بھیڑئے

زرا غور کریں کہیں آپ کا دیا ٹیکس آخرت میں پکڑ کا سبب تو نہیں بن رہا ؟ ؟؟

مارچ 2015 کراچی کی سولہ سالہ حافظ قرآن اور نویں جماعت کی طالبہ سمیرا سعید آباد کراچی سے لاپتہ ہوجاتی ہے۔ اس کی ماں رپورٹ لکھوانے سعید آباد مدینہ کالونی پولیس اسٹیشن جاتی ہے۔ دس دن تک اس کی ایف آئی آر نہیں لکھی جاتی۔ دس دن بعد ایف آئی درج تو درج کرلی گئی مگر تفتیش کیلئے کون جائے۔ ماں کو سمیرا کا فون آجاتا ہے کہ ماں مجھے بچالو، فون بند ہوجاتا ہے۔ ماں پولیس کے پاس بھاگی بھاگی چلی جاتی ہے کہ اس فون کو ٹریس کروادیں میری سمیرا ان کے پاس ہے۔ اگلے دن پولیس والے کہہ دیتے ہیں کہ باجی تین لاکھ کیش اور جہاز کے ریٹرن ٹکٹ دلا دو ہم پارٹی بھیج دیتے ہیں کیونکہ منڈی بہاؤالدین یہاں سے بہت دور ہیں۔
Sumaira Saeed
ماں اکیلی منڈی بہاؤالدین پہنچ جاتی ہے اور مقامی پولیس کا رویہ سعید آباد کراچی والوں سے زیادہ خراب تھا۔ بالآخر خود منڈی بہاؤالدین کے چک مانو پہنچ کر اس حویلی کا دروازہ کھٹکھٹا دیتی ہے۔ مگر بیٹی کی ایک جھلک دیکھاکر اسے دھمکیاں دے کر واپس بھیج دیا جاتا ہے۔ کہ دوسرے بچوں کی اگر زندگی چاہتی ہو تو دفع ہوجاؤ۔

ماں دفع ہوجاتی ہے مگر تین ماہ بعد اسے پھر فون کیا جاتا ہے کہ آپ کی بیٹی مرگئی ہے۔ ماں اکیلی پنجاب بھاگ جاتی ہے۔ مگر بیٹی کا جسم جگہ جگہ سے نوچا گیا اور ریپ کے وہ نشانات کہ ماں کی چیخیں عرش کو ہلا دیتی ہیں۔
دو سال کے بعد دو ہزار سترہ میں کسی پولیس والے کو رحم آجاتا ہے اور اس کی قبر کشائی کردیتا ہے مگر کیس بند کردیا جاتا ہے۔

Rap Cases in Pakistan


نقیب اللہ محسود کو جب ماورائے عدالت قتل کرکے سول سوسائٹی کے احتجاج نے فرعون وقت راؤ انوار کو بھاگنے پر مجبور کیا تو ماں کو بھی معلوم ہوا کہ اس کے سمیرا کے قاتل ابھی زندہ ہے وہ بھی پریس کلب پہنچ گئی۔ احسان اللہ کوہاٹی جیسا منجھا ہوا صحافی بھی روپڑا۔ اور چیخ پڑا۔ سنا ہے آنجناب وزیرداخلہ سہیل انور سیال نےکل سمیرا کیس پر ایکشن لیا ہے۔

سمیرا کی ماں سے بات ہوئی تو کہنے لگی مجھے کسی کا دلاسہ نہیں چاہیئے مجھے بس سپریم کورٹ تک پہنچادیں۔مجھے چیف جسٹس سے بات کرنی ہے۔ مجھے اس سے فقط یہ پوچھنا ہے کہ میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟منظم اغواکاروں نے میری بیٹی کیساتھ جو کچھ کیا اس کا موقع بھی تو سعید آباد مدینہ کالونی تھانے کے اہلکاروں نے دیا تھا۔اگر وہ بروقت کاروائی کرتے تو میری بیٹی کم از کم میرے پاس تو ہوتی۔

ظلم کی انتہاء تو دیکھیں کہ چک مانو کا مجرم ابھی بھی اپنی مونچھوں کو تاؤ دیتی ہوئی تصاویر سمیرا کی ماں کو وٹس ایپ کرکے یہ بتانے کی کوشش کررہا ہے کہ یہ تو ایک بیٹی تھی اب دوسرے بچوں کا تماشہ دیکھ لینا۔

Justice Decision Delayed


مجھے وزیرداخلہ سندھ کے نوٹس لینے پر اس لئے حیرت نہیں ہوئی کہ جو راؤ انوار جیسے بھیڑئے کو فرض شناس ہیرو کہتا ہے۔ چیف جسٹس پاکستان سے کیا امید لگاؤں جو راؤ انوار کے فقط ایک خط پر اسے ضمانت دیکر اسے عدالت کے روبرو حاضر ہونے کی درخواست کررہا ہے۔۔۔۔۔۔ مگر یہ باتیں میں سمیرا کی ماں سے کہہ کر اس کی مامتا کا مان نہیں توڑنا چاہ رہا۔ میں نہیں چاہتا کہ ریاست پر سے اس کا ایمان اٹھ جائے ۔

میں اسے کیسے بتاؤں کہ راؤ انوار سے لیکر قصور اور منڈی بہاؤالدین کے یہ بھیڑئے اندر سے ایک ہیں۔ کیا مدینہ کالونی کا تھانیدار، کیا چیف جسٹس اور کیا اپ کا وزیرداخلہ سندھ! مگر ڈرتا ہوں کہ کہیں توہین عدالت کا مرتکب نہ ٹھہرایا جاؤں کیونکہ میری بیوی بچوں کو شاید کوئی عارف خٹک یا سیلانی ملیں جو انھیں اپنے شوہر اور باپ سے ملانے کی آواز اٹھاسکیں۔

یہ تحریر راؤ دانش کا تحریر سے ہے-

1 Reviews
  • User Image
    Ayesha Ali
  • ایک سال پہلے
  • اچھی کوشش ہے لیکن ایسے حادثے معمول بن چکے ہیں. ..

    • User Image
      Ayesha Ali
      ایک سال پہلے
    • بہت افسوس ہوتا ہے جب ایسے واقعات ہوتے ہیں. ...

Blogs, Vlogs iGreen Bottom Image