بسنت کا تہوار

  •   4
  •   Afi Sindhu
  •   1
  •   393
150 سال سے بتنگ بازی ہو رہی ہے. اور یہ لاہور سے شروع ہوئی. یہ پنجابی تہوار ہے.

پتنگ بازی کا تہوار:

پتنگ بازی پنجابی تہوار ہے اور یہ پاکستان اور انڈیا میں منایا جاتا ہے۔ لاہور اور قصور روایتی علاقے ہیں. جہاں پتنگ بازی کا تہوار بہت جوش وخروش سے منایا جاتا ہے۔ تاہم یہ تہوار سیالکوٹ، گوجرانوالہ، فیصل آباد اور دوسرے علاقوں میں بھی منایا جاتا ہے۔

tehwar

موسم:

یہ موسم بہار میں منائی جاتی ہے۔ پنجابی کیلنڈر کے مطابق یہ مگ کے مہینے چاند کے پانچویں دن (جنوری یا فروری کے آخر میں) موسم بہار کے آغاز میں منائی جاتی ہے۔ روشن سورج اور ٹھنڈی ہوا میں اس تہوار کو اپنے دوستوں اور فیملی کے ساتھ منانے کا الگ ہی ایک مزہ ہے۔

mosam

تاریخی تہوار:

تاریخی طور پر مہاراجہ رنجت سنگھ نے سالانہ بیسن کے موقعے پر 19 ویں صدی میں پتنگ بازی کا آغاز کیا۔ مہاراجہ رنجت سنگھ اور ان کی رانی موران بسنت پر پتنگ بازی کرتے تھے۔ بیسن کے ساتھ پرواز کرنے والی پتنگوں نے جلد ہی لاہور میں پنجابی راویت بنا لی۔ مہاراجہ رنجت سنگھ نے لاہور میں بسنت پر 10 دن کی ایک تقریب منقد کی جس میں فوجیوں نے پیلے رنگ کے کپڑے پہنے تھے اور فوجی فن کا مظاہرہ کرتے تھے.

tarkhy tehwar

پتنگ بازی کے دھاگے:

150 سال سے پتنگ بازی ہو رہی ہے اور پاکستان کو بنے ہوئے 60 سال ہوئے ہیں اور جتنا بھی دھاگہ پہلے اُڑتا رہا ہے وہ انگلینڈ سے آتا رہا ہے اور جب پاکستان بنا تب بھی دھاگہ انگلینڈ سے ہی آتا تھا تقریباً آج سے کوئی 30 سال پہلے انڈیا نے دھاگے بننا شروع کیا اور پاکستان کے ساتھ تجارت شروع کر دی پاکستان میں مال منڈی اور ریلوے سٹیشن میں انڈین دھاگہ بکتا تھا۔ اور تقریباً 20 سال پہلے پاکستان میں دھگے کی انڈسٹری لگی اور اب پتنگ بازی کے لیے سب سے بہترین دھاگہ پاکستان میں بنتا ہے انگلینڈ سے مشہور دھاگے 50 گھوڑا،oxray دھاگے ، لنگر دھاگہ، 50 snake جو پاکستان آیا کرتے تھے یہ اس زمانے کے مشہور دھاگے تھے اور انڈیا سے پانڈا، رچ، ڈیپو، جمبوں دھاگے منگوئے جاتے تھے پھر پاکستان میں بھی دھاگہ بننا شروع ہو گیا سب سے پہلا دھاگہ GNP course نے اور اس کے بعد دوسرا دھاگہ KB Stair نےبنایا اس کے بعد بہت سے دھاگے آئے جو بہت اچھی قسم کے دھاگے بنے۔

dhagy

تہوار کی رنگینیاں:

پتنگ بازی کے شوقین دن اور رات میں پتنگے اُڑتے ہیں۔ آسمان مختلف قسم کے سائز اور ڈیزائن کی رنگین پتنگوں سے بھرا ہوتا ہے بہت سے لوگوں نے لاہور میں خاص طور پر اندرون لاہور میں مختلف مقابلوں کا اہتمام کیا ہوتا ہے۔ بہت سے لوگ اس تہوار کو منانے کے لیے لاہور جاتے ہیں اس تہوار کو دکھانے کے لیے دوسرے ممالک سے بھی لوگ آتے تھے۔ جس کی وجہ سے ہمارے ملک کی کاروباری شرح بڑتی تھی۔ یہ سب سے آسان طریقہ ہے وقت گزارنے کا آپ کسی سمندر کے کنارے جاؤ یا کسی پارک میں پتنگ بازی سب سے اچھا طریقہ ہے وقت گزارنے کا آپ اپنے کسی دوست یا فیملی کے ساتھ پتنگ بازی کر کے انجوئے کر سکتے ہیں.

tehwar

تہوار کے منفی اثرات:

اس خوبصورت تہوار پر 2007 سے پابندی عائد کی گئی ہے کیوں کے انسانوں کے لئے نقصان دہ تھا. پتنگ بازی کے لیے جو دھاگے استمال ہوتے ہیں وہ بہت خطرناک ہے یہ ایک خوبصورت تہوار ضرور ہے پر لوگوں نے ایسے کیمیکل استمال کر کے دھاگے بنانے شروع کر دیئے جو انسانی جانوں کے لیے خطرناک ہے اس لیے حکومت نے اس پے پابندی عائد کر دی ہے۔ اس کی وجہ سے بہت سے لوگوں کا روزگار ختم ہو گیا ہے افسوس یہ تہوار جو دور دور سے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا تھا وو اب ماضی کی یاد بن کے رہ گیا ہے کیوں کے اس کی وجہ سے بہت سے لوگوں کی جانیں چلی گئ دھاگے کو گلاس کے ایک ایسے کیمکیل سے گزار کے اتنا خطرناک بنایا جاتا ہے جس کی وجہ سے ہر سال بہت سے لوگوں کی جانیں چلی جاتی ہیں اور صرف یہی وجہ نہیں ہے بہت سے بچے پتنگ بازی کرتے ہوئے گھروں کی چھتوں سے نیچے گر کے مر جاتے ہیں اور کچھ پتنگے لوٹتے ہوئے روڈ کے حادثوں سے یا بجلی کی تاروں سے ٹکرا کر مر جاتے ہیں بسنت پے لوگوں کو بائیک اور سائیکل چلنے کی اجازت نہیں ہوتی اور یہ قانون صرف مڈل کلاس لوگوں کے لیے ہی ہوتا ہے اور لوگ بسنت پے آسمان میں فائرنگ کرتے ہیں جس کے شیل نیچے آکر لوگوں کے سروں پر لگتے ہیں اور جس کی وجہ سے بہت سے لوگوں کی جانیں چلی جاتی ہیں اس لیے پنجاب حکومت نے اس پے پابندی لگا دی ہے.

basint

اس تہوار کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کمینٹ میں ضرور بتائیے گا.

1 Reviews
  • User Image
    Hamza
  • ایک سال پہلے
  • Basant allow karni chahye Jaldi

Blogs, Vlogs iGreen Bottom Image