ہجرت کرلی لیکن بڑی تعداد میں مال مویشیوں کی ہلاکت کے بعد انسان بھی مرنے لگے ہیں۔ ننھے معصوم پھولوں جیسے بچے مرجھانے لگے ہیں۔ آئے روز ماؤں کی گود اجڑنے لگی ہے۔ غذائی کمی کے باعث گزشتہ چند برسوں کے دوران بہت سے نومولود بچوں کی اموات واقع ہو چکی ہیں۔

Tharparkar in Pakistan

سندھ کے محکمہ صحت کے حکام کے مطابق، صرف اکتوبر 2015ء سے جنوری 2016ء کے دوران ضلع تھرپارکر میں پانچ سال تک کی عمر کے 143 بچے کم غذاء اور دیگر وجوہات کے باعث وفات پا گئے۔ بچوں کی اموات کی ایک کلیدی وجہ ماؤں میں خوراک کی کمی بتائی گئی ہے۔ سندھ کے چوتھے بڑے شہر میرپورخاص سے چار گھنٹے کے فاصلے پر دنیا کے نویں بڑے صحرا، صحرائے تھر کی شروعات ہوتی ہے۔ اس صحرا کا ہیڈکوارٹرز مٹھی شہر ہے۔ چاروں طرف ریت کے ہیبت ناک ٹیلوں سے گھرا ہوا یہ شہر آج کل افریکہ کا بھوک اور افلاس زدہ علاقہ محسوس ہو تا ہے۔ ریت کے بڑے بڑے خوفناک ٹیلے دیکھتے ہی انسان کے جسم پر کپکپی طاری ہو جاتی ہے۔

Tharparkar Desert

دور دور انسان تو درکنار جاندار نام کی کوئی چیز بھی نظر نہیں آتی۔ کمزور دل انسان کو اگر اس صحرا کے سناٹے میں کھڑا کر دیا جائے تو تیز ہواؤں کی خوفناک آواز سے اس کا دل پھٹ جائے اور وہ ہمیشہ کے لئے ان خوفناک آوازوں سے چھٹکارہ حاصل کر لے۔ کسی مجرم کو اگر سخت اذیتناک سزا دی جائے اور اسے عبرت کا نشان بنانا مقصود ہو تو اسے تھرپارکر کی ریت پر چھوڑ دیا جائے، وہ مجرم سسک سسک کر اور ایڑیاں رگڑ رگڑ کر جان دے دے گا، لیکن اسے مدد کے لئے کوئی ذی روح نہیں ملے گا۔ اس صحرا میں زہریلے بچھو اور انتہائی خطرناک سانپ بلوں میں چھپے رہتے ہیں جو اپنے شکار کو آسانی سے نشانہ بنا کر اپنے بل میں دوبارہ سکون سے جا کر آرام کرتے ہیں۔

Desert

پاکستان تھری جی اور فور جی ٹیکنالوجی، میٹرو بس، میٹرو ٹرین کا حامل ہو چکا ہے لیکن یہاں بسنے والے لوگ آج بھی گھٹا ٹوپ اندھیرے میں روشنی کے لئے لالٹین کا سہارا لینے پر مجبور ہیں۔ اس ہیبتناک اور پراسرار صحرائے تھر میں کچھ بھوکے اور پیاسے لوگ آج بھی زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم، زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ یہاں پینے کے تازہ پانی کا واحد ذریعہ کنویں ہیں جن کا پانی صحت کے لئے مضر ہے۔ یہاں انسان اور حیوان ایک ہی جگہ سے پانی پینے پر مجبور ہیں۔ یہاں بسنے والے لوگوں کا ذریعہ معاش بارش ہے یا پھر مال مویشی ہیں۔ یہاں کے مرد سخت قحط سالی میں اپنے مویشی لے کر سرسبز وشاداب علاقوں کی طرف نکل جاتے ہیں تاکہ ان کی زندگی کا متاع بچ جائے چاہے وہ خود موت کا شکار ہی کیوں نہ ہو جائیں۔ باقی رہی عورتیں اور بچے تو وہ جانیں اور ان کا خدا جانے۔

Thar Pakistan

یہاں رہنے والوں کے لئے سب سے بڑی نعمت میٹھا پانی ہے۔ یہاں پانی میلوں سفر کرکے حاصل کیا جاتا ہے۔ میٹھے پانی کا حصول ان لوگوں کے لئے آج بھی شیر کے منہ سے نوالہ نکالنے کے مترادف ہے۔ دو سو فٹ گہرا کنواں کھود کر نکالا جانے والا پانی سمندر کے پانی سے بھی زیادہ کڑوا ہوتا ہے۔ یہاں پانی کا کنواں کھودنا آسان کام نہیں۔ ریت بہتات میں ہونے کی وجہ سے کئی لوگ کنواں کھودتے ہوئے ریت تلے دب کر پانی کی تلاش میں اپنی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ یہاں بسنے والے لوگ آج آسمان کی طرف دیکھتے ہیں اور رب کے حضور ہاتھ پھیلا کر بارش کی دعا مانگتے ہیں اور جب اللہ ربّ العزت ان پر رحم فرما کر بارش برسا دے تو یہ خواہ سندھ کے کسی بھی علاقے میں بکھرے موتیوں کی طرح ہوں، سمٹتے ہوئے اپنے دیس کی طرف چلے آتے ہیں۔

Thar Desert in Pakistan

بارشوں میں یہ لوگ باجرہ اور مکئی بوتے ہیں اور یہی فصل سال کے لئے ان کی خوراک ہوتی ہے اور اسی پر ان کی زندگی کا دارومدار ہے۔ اب آئیں اس علاقے میں ملنے والی قدرتی معدنیات کے بارے میں جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس خشک صحرا میں کیا کیا چیزیں چھپا رکھی ہیں۔ اس علاقے میں سفید چینی مٹی ملتی ہے، جس سے بنے ہوئے چینی کے برتن مہنگے ہوٹلوں اور مالدار گھرانوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ اس علاقے میں کئی کلو میٹر تک پھیلے ہوئے کوئلوں کے ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔ ننگرپارکر میں گرینائیٹ پتھر ملتا ہے، جو دنیا کا قیمتی اور مہنگا ترین پتھر ہے۔ یہاں بارش کے موسم میں قدرتی جڑی بوٹیاں کثیر تعداد میں ملتی ہیں۔ چالاک حکیم بارش کے موسم میں اس علاقے کا رخ کرکے ان بھولے بھالے لوگوں سے سستے داموں وہ جڑی بوٹیاں خرید کر دنیا کو مہنگے داموں دوائیاں بنا کر دیتے ہیں۔ اس علاقے میں ملتان کے مشہور گدی نشین اور رکن قومی اسمبلی کے مرید کثیر تعداد میں رہتے ہیں۔ اسی طرح یہاں سندھ کے ایک مشہور پیر صاحب کے بھی بہت سے مرید رہتے ہیں۔ جبکہ یہ لوگ یہاں صرف الیکشن کے دنوں میں ووٹ لینے کے لئے آتے ہیں اور اس کے بعد دیکھنے کو نہیں ملتے۔ دنیا کی کئی این جی اوز اس صحرا میں موجود ہیں۔ یہ این جی اوز فنڈ دینے والے ممالک کو ان کی غربت دکھا کر فنڈ اکٹھا کرتی ہیں اور پھر مزے لے لے کر سیون سٹار ہوٹلوں میں بیٹھ کر کھا جاتی ہیں اور اس علاقے کے لوگوں کو فنڈز کے بارے میں پتا ہی نہیں چلتا۔

Thar Desert Pakistan

آج کل یہ علاقہ بچوں کے لئے موت کا سبب بنا ہوا ہے۔ مائیں بچے جننے سے نہیں ڈرتیں بلکہ بچہ جننے کے بعد اس کی موت سے ڈرتی ہیں۔ مائیں نو ماہ بچے کو پیٹ میں اٹھا کر تکلیف تو برداشت کر رہی ہوتی ہیں لیکن بچے کا جنازہ اٹھتا دیکھ کر دھاڑیں مار مار کر روتی ہیں۔ انکی چیخیں ریت کے پہاڑوں میں گم ہو جاتی ہیں اور ایوان بالا تک پہنچنے سے پہلے ختم ہو جاتی ہیں۔ میڈیا میں بچوں کی اموات کی خبریں منظر عام پر آنے کے بعد حکومتی مشینری اس علاقے کا رخ تو کرتی ہے مگر مسائل کے مکمل حل سے چشم پوشی اختیار کی جاتی رہی ہے۔ تھرپارکر کے دیہات میں ہزاروں حاملہ خواتین غذائی کمی کا شکار ہیں جو آنے والے دنوں میں بچوں کی اموات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہیں۔

Thirteen Reasons a Trip to Thar

ضلعی ہیڈکوارٹرز ہسپتال مٹھی میں بچوں کے وارڈ میں آج بھی تکنیکی عملے اور فی میل نرسوں کی کمی ہے جس کے باعث انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں داخل ہونے والے کم وزن بچوں کی دیکھ بھال سمیت علاج معالجے کا فقدان ہے۔ حکومت سندھ کی جانب سے اس مفلوک الحال علاقے کے باشندوں کے لئے فنڈز اور میٹھے پانی کی فراہمی اور غذائی قلت کے خاتمے کا اعلان بھی کیا جاتا رہا ہے لیکن ان اعلانات اور دعوؤں سے اب تک کوئی واضح فرق نہیں پڑا اور صحرائے تھر میں آج بھی موت کے سائے منڈلا رہے ہیں۔ یہ صدائے وقت ہے کہ سندھ اور وفاقی حکومت دعوؤں سے بڑھ کر اس علاقے میں پینے کے تازہ پانی کی فراہمی اور بنیادی مراکز صحت میں علاج معالجہ کی جملہ سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور زچہ و بچہ کی صحت کے حوالے سے ضروری انتظامات کرے تاکہ صحرائے تھر سے مستقل طور پر قحط سالی اور خوراک کی قلت کا خاتمہ ممکن ہو اور اس علاقے کے لوگوں کے حالات زندگی بہتر ہو سکیں۔

0 Reviews
Blogs, Vlogs iGreen Bottom Image