اوشو تھانگ ہوٹل

  •   0
  •   Muhammad Abduhu
  •   0
  •   455
راکاپوشی جنت ہے اور اوشو تھانگ ہوٹل اسکا دروازہ ہے۔

راکاپوشی جنت ہے اور اوشو تھانگ ہوٹل اسکا دروازہ ہے۔ اوشو تھانگ ہوٹل مناپن 03469560283
گلگت ہنزہ سوست جانا اور مناپن گاؤں نا جانا بہت بڑی بدزوقی ہے۔ مناپن دنیا بھر میں دو وجہ سے مشہور ہے ایک راکاپوشی اور دیران پہاڑ مناپن میں واقع ہیں۔ اور دونوں پہاڑوں کے بیس کیمپ کا راستہ مناپن سے ہی جاتا ہے۔ دوسری وجہ مناپن گاؤں میں اوشوتھانگ ہوٹل اور اسکا مالک اسرار ہے۔
اوشوتھانگ ہوٹل کا راستہ راکاپوشی ویو پوائنٹ سے تھوڑا آگے قراقرم ہائی وے کو چھوڑ کر دائیں طرف زیلی سڑک پر مڑجاتے ہیں۔ پہلا گاؤں پسن ہے۔ جہاں پسن گاؤں ختم ہوتا ہے وہاں دائیں جانب راکاپوشی کی برفوں سے بنا ایک بڑا نالہ ہے۔ نالے کا پل کراس کرتے ہی موڑ کے ساتھ بائیں ہاتھ اوشوتھانگ ہوٹل ہے۔ اندر داخل ہوتے ہی وسیع وعریض باغ استقبال کرتا ہے۔ جس میں چیری خوبانی ناشپاتی سیب اور اخروٹ کے درخت ہیں جن کی ٹہنیاں پھلوں کے وزن سے جھکی ہوتی ہیں۔ اوشوتھانگ میں سیاحوں کیلے دس آرام دہ آراستہ کمرے اور بڑا ڈائننگ ہال تیار ہے۔ جبکہ دس مزید کمرے ایک پتھروں سے بنا کنگ کمرہ اور سوئمنگ پول بن رہا ہے۔
اوشوتھانگ میں نگر و ہنزہ کے روایتی کھانوں کا اپنا مزہ ہے۔ بیف چھپ شورو ہو یا پرانے زمانے کے پتھروں سے بنی ہانڈی میں مٹن قورمہ۔ دونوں کھانے کہیں اور ملتے نہیں ہیں اور پہلے کبھی کھایا نا ہوگا۔ اسرار جو راجہ خاندان کا چشم و چراغ ہے۔ اور اپنے آباواجداد کی تاریخ کا امین بھی۔ لہجے میں اتنی مٹھاس کہ دل چاہتا ہے سنتے جائیں اور اسرار کی باتیں کبھی ختم نا ہوں۔ اسی لئے تو مستنصر حسین تارڑ نے کہا تھا مناپن ایک جنت ہے اور اسرار اسکا دروازہ ہے۔

مناپن گاؤں سے گزر کر راکاپوشی بیس کیمپ کا راستہ جاتا ہے۔ زیادہ تر سیاح ٹریکنگ کا سارا سامان لیکر آتے ہیں لیکن اگر آپ خالی ہاتھ بھی آجائیں تو اوشو تھانگ میں اسرار کے پاس کھانے کا تمام سامان سونے کے سلیپنگ بیگ ٹینٹ سامان اٹھانے والے بندے اور گائیڈ سب کچھ نہایت مناسب قیمت پر دستیاب ہے۔ مناپن سے تغافری تک دو پڑاؤ ہیں۔ ایک ہپاکُن اور دوسرا تغافری۔ جسے عرف عام میں بیس کیمپ کہا جاتا ہے۔ مناپن سے ہپاکن تک تقریباً 6 کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ اور تقریباً 650 میٹر کی بلندی چڑھتے ہیں۔ جیسے ہی گاؤں ختم ہوتا ہے ایک پل کراس کرکے سامنے بڑا پاور ہاؤس آتا ہے جو راکاپوشی سے آنے والے نالے پر بنا ہے جس کی بجلی قریب و جوار کے تمام دیہاتوں کی ضرورت پوری کرتا ہے۔ یہاں سے چڑھائی شروع ہوجاتی ہے۔ اور زگ زیگ بنے چوڑے راستے پر عمودی چڑھائی ہے۔ آگے ایک جنگل آتا ہے جس میں تازہ پانی کے چشمے اور ندیاں ہیں۔ جنگل کے آخر میں پھر چڑھائی ہے مگر یہ اتنی سیدھی نہیں ہے۔ یہاں ہپاکن ہے۔ گھاس کے بڑے میدان میں ہٹ بنے ہوئے ہیں جوکہ ہوٹل ہے اور سیاحوں کیلے کیمپ لگے ہوئے ہیں۔ مناپن سے ہپاکن تک تیز چلنے والوں کو دو گھنٹے اور مناسب چلنے والوں کو چار گھنٹے لگتے ہیں۔


ہپاکن سے اگلا پڑاؤ تغافری ہے۔ جو تقریباً 3 کلومیٹر کے فاصلے پر اور ہپاکن سے تقریباً 400 میٹر کی چڑھائی ہے۔ جوکہ شدید اور مسلسل عمودی چڑھائی ہے۔ جہاں چڑھائی ختم ہوتی ہے اسے ٹاپ اور ویو پوائنٹ بھی کہتے ہیں۔ یہاں سے مکمل راکاپوشی دیران پیک اور دیران گلیشیئر کا بہترین نظارہ ملتا ہے۔ ہپاکن سے یہاں تک تقریباً 2 گھنٹے لگتے ہیں۔ بہت سارے ٹریکر مناپن سے علی الصبح چل کر اس ویو پوائںت سے واپس مناپن بھی پہنچ جاتے ہیں۔ ویوپوائنٹ سے آگے انتہای بلندی پر تنگ سا راستہ ہے۔ جس کے بعد اترائی آتی ہے۔ اور وسیع چراگاہ ہے جو تغافری ہے۔ یہاں بھی عارضی ہوٹل اور کیمپ کی سہولیات دستیاب ہیں۔ تغافری سے اگر دیران گلیشئیر اور بیس کیمپ تک جانا ہو مکمل تیاری کرکے جانا چاہیے کیونکہ گلیشیئر کے اندر تیز پانیوں کے نالے ہیں جن کے کنارے پھسلن والے ہوتے ہیں۔ برف کی گہری کھائیاں اور اندھے کنویں ہیں جنہیں کریوس کہتے ہیں۔ گلیشئیر پر راستے کی سمجھ نہیں آتی۔ اکیلے جانے کی بجائے مقامی گائیڈ ساتھ ضرور لیں جو آپ کو راستہ بتا سکے۔ کسی مشکل ایمرجنسی میں مدد کرسکے

0 Reviews
Blogs, Vlogs iGreen Bottom Image