'' تیوہار''

  •   0
  •   Naveed Khan
  •   0
  •   468
اللہ تعالی ہمیں اسلام کو سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا کریں ۔ آمین

تہوار سنسکرت زبان کے لفظ '' تیوہار'' سے نکلا ہے جس کے معنی ایسی تقریب کے ہیں جو اجتماعی طور پر مقررہ تاریخ میں غم یا خوشی کے طور پر منائی جائے۔
بنیادی طور پر تہوار کسی بھی ملک و قوم کی ثقافتی و مذہبی وحدت اور قومی تشخص کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ زندہ قومیں اپنے تہوار جوش و خروش سے مناتی ہیں کیوں یہ تہوار انہیں دوسروں قوموں سے منفرد اور جداگانہ حثیت عطا کرتے ہیں۔
اسلام کی نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے تو اسلام ایسے تمام تہواروں کو منانے سے منع کرتا ہے جو اسلامی مزاج سے ہم آہنگی نہیں رکھتے اور انسانی معاشرے کے لیے نقصان دہ ہیں ۔ مذہبی تہوار مسلمانوں کے لیے صرف سیر و تفریح اور لہو و لعب کا ذریعہ نہیں ہیں بلکہ تکمیل شریعت کا ایک ذریعہ ہیں۔
آج سائنس و ٹیکنالوجی اور گلوبلائزیشن کی بدولت دنیا دن بدن سکڑتی چلی جا رہی ہے ایسے میں غیر ملکی تہذیب و ثقافت کا ہمارے معاشرے میں در آنا بہت حیرانگی کی بات نہیں ہے۔
اصل مسئلہ ہے اپنی تہذیب و ثقافت اور مذہبی اقدار کی حفاظت کرنا ۔
شاید یہ ہمارا مغربی ممالک کی چندھیا دینے والی ترقی سے مرعوبیت کا شاخسانہ ہے یا ہم احساس کمتری کا شکار ہیں کہ ہر وہ بات ، تہوار ، حوالہ یا اصطلاح جو اہلِ مغرب کے ہاں سے ہمارے پاس پہنچتی ہے ہم اسے فوراََ '' فرض'' کی طرح دل و جاں سے قبول کرکے اپنے سینے سے لگا لیتے ہیں۔
ہمارے اس رویہ کے ذمہ دار بجا طور پر ہماری ایلیٹ کلاس، حکمران طبقہ اور نام نہاد روشن خیال دانشور کی '' ذہنی مرعوبیت اور نقالی '' ہے کہ اپنے آپ کو تعلیم یافتہ ، باشعور، روشن خیالی کے چپمئین کہلواتے ہوئے اپنے معاشرے میں رائج تمام معاشرتی اور دینی تہواروں، تاریخی اثاثوں اور رواجوں کو دقیانوسی گردانتے ہیں اور ان کی تقلید کرتے ہوئے باقی معاشرے اس پر عمل پیرا ہوتا ہے۔
آج ہمارے معاشرے میں فادرز ڈے ، مدر ڈے، فرینڈ شپ ڈے، ہالوین ڈے، کرسمس ڈے، ویمن ڈے ، ویلٹائن ڈے وغیرہ منانے کا رواج زور پکڑ گیا ہے۔ ہم سوچنے کی زخمت ہی نہیں کرتے کہ کیا یہ تہوار و رسوم ہماری مذہبی و معاشرتی اقدار و اخلاقیات پر پورا اترتے ہیں؟
والدین کے ساتھ رہتے ہوئے ہم ان سے ہر روز اپنے پیار و احترام کا اظہار کر سکتے ہیں اس کے لیے ایک مخصوص دن کا انتظار کرنا کیوں ضروری ہے؟ کیا اپنی دوستی کا اظہار سال کے ایک مخصوص دن ہی کرنا چاہیے؟ اسطرح محبت کا اظہار بھی ایک مخصوص دن کرنا کیوں ضروری ٹھہرا ہے؟؟
آج مغربی معاشرے کی حالت کا جائیزہ لیں تو ہمیں با آسانی علم ہو جاتا ہے کہ وہاں ہفتے کے پانچ دن سولہ سے بیس گھنٹے کام کیا جاتا ہے۔ ایسی مصروف زندگی میں ان کے پاس تو اپنی ذات کے لیے وقت نہیں ہوتا کجا کہ وہ اپنے والدین، بیوی بچوں ، دوستوں کے لیے وقت نکالیں۔ ان سے بات چیت کریں ، ان سے اپنے جذبات کا اظہار کریں ۔
اس لیے انہوں نے سال میں ایک دن اپنے جذبات کے اظہار کے لیے مخصوص کرلیا ہے۔ یہ دن ان کے لیے مخص ایک '' یاد دہانی '' یا '' ریمائنڈر '' ہے ۔ بالکل ایک مشین کی طرح جس میں فیڈ ہوتا ہے کہ اسے کس لمحے کیا کام کرنا ہے۔ کیا یہ مشینی اندازِ فکر ہم بھی اپنانا چاہتے ہیں؟؟؟
کیا انسانی جذبات، محسوسات اور احساسات کا اظہار ایک مخصوص دن کا محتاج ہے؟کیا یہ ایک مشینی انداز نہیں ہے؟؟
آج انسان نے سائنس و ٹیکنالوجی میں جتنی بھی ترقی کر لی ہوں لیکن ترقی کی دوڑ میں اول آتے آتے اس کی اخلاقی، معاشرتی اقدار و اخلاقیات تیزی سے تنزلی کا سفر طے کر رہی ہیں۔
معاشرے کا نوجوان طبقہ کسی بھی معاشرے کے لیے روشن مستقبل کی علامت ہے، اور اگر یہی طبقہ غیر ملکی تہذیب و تمدن سے مرعوب ہوکر اسے اپنا لیں تو اس معاشرے کے تاریک مستقبل کے بارے میں دو رائے قائم نہیں کی جاسکتیں۔
جو معاشرے باشعور اور تعلیم یافتہ ہوتے ہیں وہاں ایسے تمام تہوار فروغ نہیں پاتے جو ان کی مذہبی و قومی ثقافت پر اثرانداز ہوں کہ دوسروں سے منفرد اور الگ نظر آنا انسان کی سرشت میں شامل ہے اور اسی طرح ممالک اور قوموں کے ہجوم میں اپنی انفرادی پہچان کو برقرار رکھنے کے لیے اپنے تہذیب و تمدن اور اقدار کو اپنانا ضروری ہے۔
ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جدت پسندی ، روشن خیالی، باشعور اور تعلیم یافتہ ہونے کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ ہم اپنی تہذیب و اقدار کو پسِ پشت ڈال کر ''نقالی '' کریں۔
با حثیت مسلمان غیر ملکی تہذیب و تمدن اپنانے سے باز رہنے کے لیے ہمارے لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمان ہی کافی ہونا چاہیے :
جو بھی کسی قوم سے مشابہت اختیار کرتاہے وہ انہی میں سے ہے۔
سنن ابو داود
کیونکہ اس کے بعد کسی قسم کی تاویلات کی گنجائش نہیں رہ جاتی ۔
اللہ تعالی ہمیں اسلام کو سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا کریں ۔ آمین ⁠⁠

0 Reviews
Blogs, Vlogs iGreen Bottom Image